بھارتی ریاست مہاراشٹرا کی ممبئی ہائیکورٹ نے 2006 میں ہونے والے ممبئی ٹرین بم دھماکوں کے کیس کا بڑا فیصلہ سناتے ہوئے 12 ملزمان کو باعزت بری کر دیا۔
عدالت نے قرار دیا کہ شواہد کی کمی اور تفتیش میں سنگین خامیوں کی وجہ سے استغاثہ ملزمان کے خلاف الزامات کو ثابت کرنے میں ناکام رہا۔
عدالت کا فیصلہ:
عدالت نے اپنے تفصیلی فیصلے میں کہا کہ:تفتیشی ایجنسیوں کی جانب سے پیش کردہ شواہد میں باہمی تضادات تھے۔اعترافی بیانات اور عینی شاہدین کے بیانات ناقابل اعتبار قرار پائے۔
استغاثہ شک کا فائدہ ختم کرنے میں ناکام رہا، جس کا فائدہ ملزمان کو دیا گیا۔
قید میں گزارے گئے 18 برس:
بری کیے گئے تمام افراد گزشتہ 18 سالوں سے جیل میں قید تھے۔عدالت نے 11 ملزمان کی فوری رہائی کا حکم دے دیا، جبکہ بارہویں ملزم کی رہائی عدالتی کارروائی مکمل ہونے کے بعد متوقع ہے۔
2006 کا سانحہ:
یاد رہے کہ 11 جولائی 2006 کو ممبئی کی لوکل ٹرینوں میں 7 بم دھماکے ہوئے تھے، جن میں:
189 افراد جاں بحق
800 سے زائد زخمی ہوئے تھے
یہ دھماکے شام 6:00 سے 6:30 بجے کے درمیان چند منٹوں کے وقفے سے ہوئے، جنہوں نے پورے بھارت کو لرزا دیا تھا۔
ملزمان پر الزامات:
ان 12 افراد پر درج ذیل سنگین الزامات عائد کیے گئے تھے:
دہشت گردی
قتل
ملک دشمن سازش
ردِعمل:
عدالتی فیصلے کے بعد:
انسانی حقوق کے کارکنان اور ملزمان کے اہلِ خانہ نے فیصلے کا خیر مقدم کیا اور اسے "انصاف کی فتح" قرار دیا۔جبکہ بعض متاثرہ خاندانوں اور حکومتی حلقوں نے فیصلے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اعلیٰ سطحی اپیل کا عندیہ دیا ہے۔
قانونی و انسانی پہلو:
ماہرین قانون کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ بھارت میں تحقیقات کے معیار اور انصاف کے نظام پر سوالیہ نشان ہے، جہاں غیر تسلی بخش شواہد کی بنیاد پر لوگوں کی زندگیاں دہائیوں تک متاثر ہوتی ہیں۔