قومی اسمبلی نے حالیہ اجلاس میں الیکشن ایکٹ ترمیمی بل منظور کر لیا، جس پر پی ٹی آئی کے چئیرمین بیرسٹر گوہر نے سخت اعتراض کیا اور مخالفت کا اظہار کیا۔
بل پیش کرنے والے رکن اسمبلی اعظم نذیر تارڑ نے بتایا کہ اس بل کے تحت چیئرمین سینیٹ اور اسپیکر کو اختیار دیا گیا ہے کہ اگر کوئی رکن اپنے گوشوارے شائع نہ کروانا چاہے تو وہ شائع نہ ہوں۔ بل کے مطابق، رکن کے گوشوارے الیکشن کمیشن میں جمع ہوں گے لیکن عوامی طور پر شائع نہیں کیے جائیں گے۔پی ٹی آئی کے چئیرمین بیرسٹر گوہر نے کہا کہ اس بل کے ذریعے الیکشن قوانین کے معاملات سپریم کورٹ کی بجائے آئینی کورٹ میں منتقل کیے جا رہے ہیں، جسے وہ آئینی طور پر قابل اعتراض سمجھتے ہیں۔
اجلاس میں خواتین کی مخصوص نشستوں سے متعلق بل کو قائمہ کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا تاکہ اس پر مزید غور کیا جا سکے۔پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے سوال اٹھایا کہ وہ پہلے ملٹری کورٹ سے متعلق اپیل کے حق کے بل پیش کر چکے تھے، جو کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا تھا لیکن اس پر کوئی پیشرفت نہیں ہوئی۔یہ ترمیمی بل رکن اسمبلی کے گوشواروں کی شفافیت اور عوامی معلومات تک رسائی پر اثر انداز ہو سکتا ہے اور اس لیے سیاسی حلقوں میں اس پر تنقید جاری ہے۔