سندھ اسمبلی نے یونیورسٹیز ترمیمی بل منظور کیا، اپوزیشن کا ہنگامہ

سندھ اسمبلی نے یونیورسٹیز ترمیمی بل منظور کیا، اپوزیشن کا ہنگامہ

سندھ اسمبلی نے یونیورسٹیز ترمیمی بل 2025 کی منظوری دے دی، جس پر اپوزیشن کی جانب سے شدید احتجاج کیا گیا۔

یہ بل گورنر سندھ کامران ٹیسوری کے اعتراضات کے بعد دوبارہ اسمبلی میں پیش کیا گیا۔ ایم کیو ایم کے ارکان نے بل کی مخالفت کرتے ہوئے ایوان میں شدید شور شرابہ کیا اور "نامنظور" کے نعرے لگائے۔وزیر پارلیمانی امور ضیا لنجار کی جانب سے بل پیش کیے جانے پر اپوزیشن نے احتجاج کیا، جس کے بعد ایوان نے بل کی منظوری دے دی۔ اس دوران اپوزیشن ارکان اسپیکر ڈائس کے پاس پہنچ کر نعرے بازی کرنے لگے۔ اپوزیشن کے احتجاج کے باوجود سندھ اسمبلی نے یونیورسٹیز ترمیمی بل 2025 کی منظوری دے دی۔اس کے بعد وزیر قانون سندھ نے سول کورٹس ترمیمی بل (نظرثانی) بھی ایوان میں پیش کیا۔ یہ دونوں بل گزشتہ اجلاس میں منظور کیے گئے تھے، تاہم گورنر سندھ نے اعتراضات لگا کر انہیں واپس کر دیا تھا۔

اپوزیشن ارکان نے احتجاج کے بعد ایوان سے واک آؤٹ کیا۔ پوائنٹ آف آرڈر پر بات کرتے ہوئے وزیر شرجیل انعام میمن نے اپوزیشن کے رویے کو قابل مذمت قرار دیا اور کہا کہ ایم کیو ایم اور پی ٹی آئی کا اتحاد اب واضح ہو چکا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ احتجاج کرنے والے ارکان میں سے کسی نے بھی بل کو نہیں پڑھا تھا اور ہر قابل شخص وائس چانسلر بننے کا حق رکھتا ہے، اس لیے اس پر ہنگامہ کرنا بچکانہ حرکت تھی۔اس کے بعد سندھ اسمبلی کا اجلاس غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دیا گیا۔