ایلون مسک کا "نازی سیلوٹ" جیسا اشارہ، تنازعہ کھڑا کر دیا

ایلون مسک کا

ایلون مسک نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حلف برداری کی تقریب میں ایک ایسا اشارہ کیا جو نازی سیلوٹ سے ملتا جلتا تھا، جس نے سوشل میڈیا پر تنازعہ پیدا کر دیا ہے۔

 مسک، جو اسپیس ایکس اور ٹیسلا کے سربراہ ہیں، واشنگٹن کے کیپٹل ون ایرینا میں ٹرمپ کے حامیوں کے ایک اجتماع میں موجود تھے۔ اس موقع پر، مسک نے اپنے دائیں ہاتھ سے سینے کے بائیں حصے کو تھپتھپا اور پھر اپنی ہتھیلی کھول کر بازو کو بڑھایا، جو ایک نوعیت کا اشارہ تھا جو نازی سیلوٹ کے مشابہ تھا۔نازی سیلوٹ ایک مخصوص قسم کا اشارہ تھا جو نازی جرمنی میں ایڈولف ہٹلر کی وفاداری کی علامت کے طور پر استعمال ہوتا تھا۔ یہ اشارہ 1926 میں نازی پارٹی نے باضابطہ طور پر اپنایا تھا، اور جدید جرمنی، آسٹریا اور سلوواکیا میں یہ غیر قانونی سمجھا جاتا ہے۔ مغربی دنیا کے بیشتر ممالک میں اس اشارے کو یہود مخالف اور نازی ازم کے ساتھ منسلک سمجھا جاتا ہے۔

اس حرکت پر سوشل میڈیا پر ملے جلے ردعمل آئے۔ کچھ افراد نے اس پر تنقید کی اور مسک کی اس حرکت کو نازی ازم کی علامت سے جوڑ دیا، جبکہ کچھ لوگوں نے اسے محض ایک معمولی حرکت قرار دیا۔ مسک کا یہ اقدام اس بات کا غماز ہے کہ جب کوئی معروف شخصیت عوامی منظر پر آتی ہے، تو اس کے ایک چھوٹے سے عمل کو بھی عوامی اور عالمی سطح پر بڑی اہمیت دی جاتی ہے۔اس تنازعہ نے ایلون مسک کو ایک نیا موضوع فراہم کیا ہے اور اس کا اثر سوشل میڈیا پر بھی کافی محسوس ہو رہا ہے، جہاں مختلف افراد اس اشارے کی نوعیت اور اس کے پس منظر پر بحث کر رہے ہیں۔