لوئر کرم میں دہشتگردوں کے خلاف آپریشن تیسرے روز میں داخل، انسانی بحران سنگین صورتحال اختیار کر گیا

لوئر کرم میں دہشتگردوں کے خلاف آپریشن تیسرے روز میں داخل، انسانی بحران سنگین صورتحال اختیار کر گیا

لوئر کرم میں سیکیورٹی فورسز کی جانب سے دہشتگردوں کے خلاف جاری آپریشن شدت اختیار کر گیا ہے، جو اب تیسرے روز میں داخل ہو چکا ہے۔

 اس آپریشن میں پولیس اور دیگر سیکیورٹی ادارے بھرپور انداز میں شامل ہیں، جبکہ گن شپ ہیلی کاپٹروں کے ذریعے دہشتگردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

آپریشن کی تفصیلات
پولیس ذرائع کے مطابق آپریشن کا دائرہ بگن، مندوری، اوچت، اور چپڑی کے علاقوں تک پھیلا ہوا ہے۔ ان علاقوں میں گھروں کی تلاشی کا عمل جاری ہے اور دہشتگردوں کے ٹھکانوں پر فضائی کارروائی بھی کی جا رہی ہے۔

نشانہ بنائے گئے علاقے: بگن، پستہ ونی، ڈاڈ قمر، اور زاڑانہ۔
طریقہ کار: گن شپ ہیلی کاپٹروں سے شیلنگ اور زمینی کارروائیاں۔
راہداری اور تجارتی بندش
ٹل پاراچنار مین شاہراہ 112 دن سے بند ہے، جبکہ پاک افغان خرلاچی بارڈر بھی تین ماہ سے بند ہے۔

تجارتی اثرات: سرحدی بندش کے باعث تجارت مکمل طور پر معطل ہے، جس کی وجہ سے علاقے میں بنیادی اشیائے ضروریہ کی شدید قلت پیدا ہو چکی ہے۔
شہری مشکلات: غذائی اجناس، ادویات، پٹرول، اور ڈیزل کی عدم دستیابی کے باعث شہری فاقہ کشی پر مجبور ہیں۔
انسانی بحران اور اموات
راستوں کی طویل بندش کے باعث انسانی بحران سنگین ہو چکا ہے۔ صدر تحفظ تنظیم ملت، مسرت منتظر کے مطابق ایک اور بچہ بروقت علاج نہ ملنے کے باعث جاں بحق ہو گیا ہے، جس کے بعد ہلاکتوں کی تعداد 300 سے تجاوز کر چکی ہے، جن میں 158 بچے شامل ہیں۔

حکومتی موقف اور اقدامات
امن معاہدہ: صوبائی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ کوہاٹ امن معاہدے پر ہر حال میں عمل درآمد کیا جائے گا۔
اسلحہ سے پاک خطہ: کرم کو یکم فروری تک اسلحے سے پاک کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
بنکرز کی مسماری: ضلعے کے اندر تمام بنکرز مسمار کیے جائیں گے۔
قیام امن کی کوششیں: ضلعی انتظامیہ نے دعویٰ کیا ہے کہ امن و امان کی بحالی کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
شہریوں کا مطالبہ
شہریوں نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ فوری طور پر راستے کھولے جائیں، غذائی اجناس کی دستیابی یقینی بنائی جائے، اور علاقے میں جاری بحران کو ختم کرنے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔یہ بحران نہ صرف انسانی المیہ بن چکا ہے بلکہ خطے میں امن و امان کی بحالی کے لیے حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج بھی ہے۔