گندم کی درآمد اور کسان کا سوال

 رفیع صحرائی
حکومت پاکستان کی طرف سے گندم کی درآمد کا فیصلہ صرف گندم کی خریداری کا معاملہ نہیں، یہ دراصل ہماری زرعی پالیسی کا آئینہ ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ ہم نے کبھی اس آئینے میں جھانکنے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ ایک طرف پاکستان کو زرعی ملک ہونے پر فخر ہے، ہماری ملکی معیشت کا سب سے زیادہ دارومدار زراعت پر ہے جبکہ دوسری طرف ہمیں اپنی بنیادی غذائی ضرورت پوری کرنے کے لیے بیرونِ ملک سے گندم منگوانے کی ضرورت پیش آ رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر ہم کب تک بحران پیدا ہونے کے بعد اس کا علاج تلاش کرتے رہیں گے؟ کب تک حکومت کی طرف سے کسان کو پیداوار بڑھانے کا مشورہ دیا جائے گا اور جب وہ فصل پیدا کرے گا تو اسے اس کی محنت کی مناسب قیمت دینے سے گریز کیا جائے گا؟ یہی نہیں، بلکہ وہی فصل جو اپنے کسان سے سستے داموں خریدنے میں بھی لیل و لعت سے کام لیا جاتا ہے اسے بیرونِ ملک سے بخوشی مہنگے داموں خرید لیا جاتا ہے۔ درآمدی اخراجات الگ سے کیے جاتے ہیں۔ کہیں یہ کمیشن کا چکر تو نہیں ہے۔
تازہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2025-26 میں پاکستان نے 29.61 ملین ٹن گندم پیدا کی، جو گزشتہ سال کے 28.40 ملین ٹن کے مقابلے میں 4.3 فیصد زیادہ ہے۔ یعنی کسان نے مشکل حالات کے باوجود پیداوار بڑھائی۔ لیکن اس کے باوجود اگر حکومت کو بڑی مقدار میں گندم درآمد کرنا پڑ رہی ہے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ مسئلہ صرف پیداوار کا ہے یا ہماری منصوبہ بندی، ذخیرہ اندوزی، خریداری اور تقسیم کے نظام میں بھی بنیادی خامیاں موجود ہیں؟
گزشتہ چند برسوں میں کسان جس بے یقینی سے دوچار ہوا ہے، اسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ کبھی کھاد مہنگی، کبھی ڈیزل مہنگا، کبھی بجلی کا بحران، کبھی زرعی ادویات کی قیمتیں آسمان پر اور کبھی فصل تیار ہونے کے بعد مارکیٹ میں مناسب قیمت نہیں ملتی۔ کسان کے لیے سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ وہ فصل کاشت کرتے وقت یہ نہیں جانتا کہ چند ماہ بعد اس کی فصل کتنے روپے میں فروخت ہوگی۔ یہی غیر یقینی کسان کو بددل کرتی ہے۔ حکومت اگر کسان سے یہ کہتی ہے کہ گندم زیادہ پیدا کرو تاکہ ملک خود کفیل ہو، تو پھر اسے یہ ضمانت بھی دینی چاہیے کہ کسان کی پیداوار کا ایک ایک دانہ مناسب معاوضہ قیمت پر خریدا جائے گا۔ اگر کسان کو اپنی فصل کا جائز معاوضہ نہیں ملے گا تو وہ اگلے سال گندم کم کاشت کرے گا یا ایسی فصل کی طرف چلا جائے گا جس میں اسے زیادہ منافع نظر آئے۔ یہی معاشی اصول ہے کہ جہاں منافع نظر آئے اس طرف رجوع کر لیا جائے اور یہی معاملہ آج پاکستان کے زرعی بحران کی ایک بڑی وجہ بنتا جا رہا ہے۔
 گندم کی قیمت کا سوال بڑا اہم ہے۔ اگر مقامی کسان سے 4500 روپے فی 40 کلوگرام کے قریب گندم خریدنا حکومت کے لیے مہنگا ہے، لیکن قلت پیدا ہونے کے بعد بیرونِ ملک سے 5000 یا 5500 روپے فی 40 کلوگرام یا اس سے زیادہ لاگت پر گندم خریدی جاتی ہے، تو پھر یہ سوال پوچھنا عوام کا حق ہے کہ مقامی کسان کو مناسب قیمت دینے میں آخر مسئلہ کیا ہے؟
اور یہ موازنہ صرف خریداری کی قیمت تک محدود نہیں۔ درآمدی گندم کی قیمت میں شپنگ، انشورنس، بندرگاہی اخراجات، ہینڈلنگ اور دیگر لاگت بھی شامل ہوتی ہے۔ اگر بیرونِ ملک سے مہنگی گندم خرید کر قومی خزانے کا زرِمبادلہ خرچ کرنا پڑے تو کیا یہی رقم پاکستانی کسان کو دے کر ملکی پیداوار بڑھانے کی کوشش زیادہ دانشمندانہ نہ ہوتی؟
یہاں کسی فرد یا ادارے پر الزام لگانا مقصود نہیں، لیکن سوال بہرحال موجود ہے کہ کیا ہماری زرعی پالیسی میں کسان کا مفاد واقعی اولین ترجیح ہے؟ اگر ہے تو پھر کسان بددل کیوں ہے؟ اگر نہیں تو پھر خود کفالت کے دعوے کس بنیاد پر ہیں؟ اگر مقامی پیداوار کم پڑ رہی ہے تو پیداوار بڑھانے کی طویل المدتی منصوبہ بندی کہاں ہے؟
ایک سوال یہ بھی ہے کہ اگر پیداوار کافی ہے مگر مارکیٹ میں گندم کی دستیابی کا مسئلہ ہے تو ذخیرہ کرنے کی قومی صلاحیت کہاں ہے؟ اور اگر گندم کی درآمد ناگزیر تھی تو اس کا بروقت فیصلہ کیوں نہ کیا گیا تاکہ عالمی مارکیٹ میں مناسب قیمت پر گندم حاصل کی جا سکتی؟
یہ سوال بھی اہم ہے کہ گندم کی خریداری اور درآمد کے پورے عمل میں شفافیت کس طرح یقینی بنائی جائے گی۔ عوام کو معلوم ہونا چاہیے کہ درآمدی گندم کس ملک سے کتنی قیمت پر خریدی گئی، فی ٹن اصل لاگت کیا بنی، شپنگ اور دیگر اخراجات کتنے ہوئے اور مقامی کسان سے اسی معیار کی گندم کتنی قیمت پر دستیاب تھی۔ یہ معلومات سامنے ہوں گی تو عوام خود فیصلہ کر سکیں گے کہ قومی مفاد میں کون سا راستہ زیادہ فائدہ مند تھا۔
ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ کسان صرف کسان نہیں، ایک بہت بڑی معاشی زنجیر کا پہلا سرا ہے۔ کسان کے پاس پیسہ آئے گا تو وہ کھاد خریدے گا، زرعی مشینری خریدے گا، گھر بنائے گا، بچوں کی تعلیم پر خرچ کرے گا، کپڑے خریدے گا، موٹر سائیکل یا گاڑی لے گا، مقامی دکاندار سے سودا خریدے گا۔ یوں اس کی آمدنی گاؤں کی دکان سے شہر کی مارکیٹ تک گردش کرے گی۔
لیکن جب کسان خسارے میں ہوگا تو وہ سب سے پہلے اپنی ضروریات محدود کرے گا۔ پھر زرعی مشینری کا کاروبار متاثر ہوگا، کھاد اور بیج کی فروخت کم ہوگی، ٹرانسپورٹ متاثر ہوگی، دیہی بازاروں کی رونق ختم ہوگی اور بالآخر اس کے اثرات شہری معیشت تک پہنچیں گے۔ کسان کا معاشی نقصان حقیقت میں ملکی معیشت کے پہیے کی رفتار کو سست کرنے کے مترادف ہے۔ یاد رکھیے! کسان کو سہارا دینا کوئی رعایت یا احسان نہیں، بلکہ قومی معیشت میں سرمایہ کاری ہے۔
اب وقت آ گیا ہے کہ کسان کی مشکلات کو سمجھا جائے۔ حکومت کو اب گندم کے بارے میں ہر سال نئی پالیسی بنانے کے بجائے کم از کم پانچ سے دس سال کی مستقل زرعی پالیسی بنانی چاہیے۔ کسان کو بوائی سے پہلے متوقع قیمت، سرکاری خریداری کا واضح طریقہ، ذخیرہ کرنے کی سہولت، معیاری بیج، مناسب کھاد اور پانی کی دستیابی کے بارے میں واضح لائحہ عمل دیا جائے۔ زرعی منڈیوں کو جدید بنایا جائے اور کسان کو مڈل مین کے رحم و کرم پر چھوڑنے کے بجائے براہِ راست مارکیٹ تک رسائی دی جائے۔ حکومت کوئی بھی ہو، پالیسی تبدیل نہیں ہونی چاہیے۔ پالیسی کا تسلسل ہی منزل کا حصول آسان بنائے گا۔
پاکستان میں گندم کی پیداوار بڑھانے کی صلاحیت موجود ہے۔ تازہ اقتصادی سروے کے اعداد و شمار بھی بتاتے ہیں کہ سازگار حالات اور بہتر اِن پُٹس کے نتیجے میں پیداوار میں اضافہ ممکن ہے۔ مسئلہ صلاحیت کا کم اور مستقل پالیسی، منافع بخش قیمت اور مؤثر انتظام کا زیادہ ہے۔ اس سے بھی اہم بات کسان کے اعتماد کی بحالی ہے جو مایوسی کا شکار ہو چکا ہے۔ حکومت کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ پاکستانی کسان کو خوشحال بنا کر زرِمبادلہ بچانا چاہتی ہے یا ہر چند سال بعد بیرونی منڈی کا رخ کرکے ملکی وسائل باہر بھیجتی رہے گی۔ گندم صرف ایک فصل نہیں، پاکستان کی غذائی سلامتی کا مسئلہ ہے۔ کسان صرف ایک کاشتکار نہیں، ملکی معیشت کا بنیادی کردار ہے۔ اور کسان کی بددلی صرف ایک فرد کی مایوسی نہیں، آنے والے زرعی بحران کی دستک ہے۔ اگر حکومت آج بھی یہ دستک نہیں سن رہی تو مستقبل میں گندم درآمد کرنے کا بل شاید زیادہ بڑا ہو، مگر اس وقت سوال صرف یہ نہیں ہوگا کہ گندم
 کہاں سے آئے گی؛ سوال یہ ہوگا کہ پاکستان کا کسان کہاں جائے گا؟