چیف جسٹس سے پی ٹی آئی رہنماؤں کی ملاقات، 26ویں آئینی ترمیم سمیت متعدد اعتراضات پیش

چیف جسٹس سے پی ٹی آئی رہنماؤں کی ملاقات، 26ویں آئینی ترمیم سمیت متعدد اعتراضات پیش

اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنماؤں نے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی سے ملاقات کی، جس میں انہوں نے اپنی شکایات کا تفصیل سے ذکر کیا۔

ملاقات کے بعد پی ٹی آئی رہنماؤں نے پریس کانفرنس میں اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ چیف جسٹس کو بانی پی ٹی آئی، ان کی اہلیہ اور دیگر قیدی رہنماؤں کے ساتھ ہونے والے مبینہ امتیازی سلوک سے آگاہ کیا گیا۔

ملاقات میں اٹھائے گئے اہم نکات:
26ویں آئینی ترمیم پر اعتراض:

پی ٹی آئی رہنماؤں نے چیف جسٹس کو بتایا کہ وہ 26ویں آئینی ترمیم کو قبول نہیں کرتے اور اس پر شدید تحفظات رکھتے ہیں۔
مقدمات کی سماعت میں تاخیر:

عمر ایوب نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی اور ان کی اہلیہ کی مقدمات کی سماعت کی تاریخیں نہیں بتائی جاتیں اور تاریخیں بار بار تبدیل کی جاتی ہیں۔عدالتی کارروائی میں غیر معمولی تاخیر پر بھی احتجاج کیا گیا۔
قیدی رہنماؤں کے ساتھ ناروا سلوک:

بیرسٹر گوہر خان نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کو قید تنہائی میں رکھا جا رہا ہے اور جیل مینوئل کے قوانین کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔پی ٹی آئی کارکنان، بانی پی ٹی آئی اور ان کی اہلیہ کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھا جا رہا ہے۔
لاپتہ افراد کا معاملہ:

سلمان اکرم راجہ نے چیف جسٹس کے سامنے لاپتہ افراد کے مسئلے کو اجاگر کیا اور اس پر عدالتی کارروائی کا مطالبہ کیا۔
اسٹیٹ دہشتگردی کے الزامات:

پنجاب میں مبینہ طور پر اسٹیٹ دہشتگردی کے واقعات پر بھی چیف جسٹس کو آگاہ کیا گیا۔
آئین و قانون کی خلاف ورزی:

سلمان اکرم راجہ نے دعویٰ کیا کہ ملک میں آئین و قانون کی عملداری نہیں ہو رہی اور عدالتی نظام کو سیاسی آلہ کار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔
چیف جسٹس کا ردعمل:
پریس کانفرنس کے دوران پی ٹی آئی رہنماؤں نے چیف جسٹس کے ردعمل سے متعلق کوئی تفصیلی بیان نہیں دیا، تاہم ان کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس نے نیشنل جوڈیشل کونسل کمیٹی کے لیے ایجنڈا طلب کیا تھا، جس پر ممکنہ طور پر ان معاملات پر غور کیا جائے گا۔یہ ملاقات اور اس کے بعد کی پریس کانفرنس ایسے وقت میں ہوئی ہے جب پی ٹی آئی قانونی اور سیاسی محاذ پر شدید دباؤ کا سامنا کر رہی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہوگا کہ عدالت ان شکایات پر کیا ردعمل دیتی ہے اور آیا پی ٹی آئی کو کوئی ریلیف ملتا ہے یا نہیں۔