بطور ملک اپنی ساکھ کھو چکے،آئی ایم وفد24فروری کو آئے گا وزیر خزانہ

مسلسل تنخواہ دار طبقے سے ٹیکس لینا مسائل کا حل نہیں،زرعی شعبہ معیشت میں زیادہ حصہ دار ہے لیکن ٹیکس میں اس کا حصہ کم ہے
 ملک بے جا مراعات کا متحمل نہیں ہو سکتا،و زیراعظم معیشت کا رخ موڑنے کیلئے متحرک رہتے ہیں:ریٹل بزنس کونسل سے خطاب 

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک‘آئی این پی)وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے ہم ایک ملک کے طور پر اپنی ساکھ کھو چکے ہیں۔سینیٹر شیری رحمن کی زیر صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے موسمیاتی تبدیلی کا اجلاس ہوا، وزیر خزانہ نے اجلاس میں کلائمیٹ فائننسنگ پر بریفنگ  دی۔محمد اورنگزیب نے قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ اے ڈی بی نے 500 ملین ڈالر کا اعلان کیا تھا، ہم نے آئی ایم ایف اے بات چیت کی۔ اگلے ہفتے آئی ایم ایف بلین ڈالرز اس حوالے سے ہمیں دیں گے، گرین پانڈا بانڈ کے لیے ہم کوشش کر رہے ہیں۔دریں اثناء اسلام آباد میں  ریٹل بزنس کونسل سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا  آئی ایم ایف وفد 24 فروری کو پاکستان آئے گا جس میں کلائمیٹ فنڈ پر بھی بات چیت ہوگی  جس کی مد میں  ڈیڑھ ارب ڈالر تک ملنے کی توقع ہے ،مسلسل تنخواہ دار طبقے سے ٹیکس لینا مسائل کا حل نہیں ہے،زرعی شعبہ معیشت میں زیادہ حصہ دار ہے لیکن ٹیکس میں اس کا حصہ کم ہے، ملک بیجا مراعات کا متحمل نہیں ہو سکتا،ملک کی معیشت درست سمت بڑھ رہی ، زیراعظم معیشت کا رخ موڑنے کے لیے متحرک رہتے ہیں، پاکستان سمت ملٹی لیٹرل اداروں کے ساتھ رابطے میں ہے، حکومت معیشت کے عارضی نہیں بلکہ مستحکم فروغ کیلئے کوشاں ہے۔