امریکی ایوان نمائندگان نے اخراجات کے بل کی تیسری کوشش میں منظوری دے دی

امریکی ایوان نمائندگان نے اخراجات کے بل کی تیسری کوشش میں منظوری دے دی

امریکی ایوان نمائندگان نے دو بار ناکامی کے بعد تیسری ووٹنگ میں اخراجات کے بل کی منظوری دے دی ہے۔

 حکومتی پیش کردہ بل کے حق میں 366 اراکین نے ووٹ دیا جبکہ 34 اراکین نے مخالفت کی۔بل کی منظوری سے امریکا میں آدھی رات کو ہونے والے شٹ ڈاؤن کا خطرہ ٹل گیا ہے، کیونکہ اگر یہ بل مسترد ہو جاتا تو تمام سرکاری ادارے آدھی رات سے فنڈز کی کمی کی وجہ سے بند ہو جاتے۔ اس بل کے تحت حکومت کو مارچ 2025 تک ڈیزاسٹر فنڈ کی مد میں 100 بلین ڈالرز اور کسانوں کے لیے 10 بلین ڈالرز فراہم کیے جائیں گے۔

بل کی حتمی منظوری کے لیے یہ سینیٹ میں بھیجا جائے گا، جہاں اس پر مزید کارروائی کی جائے گی۔ ایوانِ نمائندگان میں ری پبلکنز اور ڈیموکریٹس دونوں نے شٹ ڈاؤن کے خطرے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اس صورتحال سے بچنا ضروری ہے۔ اس سے قبل، امریکی کانگریس کے دونوں جماعتوں کے اعلیٰ ترین اراکین عبوری بجٹ پیکیج پر کام کر رہے تھے تاکہ وفاقی اداروں کو مارچ 2025 تک فنڈز فراہم کیے جا سکیں۔