شام میں ممکنہ تقسیم کاخطرہ اوراسرائیلی کردار

سمیع اللہ ملک

اس علاقے سے شامی فوج اس وقت نکل گئی تھی جب باغی گروہوں کے دستے دمشق کی جانب بڑھ رہے تھے اور بشار الاسد کا اقتدار ختم ہو رہا تھا اور اسی موقع پر اسرائیلی کی دفاعی افواج نے گولان کی پہاڑیوں پر غیر فوجی بفر زون کا کنٹرول حاصل کر لیا۔ نتن یاہو ایک مرتبہ پھراقوام عالم کو گمراہ کرنے کیلئے کہہ رہاہے کہ  اس کی خواہش ہے کہ شام میں آنے والی حکومت کے ساتھ پرامن اور ہمسایوں والے تعلقات قائم کر سکیں۔ تاہم اگر ایسا نہیں ہوتا تو اسرائیلی ریاست اور اس کی سرحدوں کی حفاظت کے لیے ہر ممکن اقدامات اٹھائیں گے۔
اسرائیل میں یہ سوچ پائی جاتی ہے کہ شام کی جانب سے فورسز گولان میں داخل ہونے کی وجہ یہ  ہے کہ اس بات کو یقینی بنانے کیلئے ہے کہ مستقبل میں ہیئت التحریر گولان پہاڑیوں سے اسرائیل کے اند داخل نہ ہو سکے ، اس لئے اسرائیلی فوج سرحد میں مزید اندر تک داخل ہو گئی ہے لیکن اس بیانئے پر یقین کرنے کیلئے کوئی بھی تیار نہیں۔اسرائیلی فوج یہ بھی تسلیم کر رہی ہے کہ وہ گولان کی پہاڑیوں میں غیر فوجی بفر زون سے باہر کے علاقے میں بھی موجود ہے تاہم ان کا کہنا ہے کہ وہ بہت آگے نہیں گئے ہیں۔ ان کی افواج عارضی دفاعی پوزیشن اختیار کر رہی ہیں اور یہ عارضی بندوبست اس وقت تک کیلئیہے جب تک کوئی مناسب انتظام نہیں ہو جاتا۔ اسرائیل کی خواہش ہے کہ وہ شام میں ابھرنے والی نئی قوتوں کے ساتھ پرامن اور ہمسائیگی پر مبنی تعلقات رکھیں لیکن اگر وہ ایسا نہیں کرتے تو ہم اسرائیل کی ریاست اور اسرائیل کی سرحد کے دفاع کیلئے جو کچھ بھی کرنا پڑے وہ کریں گے۔
شام سے سامنے آنے والی رپورٹس میں دعوی کیا گیا ہے کہ اسرائیل گولان کی پہاڑیوں سے آگے پیش قدمی کرتے ہوئے دمشق سے 25 کلومیٹر کی دوری تک پہنچ گیا ہے لیکن اسرائیلی فوجی ذرائع نے اس بات کی تردید کی اور کہا ہے کہ فوج بفر زون سے آگے بڑھی ہے مگر اس حد تک نہیں۔ کئی عرب ممالک کی جانب سے اسرائیل کے شام میں حالیہ اقدامات کی بھرپور مذمت کی گئی ہے۔ مصر کی وزارت خارجہ نے اسے شام کی سرزمین پر قبضہ اور 1974 کے معاہدے کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا۔نتن یاہو نے کہا کہ ’’اس نے یہ اقدامات اسرائیل کی سرحدوں کو محفوظ بنانے کیلئے اٹھائے ہیں کیونکہ شام پر باغی گروہوں کے قبضے کے بعد 1974کا معاہدہ فعال نہیں رہا’’بہت سے تجزیہ کار اسرائیل کے اس
اقدام کے حوالے سے دیے گئے جواز کے بارے میں شکوک و شبہات کا شکار ہیں اور نیتن یاہو کے مقف کو کوئی بھی تسلیم کرنے کا تیار نہیں کہ وہ شام کی جانب سے حماس کے 7 اکتوبر کو ہونے والے حملے جیسے کسی بھی حملے کو روکنا چاہتا ہے۔
شام نے کبھی یہ نہیں کہا کہ وہ معاہدے کی پاسداری نہیں کرے گا، اور اسرائیل کی جانب سے ان اقدامات کواپنی سلامتی کو یقینی بنانے کیلئے کیا گیا پیشگی اقدام قرار دیکر غیر فوجی بفر زون میں کسی بھی قسم کی فوجی کارروائی کا کوئی جواز نہیں بلکہ کھلی جارحیت ہے۔شام کے باغی گروپوں کی جانب سے گولان کی پہاڑیوں پر اسرائیل سے قبضہ چھڑانے کے امکانات مستقبل قریب میں انتہائی کم ہیں۔ ہیئت التحریر ملک کے اندرونی معاملات میں اس حد تک مصروف ہے کہ اسرائیل کے ساتھ ایک نیا تنازع پیدا کرنے کے بارے میں سوچنے کا وقت بھی نہیں ہے تاہم اسرائیل کی جانب سے شام کے علاقوں میں موجودگی شام میں آنے والی مستقبل کی حکومتوں کے ساتھ اسرائیل کے تعلقات کو خراب کرے گی۔
اسرائیلی وزیر خارجہ گیڈون سار نے کہا ہے کہ ان کی فوج شام کے فوجی اڈوں پر فضائی حملے صرف اور صرف اپنے شہریوں کے دفاع کے لیے کر رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسرائیل سٹریٹجک ہتھیاروں کے نظام پر حملہ کرتا ہے جیسے باقی ماندہ کیمیائی ہتھیار یا طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل اور راکٹ تاکہ وہ شدت پسندوں کے ہاتھ نہ لگ سکیں۔ تاہم مشرقِ وسطیٰ پر گہری نگاہ رکھنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ شام میں بڑے پیمانے پر کیمیائی ہتھیار موجود نہیں ہیں۔ ان کے مطابق وہ صرف دو یا تین مقامات پر ہیں لیکن 250 سے زائد فضائی حملے کر کے آپ ملک(شام)کو بہت زیادہ کمزور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔یاد رہے کہ اس سے قبل بھی ایسا ہی لغو الزام عراقی صدر صدام حسین پر لگا کر عراق کی ہزاروں سال پرانی تہذیب کے ساتھ کئی ملین عراقیوں کو شہید کردیا گیا تھا اور اب تک اس کے پٹرول پر قبضہ کر رکھا ہے۔ 
اسرائیل احتیاطی تدابیر کے طور پر بدترین حالات سے نمٹنے کی کوشش کر رہا ہے لیکن یہ سب بے سود ثابت ہو سکتا ہے۔ یہ نئی حکومت کے ساتھ دوستانہ تعلق استور کرنے کا طریقہ نہیں ۔ہیئت تحریر الشام کی قیادت میں اسد خاندان کی سفاکانہ کہلائی جانے والی اور دہائیوں پر محیط حکمرانی کے خاتمے کے بعد اب شام کے مستقبل کے بارے میں کئی اہم سوالات اٹھ رہے ہیں۔ ہیئت تحریر الشام کے رہنما ابو محمد الجولانی نے اہنے بیانات میں شام کو متحد کرنے کا عہد کیا ہے تاہم یہ بات غیر یقینی ہے کہ آیا وہ اس مقصد کو حاصل کر پائیں گے یا نہیں۔ اقوام متحدہ نے شام میں تمام گروہوں کے درمیان تعاون کے فروغ کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر شام کے مستقبل کی پیش گوئی کرنا مشکل ہے۔ تاہم  ماہرین نے ملک کے مستقبل کے تین ممکنہ منظرناموں پر روشنی ڈالی ہے۔ شام کے حق میں سب سے بہتر تو یہ ہو گا کہ ہیئت تحریر الشام ملک میں موجود دیگر سیاسی قوتوں کے ساتھ مل کر کام کرے اور ذمہ داری کے ساتھ حکومت کرے۔ جنگ کے بعد شام میں اب قومی مفاہمت کے ماحول کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔ یہ بدلہ لینے اور لوٹ مار کی اس روایت کو توڑنے کا موقع ہے جس کی مثال پڑوسی ریاستوں میں ملتی ہے۔ ایسا نہ کیا گیا تو نئے تنازعات جنم لے سکتے ہیں۔
اپنے ابتدائی بیانات میں جولانی نے شام کے مختلف فرقوں کے درمیان اتحاد اور باہمی احترام کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ لیکن یہ بات بھی اہم ہے کہ شام میں موجود متعدد گروہوں کے ایجنڈے ایک دوسرے سے مماثلت نہیں رکھتے۔ تاہم اس بات کا قوی خدشہ ہے کہ لیبیا کی طرح شام بھی مختلف متحارب دھڑوں میں تقسیم کردیا جائے اور کوئی ایسا دھڑا برسرِاقتدار نہ آ جائے جو اسرائیل سے دشمنی رکھتا ہو۔ اسرائیل اور اس کے اتحادی یقینا شام میں موجود دھڑوں میں نفاق پیدا کرکے خانہ جنگی جیسی صورتحال پیدا کرنے کی کوشش کریں گے تاکہ اس خانہ جنگی کی آڑ میں گریٹر اسرائیل کے منصوبے کو مزید آگے بڑھایا جائے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ خطے کے دیگر ممالک جن کو فی الحال نیتن یاہو نے اقوام متحدہ مین اپنی تقریر کے دوران سبز رنگ میں دکھا یا ہے، ان کو کب اس خوش گمانی سے نجات ملے گی۔