اسرائیل نے مقبوضہ مشرقی بیت المقدس کے مشرق میں واقع ای ون علاقے میں بڑے آبادکاری منصوبے کو عملی جامہ پہنانا شروع کر دیا ہے، جس کے خلاف عالمی سطح پر سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔
اسرائیلی وزارتِ تعمیرات و ہاؤسنگ نے 1,234 رہائشی یونٹس کی تعمیر کے لیے ٹینڈر جاری کیا ہے، جو کہ مجموعی طور پر منصوبہ بند 3,401 گھروں کا حصہ ہے۔ یہ یونٹس ای ون علاقے میں تعمیر کیے جائیں گے، جو مشرقی بیت المقدس اور اسرائیلی آبادکاری کے درمیان واقع ہے۔فلسطینی اور بین الاقوامی ناقدین کا کہنا ہے کہ اس آبادکاری سے مغربی کنارے کے شمالی اور جنوبی حصوں کے درمیان جغرافیائی رابطہ متاثر ہوگا، جس سے ایک متصل فلسطینی ریاست کے قیام اور دو ریاستی حل کے امکانات کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔اس اقدام پر فلسطینی اتھارٹی، برطانیہ اور کئی یورپی ممالک نے سخت اعتراضات کیے ہیں۔ جرمنی، فرانس، برطانیہ اور اٹلی نے مشترکہ طور پر اسرائیل سے اس منصوبے کو واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی اس پیش رفت پر گہری تشویش ظاہر کی ہے۔فلسطینی وزارت خارجہ نے کمپنیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ای ون منصوبے کے تعمیراتی ٹینڈرز میں حصہ نہ لیں اور خبردار کیا ہے کہ اس قسم کا اقدام بین الاقوامی قانون کے خلاف ہے اور سنگین مسائل پیدا کر سکتا ہے۔یہ آبادکاری منصوبہ عالمی سطح پر تناؤ کا سبب بن رہا ہے اور حالات کی کشیدگی کو مزید بڑھا سکتا ہے، جبکہ فلسطینی اور بین الاقوامی ادارے اس کی مخالفت میں سرگرم ہیں۔