اسلام آباد(آئی این پی)قومی سائبر ایمرجنسی ریسپانس ٹیم (نیشنل سی ای آر ٹی) نے پاکستان بھر کے تمام سرکاری و نجی اداروں اور افراد کو خبردار کرتے ہوئے پاکستانی شہریوں کی ذاتی شناختی معلومات (پی آئی آئی) کے تحفظ کے لیے فوری اور موثر اقدامات کرنے کی ہدایات جاری کردی ہیں۔اس حوالے سے نیشنل سائبر ایمرجنسی ریسپانس ٹیم(سرٹ) نے اداروں اور شہریوں کو ذاتی معلومات کے تحفظ کے لیے ایڈوائزری جاری کردی ہے۔نیشنل سیرٹ کی جانب سے یہ ہدایات اس وقت سامنے آئی ہیں جب ملک میں ڈیٹا چوری، شناختی فراڈ اور پرائیویسی کی خلاف ورزیوں کے واقعات میں تشویشناک اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔نیشنل سیرٹ کے مطابق یہ ہدایات ہر اس ادارے پر لاگو ہوں گی جو شہریوں کا ذاتی ڈیٹا جمع کرتا ہے اسے محفوظ کرتا ہے اس پر کارروائی کرتا ہے یا اسے منتقل کرتا ہے اس میں تمام نوعیت کے انفراسٹرکچر شامل ہیں چاہے وہ آن پریمیس ہوں، کلاوڈ بیسڈ ہوں یا ہائبرڈسائبر سکیورٹی پالیسی 2021 میں شہریوں کے ڈیٹا کے تحفظ کو قومی سلامتی اور عوامی اعتماد کا معاملہ قرار دیا گیا ہے۔مشاہدے میں آیا ہے کہ کمزور اندرونی کنٹرول، پرانے اور غیر محفوظ نظام، بغیر انکرپشن کے ڈیٹا کی ترسیل، مشکوک ایپلیکیشنز کی تنصیب اور ناقص سائبر عادات کی وجہ سے ادارے مالیاتی فراڈ، آپریشنل رکاوٹ، ساکھ کو نقصان اور قانونی کارروائی کے خطرات سے دوچار ہو رہے ہیںخاص طور پر شناختی کارڈ نمبرز، طبی ریکارڈز اور مالیاتی معلومات کے لیک ہونے کے واقعات شہریوں کے اعتماد کو بری طرح متاثر کر رہے ہیں اور انہیں مجرمانہ و دشمن عناصر کے ہاتھوں استحصال کے خطرے میں ڈال رہے ہیں۔