بیت المقدس کا مقدمہ

سمیع اللہ ملک(آخری قسط)
ابراہیمی معاہدے ایک نیاباب ہیں جہاں اسلامی شناخت کے ساتھ سمجھوتہ کرکے اسرائیل کومشرقِ وسطی میں مرکزی حیثیت دی جا رہی ہے۔سعودی عرب تاحال اسرائیل کوباضابطہ تسلیم نہیں کرپایا،لیکن ابراہیمی معاہدے کی روشنی میں یہ امکان بڑھتاجارہاہے اوراسرائیل کوتسلیم کرنے کے امکانات اب کسی حدتک واضح ہوتے جارہے ہیں۔پسِ پردہ مذاکرات اوردباکی سیاست اسی جانب اشارہ کررہی ہے۔
غزہ،جہاں آج بھی بچوں کی لاشیں کھلونوں سے زیادہ گرتی ہیں،کوایک سیاحتی جنت بنانے کاخواب دراصل فلسطینی مزاحمت کو ہمیشہ کیلئے دفن کرنے کامنصوبہ ہے۔حماس کوغیرمسلح کرنے اورغزہ کوفلسطینی اتھارٹی کے حوالے کرنے کی کوششیں اسی سلسلے کی کڑی ہیں۔حالیہ اطلاعات کے مطابق خلیجی طاقتیں حماس کوغیرمسلح کرنے اورغزہ کو فلسطینی اتھارٹی کے حوالے کرنے کے منصوبے پرعمل پیراہیں۔بعدازاں،امریکی منصوبے کے تحت غزہ کوایک’’سیاحتی جنت‘‘میں بدلنے کی تیاریاں ہورہی ہیںجہاں خون کی جگہ خوشبوہومگروہ خوشبو فلسطینی لاشوں کے تعفن سے ابھرے۔
کیایہ امرحیرت انگیزنہیں کہ اسرائیل،جوخودایک مکمل ایٹمی قوت ہے اورجس کے پاس دیموناکاایٹمی مرکزکئی دہائیوں سے فعال ہے،اسے آج تک کسی بین الاقوامی ادارے نے جواب دہ نہیں بنایا؟نہ امریکانے،نہ یورپ نے،اورنہ اقوامِ متحدہ نے۔یہ وہی اسرائیل ہے جس نے1981میں عراق کے اوسیراک ایٹمی ری ایکٹرپرحملہ کرکے بین الاقوامی قوانین کوپاؤں تلے روندڈالا،مگرمغرب نے اسے دہشتگردی قراردینے کے بجائے’’احتیاطی کارروائی‘‘کالقب دے دیا۔ایران جب اپنے ایٹمی پروگرام کوپرامن توانائی کے مقصد کیلئے بڑھاتاہے تواس پرپابندیاں،حملے اورخفیہ کارروائیاں مسلط کردی جاتی ہیں۔یہ دہرامعیاراسلام دشمنی کاایک کھلاثبوت ہے۔
چین آج خلیجی ممالک خصوصاسعودی عرب،ایران،اورامارات کے ساتھ مضبوط تجارتی رشتے قائم کرچکاہے۔چین اپنی توانائی کی ضروریات کیلئے سعودی عرب سے یومیہ1.76 ملین بیرل تیل خریدتاہے،جبکہ ایران پرامریکی پابندیاں ہونے کے باوجودچینی کمپنیاں ایرانی تیل کی خریداری جاری رکھے ہوئے ہیں،اکثربالواسطہ طریقوں سے۔بندرعباس کی بندرگاہ،چابہارکااشتراک،اور مشترکہ انرجی وٹرانسپورٹ منصوبے اس گہرے اتحادکے مظہرہیں۔
جب حالیہ برسوں میں ایران اوراسرائیل کے درمیان خفیہ اورنیم علانیہ جنگ کے مظاہرسامنے آئے،توچین اورروس کی غیر معمولی خاموشی نے عالمی تجزیہ نگاروں کوچونکادیا۔اس خاموشی کے پیچھے ایک جانب ان کی مشرقِ وسطی میں توازنِ قوت کی پالیسی ہے،تودوسری جانب تجارتی مفادات کی مجبوری۔چین کسی بھی فریق کوناراض کیے بغیراپنی معاشی رسائی برقرار رکھناچاہتاہے جبکہ روس یوکرین جنگ میں مصروف ہوکرکھل کراظہاررائے سے گریزاں ہے۔
باوثوق ذرائع کے مطابق،امریکانے ایران اوراسرائیل کے درمیان کشیدگی کم کرانے کیلئے پاکستان کوایک نرم آورثالث کے طور پرمتحرک کیا۔پاکستان کی خارجہ پالیسی میں توازن ، اسلامی دنیامیں اس کی حیثیت،اورایران وعرب دنیادونوں سے تعلقات اسے اس کردارکیلئے موزوں بناتے ہیں۔تاہم،پاکستان کایہ کردارغیراعلانیہ اورخفیہ سفارتکاری کی حدتک محدودرہا۔
حالیہ دنوں ٹرمپ نے بھارت پر25فیصددرآمدی ٹیکس عائدکرکے اوراسے روس وچین سے بڑے عسکری ومعدنیاتی معاہدوں پر تنبیہ دیکریہ واضح کردیاکہ امریکابھارت کی دورخی پالیسی سے خائف ہے۔ایک طرف بھارت خودکوامریکاکااسٹریٹجک پارٹنر کہتاہے،دوسری جانب روس سے ایس400دفاعی نظام خریدتاہے اورچین سے نایاب معدنیات کی درآمدات میں ملوث ہے۔یہ وہی بھارت ہے جوعالمی اسٹیج پرامریکی حلیف بنتاہے مگرمیدانِ عمل میں مشرقی طاقتوں کاخاموش ہمنواہے۔یہ تضاداب امریکاکیلئے ناقابلِ برداشت ہوتاجارہاہے اورٹرمپ کی طرف سے بھارت پر 25ٹیرف اور مزیدجرمانہ کی خبربھارتی معیشت پربجلی بن کرگری ہے اور مستقبل قریب میں بھارت کواس کاسفارتی خمیازہ بھگتناپڑ سکتا ہے۔خودانڈیامیں مودی کومنہ چھپانامشکل ہوگیاہے۔
یہ صرف تاریخ نہیں،یہ ہماری اجتماعی نااہلی اوربے حسی کانوحہ ہے۔اسرائیل محض ایک ریاست نہیں،یہ استعماری ذہنیت کا مظہر،مذہبی منافقت کااستعارہ اورسیاسی بربریت کاجیتا  جاگتانمونہ ہے۔اب بھی وقت ہے کہ امتِ مسلمہ فکری غلامی کی زنجیروں کوتوڑکرایک نئے شعورکے ساتھ بیدارہو،ورنہ تاریخ ایک بارپھراپنے صفحات پرہمارے زوال کے ماتم کورقم کرے گی۔
اے اہلِ ایمان!کیاتم نے قرآن نہیں پڑھا؟کہ اللہ تمہیں دشمنوں کے خلاف بیداری کاحکم دیتاہے؟کیابیت المقدس کی مٹی تمہیں آوازنہیں دیتی؟وقت آچکاہے کہ ہم خوابِ غفلت سے جاگیں۔یہ تحریرمحض تاریخ کابیان نہیں،ایک اذان ہے ،بیداری کی اذان۔وہ اذان جودلوں کوجھنجھوڑدے،وہ اذان جوغلامی کے بت توڑدے،اوروہ اذان جوامت
 کوپھرسے ایک ملتِ واحدہ میں بدل دے۔ورنہ ہماراانجام بھی ان قوموں جیساہوگاجن کے بارے میں رب نے فرمایا:جب کبھی وہ گھبراکرجہنم سے نکلنے کی کوشش کریں گے پھر اسی میں دھکیل دیے جائیں گے کہ چکھواب جلنے کی سزاکامزہ۔(الحج:۲۲)
اعلانِ بالفوروہ قلمی خنجرتھاجس سے فلسطین کی روح کوچیردیاگیا۔یہ اعلان محض سامراجی ہمدردی نہیں،بلکہ ایک ایساتاریخی شرمناک سوداتھاجوایک قوم کی سرزمین کودوسری قوم کی بے وطنی کاتاوان بناکرپیش کیاگیا۔اس پرتبصرہ کرتے ہوئے اگرقرآن کی زبان مستعارلی جائے توشایدیہی کافی ہو:
جب کبھی ان سے کہاگیاکہ زمین میں فسادبرپانہ کرو،توانہوں نے یہی کہاکہ ہم تواصلاح کرنے والے ہیں۔خبردار!حقیقت میں یہی لوگ مفسد ہیں مگرانہیں شعورنہیں۔ (البقرہ:11-12)
اعلانِ بالفوروہ دستاویزہے جس نے ایک پوری ملت کے زخم کوکاغذپرلکھا،اوراسے مہذب دنیاکافیصلہ قراردیا۔یہ اعلان نہ صرف فلسطینی مسلمانوں کی سرزمین پرغاصبانہ قبضے کی بنیاد بنا،بلکہ یہ مسلم دنیاکے سیاسی زوال،تہذیبی انحطاط اورعالمی استبداد کی علامت بھی ہے۔آج ایک صدی گزرنے کے باوجوداس اعلان کی بازگشت نہ صرف غزہ کے ملبے میں سنائی دیتی ہے،بلکہ القدس کی فضامیں بھی اس کے سائے محسوس کیے جاسکتے ہیں۔
اگرعالمی انصاف کوواقعی زندہ رکھناہے تواعلانِ بالفورکوایک تاریخی غلطی کے طورپرتسلیم کرناہوگا،اور اس کے مضمرات سے امتِ مسلمہ کوبیدارہوکرنکلناہوگا،ورنہ وہی تاریخ دوبارہ دہرائی جائے گی جوآج بھی ہمارے زخموں میں گونجتی ہے۔
جوکسی مسلمان کے قتل پرزبان یااشارے سے بھی مددکرے،قیامت کے دن اس کی پیشانی پرلکھاہوگاکہ یہ اللہ کی رحمت سے  مایوس ہے۔حدیث نبوی،سنن ابن ماجہ:2620