سمیع اللہ ملک(دوسری قسط)
اعلانِ بالفورمیں یہودیوں کیلئے جوبین الاقوامی حقوق کی ضمانت دی گئی،وہ درحقیقت انہیں ایک خاص نسلی ومذہبی استثنادینے کی کوشش تھی،جوپوری دنیا میں ایک خطرناک نظیربن گئی۔یہ امربذاتِ خوداس اعلان کے دہریمعیار،سامراجی تعصب،اورمخصوص عالمی ایجنڈے کاپتہ دیتاہے۔ایک طرف یہودیوں کے حقوق پرغیرمشروط یقین دہانی،اوردوسری طرف فلسطینی مسلمانوں کیلئے مشروط،مبہم اورقابلِ تاویل جملے،یہ سب ایک منظم منصوبے کی چغلی کھاتے ہیں۔یہ وہ اعلان تھاجس میں انصاف کے لباس میں نفاق چھپاہواتھا، تہذیب کی آڑمیں جارحیت بول رہی تھی،اورہمدردی کے پردے میں مفادپرستی کاناچ تھا۔
اس نکتے میں ایک ایسافلسفیانہ تضادپنہاں ہے جوصرف مغرب کی منافقت زدہ سیاست ہی پیداکرسکتی ہے۔فلسطینی عربوں کے حقوق کی بات مشروط طورپرکی گئی،لیکن مغربی ممالک میں یہودیوں کے سیاسی حقوق کویقینی بنانے کااعلان بلاشرط کیاگیا۔یہ اعلان دراصل ایک اعلی نسل(یہود)کوعالمی درجہ عطاکرنے کی کوشش تھی،جبکہ دوسری طرف فلسطینیوں کو صرف سہنے کی ضمانت دی گئی۔اگراسے لطیف نثرمیں لکھاجائے توشایدیوں ہوکہ یہ عجیب اعلان ہے!گویاایک طرف شعلوں کاوعدہ ہے،اوردوسری طرف بادلوں کی تسلی ہے۔
یہودیوں کیلئے آسودگی کی چھتری،اوراہلِ فلسطین کیلئے آندھی کی آغوش۔اس نقطے میں مغرب کی وہ نسلی برتری کھل کرظاہرہوتی ہے جس نے دنیاکودوسری جنگِ عظیم سے پہلے بھی جلایااوربعدمیں بھی۔آج بھی یہی دہرامعیاراقوامِ متحدہ کی پالیسیوں، انسانی حقوق کے قوانین،اورمیڈیاکے بیانیے میں واضح دکھائی دیتا ہے۔
دلچسپ تضادیہ ہے کہ نہ صرف مسلمان، بلکہ خودبہت سے یہودی بھی اسرائیل کے قیام کوایک مذہبی بغاوت سمجھتے ہیں۔ہر یہودی اسرائیل کے قیام کاحامی نہیں ہے،’’نیٹری کارتا‘‘ جیسافرقہ اسرائیل کو’’خدائی حکم کی خلاف ورزی‘‘اورایک مذہبی بغاوت تصورکرتے ہیں۔ان کے مطابق حقیقی یہودی تب تک وطن قائم نہیں کرسکتے جب تک ان کے عقیدے کے مطابق مسیحانہ آئے، یہودیوں کوکوئی ریاست قائم کرنے کی اجازت نہیں لیکن سیاسی صیہونیت نے مذہب کوآل کاربناکردنیاکویہ باورکرایاکہ اسرائیل کا قیام یہودیت کامذہبی تقاضا ہے۔اس طرح صیہونی سیاسی تحریک نے مذہب کوبھی اپنے سیاسی مفادکااسیربنالیاہے۔
یورپ میں یہودیوں کی نکاسی کومحض تعصب کہناتاریخ سے ناانصافی ہوگی۔صدیوں تک انہوں نے معاشی اجارہ داری،مالی سود خوری،اورخفیہ تنظیموں کے ذریعے ریاستی ڈھانچوں کو اندرسے کھوکھلاکرنے کی کوشش کی۔جرمنی،فرانس،پولینڈاورروس جیسے ممالک میں یہودیوں کی مسلسل بے دخلی محض تعصب کانتیجہ نہ تھی بلکہ اکثرمقامات پران کی مالیاتی اجارہ داری ،خفیہ ریشہ دوانیاں،اورثقافتی تصادم نے مقامی اکثریتی اقوام کوبرانگیختہ کیا۔گویاہراخراج کاپسِ منظرایک پیچیدہ سیاسی وتہذیبی کشمکش رکھتاہے۔یہ وہی فتنہ پرورسوچ تھی جس کا قرآن کریم میں بارہاذکرآیا:اورہم نے کتاب میں بنی اسرائیل سے کہہ دیاتھاکہ زمین میں دودفعہ فسادمچاگے اوربڑی سرکشی کروگے۔(الاسراء:4)
یہودیوں نے خلافتِ عثمانیہ سے فلسطین کے بدلے قرض اتارنے کاسوداکرناچاہا،جب عثمانی خلافت قرضوں کے بوجھ تلے دب رہی تھی،تب یہودی سرمایہ داروں نے فلسطین میں وطن کے بدلے قرض اتارنے کی پیش کش کی۔مگرسلطان عبدالحمید ثانی نے دوٹوک انکارکرکے تاریخ میں غیرتِ ایمانی کاایک روشن باب رقم کرتے ہوئے وہ تاریخی جملہ کہا:’’میں اپنی ریاست کواس طرح نہیں بیچ سکتاجیسے کوئی دودھ بیچنے والااپنی بالٹی بیچ دیتاہے اورمیں اپنے جسم کے زخموں پرصیہونی نمک نہیں چھڑکوں گا‘‘۔یہ انکارفقط سیاسی نہیں،بلکہ دینی غیرت اورایمان کامظہرتھا۔یہ پیشکش تردیدکے طومارمیں لپیٹ دی گئی اورخلافت نے آخری دم تک فلسطین کی حرمت کاسودانہ کیا۔
کیااسرائیل محض ایک قوم کی پناہ گاہ ہے؟یایہ سامراج کاایک مستقل قلعہ ہے جوتیل سے لبریزسرزمین پرپہرہ داری کافریضہ سرانجام دیتاہے؟اسرائیل مشرقِ وسطیٰ میں امریکااور مغرب کامستقل عسکری اڈہ ہے۔یہاں نہ توامن مطلوب ہے نہ ہی انصاف؛ بلاشبہ،اسرائیل کاوجودخطے میں امریکی عسکری وتجارتی مفادات کانگہبان ہے بلکہ مقصدصرف یہ ہے کہ اسرائیل کوبطور کرائے کے سپاہی استعمال کرکے مسلمانوں کوآپس میں لڑایاجائے اورخطے کے وسائل کولوٹاجائے۔ایک ایسادائمی چوکیدارجو مشرقِ وسطی میں کسی بھی ابھرتی ہوئی طاقت کوکچلنے کیلئے استعمال کیاجاسکتاہے۔
اسرائیل کے ذریعے مغرب نے اس خطے میں نہ صرف اپنے عسکری سازوسامان کی منڈی قائم کی بلکہ اپنی دفاعی صنعت کے مستقل صارف بھی تلاش کیے۔یہودی ریاست نے دنیا کی سب سے بڑی اسلحہ کی منڈیوں سے معاہدے کرکے مشرقِ وسطیٰ کو مستقل جنگ کامیدان بنادیا۔جنگیں برپاہوئیں،معاہدے ٹوٹے،اورہرسمت خون بہتارہامگراسلحے کی منڈی ہمیشہ گرم رہی۔مسلمان ریاستوں کوڈرایاگیا،دبایاگیا،اورمجبورکیاگیاکہ وہ اپنی دولت مغربی دفاعی صنعتوں کے قدموں میں نچھاورکردیں۔
یہودی لابیاں خصوصاامریکن اسرائیل پبلک افیئرکمیٹی جیسی تنظیمیں امریکی سیاست کواپنی گرفت میں لیے بیٹھی ہیں،میڈیا کنٹرول،بینکاری نظام،عدلیہ اورہالی ووڈجیسے میدانوں میں اس حد تک سرایت کرچکی ہیں کہ امریکی کانگریس اوریورپی پارلیمان بھی ان کے اشاروں پرچلنے لگے ہیں۔اب صورتحال یہ ہے کہ امریکااسرائیل کوسالانہ اربوں ڈالرزکی امداد دیتاہے اوراس کے بدلے میں پالیسی سازی میں بھی اسرائیل کی رائے غالب آتی ہے۔ہرشعبہ یہودی لابیوں کے زیرِاثرہے۔اب وہ وقت آچکاہے کہ اسرائیل نہ صرف خودمختار ریاستوں کوبلیک میل کرتاہے بلکہ اقوامِ متحدہ جیسے اداروں کوبھی محض ایک کٹھ پتلی بناچکاہے۔
1956میں جب اسرائیل،برطانیہ اورفرانس نے مصرپرحملہ کیاتوسویزبحران وہ واحدلمحہ تھاجب امریکی صدرآئزن ہاورنے دباؤ ڈال کراسرائیل کوپیچھے ہٹنے پرمجبورکردیا۔یہ اس وقت ممکن ہواکیونکہ تب امریکاخودمختاراوراس کی سامراجی خوداعتمادی مضبوط اورصیہونی گرفت سے آزادتھی۔آج حالات یکسربدل چکے ہیں،اب فیصلہ کن قوتیں نیویارک اور واشنگٹن کی لابیوں میں بیٹھتی ہیں۔آج وہ صیہونی لابیوں کاقیدی ہے۔
کیااسرائیل کی موجودگی ایک فوبیاہے جسے خلیجی حکمرانوں پرمسلط کرکے ان کی خودمختاری کودبوچاگیا؟اسرائیل کوایک بھوت بناکرخلیجی حکومتوں کوامریکاکے زیرِنگیں رکھاگیا۔ہرنیا معاہدہ،ہردفاعی خریداری،اسی خوف کانتیجہ ہے۔یہ نوراکشتی دراصل ایک سوچاسمجھاکھیل ہے جس میں امریکابظاہراسرائیل کوقابومیں رکھتادکھائی دیتاہے مگردراصل دونوں مل کر عرب دنیا کواپنے مفادات کے تابع رکھتے ہیں تاکہ امتِ مسلمہ بیدارنہ ہواوروہ ہمیشہ غیرملکی سہاروں پرانحصارکرتی رہے۔
چین نے اپنی خاموش مگرٹھوس معاشی حکمتِ عملی سے مشرقِ وسطی میں نئی صف بندی شروع کردی ہے۔چین کی ابھرتی ہوئی معاشی قوت نے خلیجی ممالک کوایک نئے افق کی جانب متوجہ کیاہے۔امریکاکی مسلسل ڈکٹیشن کے برخلاف،چین کی پالیسی’’عدمِ مداخلت اورباہمی مفاد‘‘پرمبنی ہے۔خلیجی ممالک اب امریکی کنٹرول سے نالاں ہوکرچین کی جانب بڑھ رہے ہیں۔چینی سرمایہ کاری،سستے قرضے اورعدمِ مداخلت کی پالیسی نے انہیں متوجہ کیاہے۔یہ ایک نیاتوازن ہے جس سے مسلمانوں کوفائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے۔
یمن کے مسئلے پرایران وسعودی عرب کے درمیان چین کی ثالثی ایک تاریخی کامیابی ہے۔یمن میں سعودی عرب اورایران کی مصالحت،جوچین کی ثالثی سے ممکن ہوئی،اس غیر معمولی عمل نے چین کوایک غیرجانبداراورقابلِ اعتمادقوت کے طورپرمنوایا ہے۔اس کے نتیجے میں خطے میں امریکاکی گرفت کمزورپڑرہی ہے اس عمل نے چین کونہ صرف ایک معاشی پارٹنربلکہ ایک سفارتی طاقت کے طورپرمنوایاہے۔امریکاکیلئے یہ صورتحال خطرے کی گھنٹی ہے،جس پروہ مستقبل میں کوئی جوابی کارروائی ضرورکرے گا۔
ٹرمپ کے دورہ سعودی عرب میں400ارب ڈالرسے زائدکے معاہدے محض معاشی لین دین نہ تھے بلکہ امریکی دباؤکی ایک بدترین مثال تھے۔ان معاہدوں کے ذریعے امریکا نے خلیجی خزانے کواپنے مفادات کیلئے استعمال کیا۔اس سرمایہ کاری کامقصدخلیجی دولت کوامریکی معیشت کی سانسوں کاآکسیجن بناناتھا۔یہ معاہدے سیاسی توازن کوبگاڑنے کی ایک چال تھے۔(جاری ہے)