قطر سے بیت المقدس تک: تاریخ کا خونچکاں تسلسل

سمیع اللہ ملک(پہلی قسط)
مشرقِ وسطیٰ کی تاریخ بارہااس امرکی گواہ رہی ہے کہ یہاں کی زمین باروداورسازشوں کی جولانگاہ بنی رہی۔مشرقِ وسطیٰ ہمیشہ سے عالمی طاقتوں کے کھیل کامیدان رہاہے۔سلطنتِ عثمانیہ کے زوال کے بعداس خطے کی سرزمین پرکبھی تیل کی خاطرجنگ لڑی گئی،کبھی مذہب کے نام پرتصادم ہوا،اورکبھی عالمی سیاست کے شطرنجی کھلاڑیوں نے یہاں کے عوام کو ایندھن بنایا۔یہ سرزمینِ مشرقِ وسطی،جہاں انبیائے کرام کے قدموں کی خوشبورچی بسی ہے،جہاں بیت المقدس کے مینارآج بھی اذان کی صدابلندکرتے ہیں، اورجہاں امتِ مسلمہ کے شہداکاخون زمین کی رگوں میں دوڑتاہے،ایک بارپھرظلم وستم کی آندھیوں میں گھری ہوئی ہے۔آج ہم ایک ایسے سانحے پرگفتگوکیلئے جمع ہیں جس نے امتِ مسلمہ کے دلوں کولرزادیاہے۔دوحہ کی سرزمین،جوامن کی علامت سمجھی جاتی تھی،اسرائیلی بمباری کی زدمیں آگئی ہے۔ یہ حملہ محض قطرپرنہیں،یہ ہماری غیرت،ہماری عزت،اورہمارے ایمان پر ایک کھلاوارہے۔
اسرائیلی جارحیت کے تازہ باب نے ایک بارپھردنیاکوچونکادیاہے۔دوحہ پرحملہ نہ صرف قطرکیلئیایک براہِ راست چیلنج ہے بلکہ عالمی سیاست کے ایوانوں کیلئے بھی ایک نیاامتحان ہے۔دوحہ پراسرائیلی حملہ محض ایک عسکری کارروائی نہیں؛یہ دراصل ایمان والوں کی غیرت کوللکارنے کی کوشش ہے۔یہ وہی آوازِباطل ہے جوکبھی صلیبی جنگوں کے لشکروں میں گونجی تھی،اوروہی خنجر ہے جوکبھی بغداد کے گلی کوچوں میں چمکاتھا۔آج اسرائیل کے دوحہ پرحملے نے ایک نئی بحث چھیڑدی ہے۔یہ محض قطرکی خود مختاری پرحملہ نہیں بلکہ عالمی سیاست کے تضادات کاآئینہ ہے۔اس پس منظرمیں امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات،قطرکی پالیسی، اورمسلم دنیاکے ردِ عمل کوسمجھناناگزیرہے۔
ٹرمپ نے اسرائیلی حملے پرغصے،ناراضگی اورمایوسی کااظہارکرتے ہوئے کہاکہ وہ اس حملے سے خوش نہیں ہیں لیکن مسلم دنیا ان کے بیان پراعتبار کرنے کوتیارنہیں،اوراس بیان کو شک کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں۔مسلم دنیانیان کے بیان کومحض سفارتی لفاظی سمجھا۔تاریخ گواہ ہے کہ یہ وہی امریکاہے جس نے فلسطینیوں کی نسل کشی پرخاموشی اختیارکی،جب فلسطین کالہوبہایاگیا،اس وقت بھی امریکی صدورنے مذمت کے جملے کہے مگرپالیسی ہمیشہ اسرائیل اورجارحیت کے حق میں رہی۔یہی جس نے عراق کوکھنڈر بنایا،جس نے افغانستان کودہائیوں تک بارودکی آماجگاہ بنایا۔عوام بخوبی جانتے ہیں کہ ان کے بیانات میں سچائی کم اورمصلحت زیادہ ہوتی ہے۔
ان کے نزدیک یہ مذمتی الفاظ ایک روایتی سفارتی فقرہ ہیںیہ کھلاتضادآج بھی لوگوں کوبے یقینی کی طرف لے جاتاہے۔تاریخ نے یہ سبق دیاہے کہ امریکی صدورکے مذمتی جملے اکثر الفاظ کی حدتک محدودرہتے ہیں۔فلسطین سے عراق تک کی کہانیوں نے عوام کے اذہان میں یہ یقین راسخ کردیاہے کہ امریکاکے لب ولہجے اورعملی اقدامات میں زمین وآسمان کا فرق ہے۔لیکن امتِ مسلمہ کے اذہان سوال کرتے ہیں:کیا یہی امریکانہیں جس نے فلسطین کے لہوپرآنکھیں بندرکھیں؟کیایہی امریکانہیں جس نے عراق کوکھنڈربنایا؟کیایہی
امریکا نہیں جس نے افغانستان کولہومیں نہلایا؟ہم کیسے ان بیانات پریقین کرلیں جوصدیوں سے محض لفظی فریب ثابت ہوئے ہیں؟عملی اقدامات میں ان کاعکس کم ہی دکھائی دیا۔ عوام سمجھتے ہیں کہ اگرامریکااسرائیل کے معاملے میں واقعی غیرجانبدارہوتاتوآج فلسطین کی سرزمین لہومیں نہ نہائی ہوتی۔
ٹرمپ کا یہ کہنا کہ وہ مشرقِ وسطی کے کسی واقعے پر حیران نہیں ہوتے، دراصل ایک تاریخی رویے کی جھلک، سیاسی پردہ پوشی اورمنافقت کااعتراف ہے۔بظاہربے بسی کااظہارہے، مگردراصل یہ سازش کاپردہ بھی ہوسکتاہے۔یہ جملہ گویااعتراف ہے کہ خطے کے خونریزکھیل پرامریکاکی خاموشی محض لاعلمی نہیں،بلکہ ایک سوچی سمجھی حکمتِ عملی ہے۔امریکاہمیشہ اسرائیل کی غیرمتوازن جارحیت کونظراندازکرتاآیاہے۔یہ بیان گویااس امرکااعلان ہے کہ اسرائیلی خودسری پرواشنگٹن کی خاموشی کوئی نئی بات نہیں۔یہاں سوال یہ پیداہوتاہے کیایہ واقعی بے بسی ہے یاپھروہی پرانی نظربندحکمتِ عملی جواسرائیل کوکھلی چھوٹ دیتی ہے؟امریکاکیلئے اسرائیل کی ہرجارحیت ایک معمول ہے۔سوال یہ ہے کہ اگرامریکاحیران نہیں ہوتاتوپھرکب بیدارہوگا؟یاشایدیہ سکوتِ رضا ہے جواسرائیل کی ہربربریت کوڈھانپ لیتاہے لیکن بین السطور سازش کی وہ مہک ہے جوتاریخ کے اوراق میں بارہامحسوس کی جا چکی ہے۔یہ الفاظ گویااعترافِ جرم بھی ہیں اورچشم پوشی کااقراربھی۔
اسرائیل کی جارحیت نئی نہیں۔1982میں بیروت پربمباری،2006میں لبنان کی اینٹ سے اینٹ بجانا،2008اور2014میں غزہ پرقیامت خیزحملییہ سب مظاہرہ اسی تسلسل کاہے۔اسرائیل نے ہمیشہ اپنی جارحیت سے خطے کولرزایاہے۔غزہ ہویالبنان،شام ہویاایران،سب اس کی بربریت کے گواہ ہیں۔اسرائیل نے غزہ،لبنان،شام اور ایران پربمباری کی؛یہ سب دنیانے دیکھامگرقطرپرحملہ چونکادینے والاتھا۔ قطروہ ملک ہے جہاں امریکاکاسب سے بڑااڈہ ’’العدید‘‘قائم ہے۔یہی تضادثابت کرتاہے کہ اسرائیل اب واشنگٹن کی ہدایات کامحتاج نہیں، بلکہ وہ خودکوخطے کابے لگام مالک سمجھنے لگاہے۔
اسرائیل نے پہلے ہی دنیاکوباورکرادیاہے کہ وہ امریکی سرپرستی میں پورے خطے کواپنی عسکری طاقت کاشکاربناسکتاہے۔ہرطرف بارودکی بارش اس کے اختیارمیں ہے مگردوحہ پرحملہ اس لیے غیرمعمولی ہے کہ قطرنہ صرف امریکاکاقریبی اتحادی ہے بلکہ وہاں امریکی فضائی اڈہ بھی موجودہے۔اس سے یہ سوال جنم لیتاہے کہ کیااسرائیل اب واشنگٹن کے اثرسے آزادہوچکاہے یاپھریہ کھیل امریکی اشارے پرہی کھیلاگیا؟سوال یہ ہے کہ کیاقطرپرحملے کی جرات امریکی مصلحتوں کے دائرے سے باہردکھائی دیتی ہے؟یہی تضاداس جنگی کھیل کومزید پیچیدہ بناتاہے۔یہ تضادعالمی سیاست کی سب سے بڑی گتھی ہے کہ امریکااپنے ہی اڈے کے سائے میں ہونے والے حملے پرمحض لفظی مذمت پراکتفاکرتاہے۔اے اہلِ اسلام!سوچو!اگرایک ایساملک جس کی سرزمین پرامریکی افواج محفوظ نہیں،توپھرکون محفوظ ہے؟اس پرکیسے یقین کیاجائے کہ اب اسرائیل امریکا کوبھی خاطرمیں نہیں لاتا؟
قطر کے حکمران خاندان نے ہمیشہ واشنگٹن کے ساتھ قریبی تعلقات رکھے ہیں۔العدیداڈہ امریکی فضائیہ کاسب سے بڑامرکزہے۔اب جب کہ انہی فضاؤں پراسرائیلی بمباری ہوئی ہے توقطرکی قیادت کاسوال بجاہے کہ امریکااپنے اتحادی کی سلامتی کی ضمانت کیوں نہ دے سکا؟قطراب براہِ راست امریکاکے سامنے سوالیہ نشان بن کرکھڑاہے۔جب ان کے ملک کی فضاں میں امریکی طیارے موجودہیں تو پھراسرائیلی بم کیسے گرسکتے ہیں؟وہ کیسے خاموش رہ سکتاہے جبکہ اس کے اپنے وطن میں امریکی افواج کے طیارے پروازکرتے ہیں اورانہی فضاؤں کواسرائیلی جارحیت نے روندڈالاہے؟ 
کیسے ممکن ہے کہ جس سرزمین سے امریکی طیارے پرواز کرتے ہیں،اسی سرزمین پراسرائیلی بمباری ہواورواشنگٹن اس پرخاموش رہے؟یہ سوال محض ایک ریاستی شکایت نہیں،بلکہ واشنگٹن کے کردارپرایک کھلامقدمہ ہے۔یہ سوال نہ صرف قطرکاہے بلکہ پوری مسلم دنیاکاہے۔یہ سوال محض سفارتی نہیں بلکہ اعتماداورعزت کابھی ہے۔یہ سوال محض قطرکانہیں، بلکہ عالمی سیاست کے ایوانوں پر ایک کڑاامتحان ہے۔
قطری وزیراعظم اورامیردونوں نے اسرائیلی حملے کومجرمانہ لاپرواہی اورریاستی دہشتگردی قراردیا۔یہ اعلان محض غصے کانہیں بلکہ عالمی قانون کی عدالت میں ایک مضبوط گواہی ہے کہ اسرائیل کی کارروائیاں محض عسکری حملے نہیں بلکہ ریاستی سطح پر دہشتگردی کی بدترین مثال ہیں۔یہ الفاظ بین الاقوامی قانون کے تناظرمیں غیرمعمولی اہمیت رکھتے ہیں۔یادرہے کہ 1970 کی دہائی میں جب عراق اورکویت کے مابین تنازعہ ہوا،تب بھی ریاستی جارحیت کاتصورعالمی سطح پرابھراتھا۔آج قطراسی زبان میں بات کررہا ہے،جس سے واضح ہوتاہے کہ اسرائیل کی حرکت محض ایک جنگی اقدام نہیں بلکہ عالمی نظام کے خلاف بغاوت ہے۔
قطرکے وزیراعظم کایہ اعلان محض غصے کااظہارنہیں بلکہ ایک عالمی اصول کی تصدیق ہے۔تاریخ یاددلاتی ہے کہ جب1990میں کویت پرحملہ ہواتھاتودنیانے اسے ریاستی جارحیت کہا۔آج قطراسی اصول کے تحت اسرائیل کے خلاف کھڑاہے۔قطرکے امیرنے اسرائیلی اقدام کومجرمانہ کارروائی اورریاستی دہشت گردی قراردیا۔یہ الفاظ ہمیں یاددلاتے ہیں کہ چھوٹے ملک بھی جب غیرت سے بولتے ہیں توتاریخ میں اپنی جگہ بناتے ہیں،یہ وہی لہجہ ہے جوکبھی صلاح الدین ایوبی نے کہاتھا:ہم بیت المقدس کوآزادکئے بغیردم نہ لیں گے۔
(جاری ہے)