ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے اپنے تازہ بیان میں واضح کیا ہے کہ ایران دھمکیوں اور دباؤ کے سائے میں کسی بھی قسم کے مذاکرات کو قبول نہیں کرے گا۔
سوشل میڈیا پر جاری پیغام میں انہوں نے کہا کہ امریکی رویہ، خصوصاً سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں کے تناظر میں، مذاکرات کو “ہتھیار ڈالنے کے عمل” میں تبدیل کرنے کی کوشش ہے، جو ایران کے لیے ناقابل قبول ہے۔ ان کے مطابق مذاکرات کا مقصد برابری اور احترام ہونا چاہیے، نہ کہ دباؤ یا طاقت کا استعمال۔باقر قالیباف نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز جیسے حساس خطے میں کشیدگی اور ممکنہ ناکہ بندی کے خدشات کو استعمال کر کے سیاسی دباؤ ڈالنا غیر مؤثر ہے، اور ایران ایسے کسی بھی حربے کے آگے جھکنے کو تیار نہیں۔دوسری جانب ایران کے نائب وزیر خارجہ سعید خطیب زادے نے بھی اپنے انٹرویو میں کہا کہ امریکہ کو چاہیے کہ وہ غیر حقیقی مطالبات سے پیچھے ہٹے اور ایرانی عوام کے حقوق کا احترام کرے۔ ان کے مطابق بحران کا واحد حل سفارت کاری ہے، نہ کہ طاقت کا استعمال۔
اسی طرح ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ ایران کو مذاکرات میں امریکی سنجیدگی نظر نہیں آ رہی، اور اگر ماضی کی غلطیاں دہرائی گئیں تو ایران سخت اور فیصلہ کن ردعمل دے گا۔مجموعی طور پر ایرانی قیادت کا مؤقف ہے کہ مذاکرات صرف اس صورت ممکن ہیں جب فریقین برابر کی بنیاد پر بات کریں، اور کسی قسم کی فوجی یا معاشی دھمکی کو مکمل طور پر مسترد کیا جائے۔