فلسفہ اقبال میں آج بھی مسائل کا حل ہے

 ڈاکٹر مزمل اقبال ہاشمی
برصغیر کے عظیم مفکر اور شاعرِ مشرق علامہ محمد اقبال نے اپنی شاعری کے ذریعے جس طبقے کو سب سے زیادہ مخاطب کیا، وہ نوجوان تھے۔ اقبال کے نزدیک قوموں کی تقدیر نوجوانوں کے ہاتھ میں ہوتی ہے، اس لیے انہوں نے اپنے کلام میں بارہا نوجوانوں کو بیداری، خودی، عمل اور بلند حوصلگی کا درس دیا۔ اقبال کا پیغام محض شاعری نہیں بلکہ ایک فکری انقلاب ہے، جو آج بھی اسی شدت کے ساتھ ہماری رہنمائی کرتا ہے۔ موجودہ دور کے نوجوان، جو فکری انتشار، بے یقینی اور عملی کمزوری کا شکار ہیں، اقبال کی شاعری میں اپنے لیے واضح راستہ پا سکتے ہیں۔
اقبال کی شاعری کا بنیادی تصور ‘‘خودی’’ ہے۔ وہ نوجوانوں کو خودی کی پہچان سکھاتے ہیں، یعنی اپنی اصل طاقت، صلاحیت اور مقصد کو جاننا۔ اقبال کہتے ہیں کہ جو شخص اپنی خودی کو پہچان لیتا ہے، وہ دنیا کی کسی بھی طاقت کے آگے جھکنے کو تیار نہیں ہوتا۔ آج کا نوجوان اگر اپنی پہچان کھو دے تو وہ دوسروں کی تقلید میں اپنی صلاحیتیں ضائع کر دیتا ہے۔ اقبال اس اندھی تقلید کے سخت مخالف ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ نوجوان اپنے اندر اعتماد پیدا کریں، اپنی سوچ کو آزاد رکھیں اور اپنی منزل خود طے کریں۔
اقبال کے کلام میں عمل کی اہمیت بھی بار بار اجاگر ہوتی ہے۔ وہ محض خواب دیکھنے یا باتیں کرنے کے قائل نہیں بلکہ عملی جدوجہد پر زور دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک زندگی حرکت کا نام ہے، جمود موت کے برابر ہے۔ آج کا نوجوان اکثر سوشل میڈیا اور وقتی تفریح میں کھو کر اپنی صلاحیتوں کو ضائع کر رہا ہے۔ اقبال ایسے نوجوان کو جھنجھوڑتے ہوئے کہتے ہیں کہ اگر تم نے وقت کی قدر نہ کی تو تمہاری پہچان مٹ جائے گی۔ ان کا پیغام واضح ہے: محنت، جدوجہد اور مسلسل عمل ہی کامیابی کی ضمانت ہیں۔

اقبال نوجوانوں کو بلند حوصلہ اور بڑی سوچ رکھنے کی تلقین بھی کرتے ہیں۔ وہ انہیں شاہین سے تشبیہ دیتے ہیں، جو بلند پرواز کرتا ہے، اپنی خوراک خود تلاش کرتا ہے اور کبھی مردار پر نہیں جیتا۔ اس تمثیل کے ذریعے اقبال یہ سمجھاتے ہیں کہ نوجوان کو خوددار، باہمت اور خود کفیل ہونا چاہیے۔ آج کے دور میں جب آسان راستے اور شارٹ کٹس کو کامیابی سمجھ لیا گیا ہے، اقبال کا یہ پیغام اور بھی زیادہ اہم ہو جاتا ہے کہ اصل کامیابی محنت اور اصولوں پر قائم رہنے سے حاصل ہوتی ہے۔

اقبال کی شاعری میں امتِ مسلمہ کا درد بھی نمایاں ہے۔ وہ نوجوانوں کو صرف ذاتی کامیابی تک محدود نہیں رکھتے بلکہ انہیں اجتماعی ذمہ داری کا احساس دلاتے ہیں۔ ان کے نزدیک ایک نوجوان صرف اپنی ذات کے لیے نہیں بلکہ اپنی قوم اور ملت کے لیے بھی جواب دہ ہے۔ آج کا نوجوان اگر اپنی ذمہ داریوں کو سمجھے اور معاشرے کی بہتری کے لیے کردار ادا کرے تو بہت سی سماجی برائیاں خود بخود ختم ہو سکتی ہیں۔
اقبال نوجوانوں کو علم کی اہمیت بھی سمجھاتے ہیں، لیکن وہ صرف کتابی علم کے قائل نہیں بلکہ ایسے علم کو ترجیح دیتے ہیں جو انسان کی سوچ اور کردار کو سنوارے۔ آج کے تعلیمی نظام میں اکثر ڈگری کو کامیابی کا معیار سمجھ لیا گیا ہے، جبکہ اقبال کے نزدیک اصل علم وہ ہے جو انسان کو خود آگاہی دے اور اسے عملی میدان میں کامیاب بنائے۔ نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ صرف امتحانات کے لیے نہیں بلکہ زندگی کے لیے سیکھیں۔

 اقبال نوجوانوں کو مایوسی سے بچنے کی تلقین کرتے ہیں۔ وہ امید، یقین اور مثبت سوچ کو کامیابی کی بنیاد قرار دیتے ہیں۔ موجودہ حالات میں، جہاں بے روزگاری، مہنگائی اور عدم استحکام نے نوجوانوں کو پریشان کر رکھا ہے، اقبال کا پیغام انہیں حوصلہ دیتا ہے کہ مشکلات عارضی ہیں اور محنت کرنے والوں کے لیے راستے ہمیشہ کھلتے ہیں۔ وہ نوجوان کو یہ یقین دلاتے ہیں کہ اگر تم اپنے مقصد پر قائم رہو گے تو کامیابی ضرور ملے گی۔
اقبال کی شاعری کا ایک اہم پہلو روحانیت بھی ہے۔ وہ نوجوانوں کو اللہ سے تعلق مضبوط کرنے کی تلقین کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک روحانی طاقت ہی اصل طاقت ہے، جو انسان کو ہر مشکل میں ثابت قدم رکھتی ہے۔ آج کے مادی دور میں، جہاں انسان صرف دنیاوی کامیابی کے پیچھے بھاگ رہا ہے، اقبال کا یہ پیغام نہایت اہم ہے کہ روحانی سکون کے بغیر حقیقی کامیابی ممکن نہیں۔
آج کا نوجوان اگر اقبال کے پیغام کو سمجھ لے اور اسے اپنی زندگی کا حصہ بنا لے تو نہ صرف اپنی تقدیر بدل سکتا ہے بلکہ اپنی قوم کو بھی ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اقبال کی شاعری کو محض نصاب یا تقریبات تک محدود نہ رکھیں بلکہ اسے اپنی عملی زندگی میں نافذ کریں۔

آج ہم جس دور سے گزر رہے ہیں، وہ بے شمار چیلنجز سے بھرا ہوا ہے۔ معاشی دباؤ، سیاسی بے یقینی، تعلیمی بحران اور اخلاقی انحطاط نے نوجوانوں کو ایک الجھن میں مبتلا کر دیا ہے۔ سوشل میڈیا نے جہاں معلومات تک رسائی آسان بنائی ہے، وہیں ذہنی انتشار اور بے مقصدیت کو بھی بڑھایا ہے۔ نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد یا تو مایوسی کا شکار ہے یا پھر آسان راستوں کی تلاش میں اپنی اصل صلاحیتوں سے دور ہوتی جا رہی ہے۔

ایسے حالات میں علامہ محمد اقبال کی شاعری ہمارے لیے روشنی کا مینار ثابت ہو سکتی ہے۔ اقبال ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ حالات جیسے بھی ہوں، اصل طاقت انسان کے اندر ہوتی ہے۔ ان کا پیغام ہے کہ نوجوان اپنی خودی کو پہچانیں، اپنے اندر اعتماد پیدا کریں اور دوسروں کے سہارے کے بجائے اپنی قوتِ ارادی پر بھروسہ کریں۔ وہ ہمیں یہ بھی سکھاتے ہیں کہ مایوسی کفر کے مترادف ہے اور امید ہی وہ قوت ہے جو انسان کو آگے بڑھاتی ہے۔

علامہ اقبال کی تعلیمات  ہر دور کے اندر مشعل راہ ہیں، اپنے موجودہ حالات   کے مسائل  میں  ہم ان کی شاعری سے سے رہنمائی حاصل کر سکتے ہیں۔ آج کے پاکستان میں بڑھتی ہوئی تقسیم، سیاسی کشیدگی اور سماجی افتراق اس بات کے متقاضی ہیں کہ ہم اقبال کے پیغام کو ازسرِ نو سمجھیں۔ اقبال ہمیں سکھاتے ہیں کہ اختلاف رائے کو دشمنی میں بدلنے کے بجائے فکری بالیدگی اور اجتماعی بہتری کا ذریعہ بنایا جائے۔ ان کا تصورِ ملت ہمیں ذات، زبان اور مفاد سے بالاتر ہو کر ایک بڑے قومی مقصد کے لیے متحد ہونے کی دعوت دیتا ہے۔

اگر ہم اقبال کی تعلیمات خودی کی پہچان، اتحادِ امت، اور عمل کی قوت کو اپنی عملی زندگی کا حصہ بنا لیں تو نہ صرف داخلی انتشار کا خاتمہ ممکن ہے بلکہ پاکستان ایک مضبوط، باوقار اور باہم جڑا ہوا معاشرہ بن سکتا ہے۔ آج کی ضرورت یہی ہے کہ ہم اقبال کو صرف اشعار تک محدود نہ رکھیں بلکہ ان کے فکر کو اپنی قومی پالیسی اور سماجی رویوں میں جگہ دیں۔

اقبال کے نزدیک مسائل کا حل کسی بیرونی تبدیلی میں نہیں بلکہ اندرونی اصلاح میں ہے۔ اگر نوجوان اپنے کردار کو مضبوط کریں، علم کو مقصد کے ساتھ حاصل کریں اور عملی جدوجہد کو اپنا شعار بنائیں تو وہ نہ صرف اپنے مسائل حل کر سکتے ہیں بلکہ معاشرے میں مثبت تبدیلی بھی لا سکتے ہیں۔ اقبال کی شاعری ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ قوموں کی تقدیر بدلنے کے لیے پہلے فرد کو بدلنا پڑتا ہے۔

یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ موجودہ حالات کا حل نہ تو مایوسی میں ہے اور نہ ہی فرار میں، بلکہ اقبال کے بتائے ہوئے راستے پر چلنے میں ہے۔خودی کی پہچان، مسلسل عمل، بلند حوصلہ اور اللہ پر کامل یقین، اگر آج کا نوجوان اس پیغام کو اپنالے تو وہ نہ صرف اپنی زندگی سنوار سکتا ہے بلکہ ایک مضبوط، باوقار اور ترقی یافتہ معاشرے کی بنیاد بھی رکھ سکتا ہے۔

نہیں ہے ناامید اقبال? اپنی کشت ویراں سے
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی