فیضانِ علی ہجویری اور آج کا معاشرہ

محمد ندیم بھٹی
لاھور کی سرزمین صدیوں سے روحانیت، علم اور محبت کا گہوارہ رھی ھے، مگر اس شہر کی اصل پہچان اگر کسی ایک ہستی سے جڑی ھے تو وہ حضرت علی بن عثمان ہجویری ہیں۔ آپ کا مزار، جسے آج داتا دربار کہا جاتا ھے، نہ صرف ایک مذہبی مقام بلکہ انسانیت، اخوت اور روحانی فیضان کا ایسا مرکز ھے جہاں ہر طبقے، ہر رنگ اور ہر نسل کے لوگ آ کر سکون محسوس کرتے ہیں۔ یہ وہ دربار ھے جہاں نہ کوئی امیر ھے نہ غریب، نہ کوئی بڑا ھے نہ چھوٹا، بلکہ سب برابر ہیں، سب محتاج ہیں اور سب فیض کے طلبگار ہیں۔
حضرت داتا گنج بخش کی تعلیمات کا بنیادی نکتہ محبت، برداشت اور انسان دوستی ھے۔ آپ نے اپنی شہرہ آفاق تصنیف "کشف المحجوب" میں تصوف کے ایسے اصول بیان کیے جو آج بھی رہنمائی کا سرچشمہ ہیں۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ھے کہ آج کا معاشرہ ان تعلیمات سے دور ھوتا جا رہا ھے۔ ہم نے مذہب کو رسموں تک محدود کر دیا ھے، جبکہ داتا گنج بخش نے دین کو عمل، اخلاق اور کردار کا نام دیا تھا۔
آج کے دور میں نفرت، حسد، خود غرضی اور مادہ پرستی نے انسان کو انسان سے دور کر دیا ھے۔ رشتے کمزور ھو رہے ہیں، بھائی بھائی کا دشمن بن رہا ھے، اور معاشرتی اقدار زوال کا شکار ہیں۔ ایسے میں اگر کوئی روشنی کی کرن ھے تو وہ انہی صوفیائے کرام کی اسلامی تعلیمات ہیں جنہوں نے ہمیشہ محبت، صبر اور رواداری کا درس دیا۔ داتا دربار آج بھی ہمیں یہی پیغام دیتا ھے کہ انسان بنو، دوسروں کے دکھ درد کو سمجھو، اور اپنی ذات سے نکل کر معاشرے کے لیے جیو۔
یہ حقیقت بھی اپنی جگہ اہم ھے کہ داتا دربار صرف عبادت کی جگہ نہیں بلکہ ایک سماجی مرکز بھی ھے۔ یہاں روزانہ ہزاروں افراد لنگر کھاتے ہیں، مسافر ٹھہرتے ہیں، اور دکھی دل سکون پاتے ہیں۔ یہ سب کچھ اس بات کا ثبوت ھے کہ حضرت داتا گنج بخش کا فیضان آج بھی جاری ھے۔ مگر سوال یہ ھے کہ کیا ہم نے اس فیضان سے صحیح معنوں میں فائدہ اٹھایا ؟ کیا ہم نے ان تعلیمات کو اپنی عملی زندگی کا حصہ بنایا ؟
 چیف منسٹر  محترمہ  مریم  نواز کی  حالیہ  بیورو کریسی میں  ردو بدل اور  انتظامی سطح پر ھونے والی اصلاحات کا ذکر بھی ضروری ھے۔ ڈاکٹر احسان  بھٹہ کی تعیناتی  ایک اھم فیصلہ  تھا اور  بھٹہ  صاحب کی قیادت میں داتا دربار کے  ایڈمنسٹریٹر  محمد علی خان کی نظم و نسق میں نمایاں بہتری دیکھنے میں آئی ھے۔ بالخصوص فنڈ ریزنگ کے نظام میں جو  مثبت تبدیلیاں لائی گئیں ہیں، ان کے اعلی مثبت اثرات سامنے آئے ہیں۔ وہ افراد جو عقیدت کے طور پر نظرانے پیش کرتے تھے، اس میں تقریباً تیس فیصد تک اضافہ سیکریٹری  اوقاف پنجاب ڈاکٹر احسان  بھٹہ کی اعلی  حکمت عملی سے ھوا ھے، جو ایک غیر معمولی پیش رفت ھے۔
یہ اضافہ صرف اعداد و شمار تک محدود نہیں بلکہ اس بات کی علامت ھے کہ عوام کا اعتماد بحال ھو رہا ھے۔ اسی طرح زائرین کی جانب سے براہِ راست عطیات گلوں میں ڈالنے کے عمل کو بھی بہتر طریقے سے منظم کیا گیا ھے، جس سے شفافیت اور ذمہ داری میں اضافہ ھوا ھے۔ ماضی میں جہاں بے ترتیبی اور غیر واضح نظام کی شکایات سامنے آتی تھیں، اب ایک منظم اور مربوط طریقہ کار کے تحت امور انجام دیے جا رھے 
ہیں۔
یہ کہنا بے جا نہ ھوگا کہ ان اصلاحات کے پیچھے بنیادی کردار سیکرٹری اوقاف کا ھے، جنہوں نے نہ صرف نظام کو بہتر بنایا بلکہ اسے ایک جدید، شفاف اور قابلِ اعتماد ڈھانچے میں ڈھالنے کی کوشش کی۔ اس کا براہِ راست فائدہ نہ صرف ادارے کو ھوا بلکہ عام زائرین اور عقیدت مندوں کا اعتماد بھی مضبوط ھوا ھے۔
بدقسمتی سے ہم نے مزاروں پر حاضری کو ہی دین سمجھ لیا ھے، جبکہ اصل دین کردار کی اصلاح اور اخلاق کی بہتری ھے۔ داتا گنج بخش نے کبھی ظاہری عبادات پر زور نہیں دیا بلکہ باطن کی صفائی، نیت کی درستگی اور دل کی پاکیزگی کو اہمیت دی۔ آج اگر ہم اپنے دلوں کو صاف کر لیں، دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کریں اور سچائی کو اپنا شعار بنا لیں تو یہی اصل فیضان ھے۔
ہمارے معاشرے میں بڑھتی ھوئی بے چینی، ذہنی دباؤ اور مایوسی اس بات کا واضح ثبوت ھے کہ ہم نے روحانیت سے ناتا توڑ لیا ھے۔ داتا دربار جیسے مقامات ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ سکون دولت، طاقت یا شہرت میں نہیں بلکہ اللہ کی یاد اور انسانیت کی خدمت میں ھے۔ یہی وہ فلسفہ ھے جسے حضرت علی ہجویری نے اپنی زندگی کے ذریعے ثابت کیا۔
یہ بھی ایک تلخ حقیقت ھے کہ آج ہم مذہب کے نام پر تقسیم کا شکار ہیں۔ فرقہ واریت، شدت پسندی اور عدم برداشت نے معاشرے کو کھوکھلا کر دیا ھے۔ جبکہ داتا گنج بخش کی تعلیمات اس کے بالکل برعکس ہیں۔ آپ نے ہمیشہ اتحاد، بھائی چارے اور امن کا درس دیا۔ آپ کے دربار پر آج بھی ہر مسلک، ہر فرقے اور ہر مذہب کے لوگ آتے ہیں، جو اس بات کا ثبوت ھے کہ اصل دین انسانیت ھے۔
ضرورت اس امر کی ھے کہ ہم داتا گنج بخش کی تعلیمات کو محض کتابوں اور تقریروں تک محدود نہ رکھیں بلکہ انہیں اپنی عملی زندگی میں نافذ کریں۔ ہمیں اپنے رویوں میں نرمی، اپنے الفاظ میں محبت اور اپنے اعمال میں اخلاص پیدا کرنا ھوگا۔ یہی وہ راستہ ھے جو ہمیں ایک بہتر معاشرہ بنانے میں مدد دے سکتا ھے۔
آج جب دنیا تیزی سے ترقی کر رھی ھے، ٹیکنالوجی نے فاصلے کم کر دیے ہیں، مگر دلوں کے فاصلے بڑھ گئے ہیں۔ ایسے میں داتا دربار ہمیں یہ سبق دیتا ھے کہ اصل ترقی انسانیت کی ترقی ھے، نہ کہ صرف مادی وسائل کی۔ اگر ہم نے اپنی اخلاقی اقدار کو مضبوط نہ کیا تو یہ ترقی بے معنی ھو جائے گی۔
یہاں ایک اہم پہلو یہ بھی ھے کہ نوجوان نسل کو صوفیائے کرام کی تعلیمات سے روشناس کروایا جائے۔ آج کا نوجوان مختلف چیلنجز کا شکار ھے، اسے رہنمائی کی ضرورت ھے، اور یہ رہنمائی ہمیں انہی بزرگوں کی تعلیمات سے مل سکتی ھے۔ اگر ہم اپنے تعلیمی نظام میں روحانیت، اخلاقیات اور تصوف کو شامل کریں تو ہم ایک مثبت اور متوازن معاشرہ تشکیل دے سکتے ہیں۔
آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ داتا دربار صرف ایک مزار نہیں بلکہ ایک پیغام ھے، ایک فلسفہ ھے، ایک طرزِ زندگی ھے۔ یہ ہمیں سکھاتا ھے کہ زندگی کا اصل مقصد دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرنا، محبت بانٹنا اور اللہ کی رضا حاصل کرنا ھے۔ اگر ہم نے اس پیغام کو سمجھ لیا تو نہ صرف ہماری انفرادی زندگی بہتر ھوگی بلکہ ہمارا معاشرہ بھی امن، خوشحالی اور ترقی کی راہ پر گامزن ھو جائے گا۔

 داتا گنج بخش کا فیضان صرف دربار تک محدود نہ رھے بلکہ ہمارے کردار، ہمارے رویوں اور ہمارے معاشرتی نظام میں بھی نظر آئے، کیونکہ یہی وہ راستہ ھے جو ہمیں ایک مہذب، پرامن اور باوقار قوم بنا سکتا ھے۔