ہمارا معاشرہ اور ہمارے ڈرامے

 آسیہ تصور
ہمارے معاشرے میں بچپن سے لیکر بڑھاپے تک جو تفریح کے طور پر سب سے زیادہ دیکھی جاتی ہیں وہ کارٹونز اور ڈرامے ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ کارٹون پاکستان میں نہیں بنتے، بچپن سے ہی کارٹونز میں وہ سب کچھ سکھایا جاتا ہے جو ہمارے اسلامی روایات اور ثقافت کے بالکل برعکس ہوتا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ ہمارے ہاں معیاری کارٹون نہیں بنتے، اور نہ ہی ان کی اردو میں ڈبنگ ہوتی ہے، البتہ ہندی ڈبنگ میں بھارتی اپنی مذہبی ثقافت کا رنگ چڑھا دیتے ہیں۔ جس سے ہمارے بچے بھی متاثر ہوتے ہیں۔ سکولوں میں بھی بچوں کو تعلیم کیساتھ اخلاقی تربیت نہیں کی جاتی ہے۔ بس ایک ہی ماٹو ہے کہ بچہ پوزیشن لے۔ اخلاق کے حوالے سے بحیثت معاشرہ ہم زیرہ پر ہیں۔ جب بچے کچھ بڑے ہوتے ہیں تو بچے اہلخانہ کیساتھ بیٹھ کر ڈرامے دیکھتے ہیں۔ ڈرامے ہماری نسل کی کیا تربیت کر رہے ہیں؟َ اس کا جائزہ لیتے ہیں۔ ڈرامے کی اسی فیصد کہانی امیر غریب کے گرد گھومتی ہے۔ کبھی لڑکا امیر، تو کبھی لڑکی مالدار دکھائی جاتی ہے۔ پہلے پیار محبت کی کہانی ہوتی تھیں، عشق پیچے دکھائے جاتے تھے، اب آہستہ آہستہ یہ کلچر بھی بدل گیا ہے۔ اب ڈراموں میں صرف یہ دکھایا جاتا ہے کہ جو کوئی بھی ا?پ کو پسند ا?ئے، محبت نہیں، بس اچھا لگنے کی دیر ہے، اْسے حاصل کرلو، چاہیے وہ آپ کا بہنوئی ہو، پھوپھا ہو، خالو، سہیلی یا کزن کا شوہر، یہاں تک کہ بھابھی کو دیور پسند ہے، تو بھی چلے گا۔ اب دکھایا جاتا ہے کہ اپنے شوہر سے طلاق لیکر دیور سے شادی کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ کیا ہمارے معاشرے اور اسلامی اقدار اس کی اجازت دیتے ہیں کہ رشتوں کو بازاری کھلونوں کی طرح جوڑتے توڑتے رہیں؟ اسلام میں اس کی بالکل اجازت نہیں، اس کیساتھ ساتھ محرم رشتوں کا تقدس ہے، مگر اب اس تقدس کو بھی پامال کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ عمر کا لحاظ ہوتا ہے، نہ رشتے کا، کہ ماموں ہے یا خالو، پھوپھا ہے یا کوئی اور مقدس رشتہ، بس پسند ہے تو ڈراموں میں اْسے حاصل کرنے کا ’’سبق‘‘ دیا جا رہا ہے۔ ہمارے زمانے میں بچیوں کو بچپن سے ہی محرم اور نامحرم کا احترام اورحد بتائی جاتی تھی، مگر یہ ڈرامے اس مقدس رشتہ داری کو پامال کرنے کی جانب گامزن ہیں۔ آج کل ماؤں کے پاس بھی وقت نہیں، وہ موبائل فون پر ٹک ٹاک، شارٹس اوریوٹیوب پر وقت خرچ کرتی ہیں، ساتھ بیٹیوں کو بھی شامل کر لیتی ہیں اور اگر بچوں سے جان چھڑوانی ہو تو انہیں موبائل فون پکڑا دیا جاتا ہے۔ وہ کیا دیکھ رہے ہیں، اْن کی تربیت کیسے ہو رہی ہے؟ اس سے وہ لاعلم رہتی ہیں۔ جب ماں اور بیٹی مل کر ڈرامے دیکھ رہی ہوتی ہیں تو مائیں یہ بھی نہیں بتاتیں کہ بیٹا یہ سب غلط ہے، یہی وجہ ہے کہ بچییوں کو ذہنی طور پر ایک راستہ مل جاتا ہے۔ ایک سچا واقعہ ہے کہ ایک لڑکی نے اپنی پھوپھو کے شوہر یعنی اپنے پھوپھا سے شادی کر لی، جواز یہ پیدا کیا کہ میں تو بچپن سے ڈراموں میں یہی دیکھ رہی ہوں کہ جو آپ کو اچھا لگے، اس سے شادی کرلو، کوئی بات نہیں، پھوپھو کہیں اور شادی کرلے۔ یہ سب کچھ ہمارے معاشرے میں فروغ پا رہا ہے۔ اور اس کی حوصلہ افزائی بھی کی جا رہی ہے کہ ایسے بے ہودہ ڈراموں کو باقاعدہ ایوارڈ دیا جاتا ہے کہ یہ بہت اچھا ڈرامہ تھا۔ یہ معاشرتی سقوط ہمارے ہاں تیزی سے وقوع پذیر ہو رہا ہے اور کوئی توجہ نہیں دے رہا۔ ڈراموں میں پہلے شادیوں کی تقاریب سادہ ہوتی تھیں، اب باقاعدہ دلہا، دلہن، مہندی، برات اور ولیمے کا پروگرام مل کر کرتے ہیں اور دلہا دلہن رقص بھی کرتے ہیں۔ جو کہ بھارتی کلچر تو ہے، ہمارے معاشرے میں اس کی گنجائش نہیں، اس کے باوجود یہ بے 
ہودگی ہمارے معاشرے میں پروان چڑھائی جا رہی ہے۔ ہم اپنی نئی نسل کو کون سا کلچر دے رہے ہیں؟۔ پھر کہتے ہیں، بچے نافرمان بن رہے ہیں، طلاق کی شرح بڑھ رہی ہے۔ کسی نے کبھی سوچا کہ ایسا کیوں ہو رہا ہے؟ کیونکہ لڑکیوں کے ذہن میں یہ ڈالا جا رہا ہے کہ اگر کوئی تمہارے ساتھ اچھا نہیں تو کوئی بات نہیں، تم پڑھی لکھی ہو، برسر روزگار ہو، اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ پال سکتی ہو، معاشرے میں مرد کے بغیر بھی رہ سکتی ہو، لڑکیوں میں یہ سوچ پروان چڑھائی جا رہی ہے۔ جہاں لڑکیوں کو گمراہ کیا جا رہا ہے، وہاں لڑکے بھی نشانہ ہیں۔ کہ تم جہاں چاہو شادی کر سکتے ہیں خواہ وہ تمہاری بیوی کی بہن، بھانجی، بھتیجی، اس کی دوست یا کزن ہے۔ مرد کو پتہ ہونا چاہیئے کہ یہ رشتے اور ان کا تقدس کیا ہے؟ مگر نوجوانوں کو اس ڈگر پر چلا کر مقدس رشتوں کا تقدس پامال کروانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ہمارے ڈرامے نئی نسل کو(لڑکی اور لڑکے دونوں کو) ناجائز رشتوں کو جائز قرار دیکر گمراہ کر رہے ہیں۔ ڈراموں میں قرا?ن مجید کی تعلیمات، اسلامی اقدار کا سبق اور خانہ داری کی بجائے بے ہودہ قسم کی سوچ کو پروان چڑھایا جا رہا ہے۔ کاش ہم وقت کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے، بالخصوص مائیں، جب اس قسم کے بے ہودہ ڈرامے دیکھیں، تو بیٹی کو ضرور بتائیں کہ یہ غلط ہے، یہ ہمارا کلچر نہیں اور پیمرا اور سنسر بورڈ سمیت ایسا کوئی موثر ادارہ بنایا جائے جو ان ڈراموں کی مانیٹرنگ کرے اور اْسے پاس کرے۔ فلم سنسر بورڈ تو اچھا کام کر رہا ہے لیکن ڈرامہ سنسر بورڈ بھی ہونا چاہیئے، اگر ا?ج ہم نے اس نازک صورتحال کا ادراک نہ کیا تو ا?ئندہ ا?نیوالے ہماری نسل پاکستانی رہے گی نہ مسلمان، بلکہ ہم ایک نئی مخلوق کو جنم دے کر جائیں گے، جنہیں اقدار کا علم ہوگا نہ ان میں مسلمانیت ہوگی۔ یہ بے ہودہ ڈرامے ہماری نسل نوء￿  کی سوچ، فکر اور ان کی زندگیوں پر ایک گھناونا حملہ ہیں، اور ہمیں اپنی نسلوں کو اس سے بچانا ہوگا۔