بھارتی فوجی افسر اور افغان شہری دہشت گردی میں ملوث ہیں ترجمان پاک فوج

 پاکستان میں مسلح جتھوں کیلئے کوئی جگہ نہیں  ، ریاست کے علاوہ کوئی گروہ یا شخص جہاد کا اعلان کرنے کا اختیار نہیں رکھتا ‘ ریاست تمام غیرریاستی عناصرکوبلا تفریق مستردکرتی ہے
معرکہ حق کے دوران امریکی صدر ٹرمپ کا قائدانہ کردار سٹریٹجک لیڈر کے طور پر سامنے آیا،پاکستان کے برادر ملک چین کے ساتھ بھی تعمیری اور سٹریٹجک تعلقات ہیں :  کا انٹرویو 
 راولپنڈی (آئی این  پی )ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے کہا ہے   ہمارے پاس مستند شواہد موجود ہیں کہ غیر قانونی افغان باشندے اور بھارتی فوج کے افسر پاکستان میں ہونے والی دہشت گردانہ کارروائیوں میں ملوث ہیں،فتنہ الہندوستان کے متعدد ہلاک دہشت گرد نام نہاد مسنگ پرسنز کی فہرست میں بھی شامل تھے،معرکہ حق کے دوران امریکی صدر ٹرمپ کا قائدانہ کردار اسٹریٹجک لیڈر کے طور پر سامنے آیا۔ ان خیالات اظہار انہوں نے  جرمن جریدے کو انٹرویو دیتے ہوئے کیا ۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا افغان مہاجرین کو پناہ کی بنیادی وجوہات غیر ملکی مداخلت اور خانہ جنگی تھی، وہ وجوہات اب موجود نہیں ہیں، پاکستان نے 40 سال تک لاکھوں افغان مہاجرین کی میزبانی کی، افغان مہاجرین کی باعزت واپسی کے  لئے  منظم اقدامات  کئیگئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے انسانی بنیادوں پرافغان مہاجرین کے انخلاکی ڈیڈلائن میں متعدد بار توسیع کی، ہمارے پاس مستند شواہد ہیں کہ غیر قانونی افغان باشندے دہشت گردی اور سنگین جرائم میں ملوث ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ بھارت میں پرتشدد واقعات بھارتی حکومت کی بڑھتی انتہا پسند پالیسیوں کا نتیجہ ہیں، بھارت اپنے اندرونی مسائل کو بیرونی جبکہ بیرونی مسائل کو اندرونی مسئلہ بنا کر پیش کرتا ہے۔انہوںنے کہا  بھارتی ریاستی ادارے بشمول آرمی شدت پسند سیاسی نظریات کے زیر اثر ہیں جبکہ پاکستان کی ریاست تمام غیرریاستی عناصرکوبلا تفریق مستردکرتی ہے، پاکستان میں کسی بھی جیش یا مسلح جتھوں کیلئے کوئی جگہ نہیں، ریاست کے علاوہ کوئی گروہ یا شخص جہاد کا اعلان کرنے کا اختیار نہیں رکھتا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن اسٹیٹ کا کردار ادا کیا اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بیپناہ قربانیاں دیں۔ان کا کہنا تھا امریکی انخلا کے بعد افغانستان میں چھوڑے گئے امریکی ہتھیار دہشت گردی میں استعمال ہو رہے ہیں، امریکا بھی اس اسلحے کے دہشت گردانہ کارروائیوں میں استعمال پر تشویش کا اظہار کر چکا ہے۔ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا معرکہ حق کے دوران امریکی صدر ٹرمپ کا قائدانہ کردار اسٹریٹجک لیڈر کے طور پر سامنے آیا