امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے اسرائیل کے غیر اعلانیہ دورے کے دوران وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو سے ملاقات کی ہے۔
یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ایران کے ساتھ کشیدگی، مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی ہوئی صورتِ حال اور اسرائیل میں آئندہ پارلیمانی انتخابات کے باعث خطے کی سلامتی سے متعلق خدشات بڑھ رہے ہیں۔خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق، یہ ملاقات پیر 19 اکتوبر کو اسرائیل کے جنوبی علاقے میں واقع اوودہ ایئر بیس پر ہوئی۔ تاہم، ملاقات کے ایجنڈے اور اس دوران زیرِ بحث آنے والے معاملات کے بارے میں باضابطہ تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائیوں پر توجہ
امریکی وزیر دفاع اور اسرائیلی وزیراعظم کی ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب امریکا اور اسرائیل کے درمیان ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے کے امکانات کے حوالے سے بات چیت کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔ایران کے ساتھ کشیدگی اور خطے میں جاری تنازعات کے تناظر میں دونوں رہنماؤں کی ملاقات کو اہم قرار دیا جا رہا ہے، تاہم یہ واضح نہیں کہ آیا ایران کے خلاف کسی نئی فوجی کارروائی پر باقاعدہ تبادلۂ خیال ہوا یا نہیں۔امریکی محکمہ دفاع نے ملاقات پر تبصرہ نہیں کیا، جبکہ بن یامین نیتن یاہو کے دفتر کی جانب سے بھی فوری طور پر کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا۔
اسرائیلی انتخابات سے پہلے اہم ملاقات
یہ ملاقات اسرائیل میں 27 اکتوبر کو ہونے والے پارلیمانی انتخابات سے صرف آٹھ روز قبل ہوئی۔ اس وقت اسرائیلی سیاست میں انتخابی سرگرمیاں جاری ہیں اور خطے کی سکیورٹی صورتِ حال بھی سیاسی مباحثے کا اہم موضوع بنی ہوئی ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ انتخابات سے قبل نیتن یاہو کی حمایت کا اعلان کر چکے ہیں۔ ایسے میں امریکی وزیر دفاع کے غیر اعلانیہ دورے اور اسرائیلی وزیراعظم سے ملاقات نے سیاسی اور سفارتی حلقوں کی توجہ حاصل کی ہے۔تاہم، ملاقات کو انتخابی عمل سے جوڑنے یا اس کے سیاسی مقاصد کے بارے میں کوئی حتمی نتیجہ اخذ کرنے کے لیے مزید معلومات درکار ہیں۔
آبنائے ہرمز اور علاقائی سلامتی کے خدشات
ایران کے ساتھ کشیدگی کے علاوہ آبنائے ہرمز کی صورتِ حال بھی عالمی توجہ کا مرکز ہے۔ یہ اہم سمندری راستہ عالمی سطح پر تیل اور توانائی کی ترسیل میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے، اس لیے یہاں کسی بھی قسم کی رکاوٹ کے عالمی معیشت اور توانائی کی منڈیوں پر اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔امریکا اور اسرائیل کے درمیان اعلیٰ سطح کے رابطے ایسے وقت میں جاری ہیں جب خطے میں فوجی سرگرمیوں اور ممکنہ کشیدگی کے مزید پھیلاؤ کے خدشات موجود ہیں۔
ملاقات کی تفصیلات تاحال سامنے نہیں آئیں
پیٹ ہیگسیتھ اور بن یامین نیتن یاہو کی ملاقات کے بعد نہ تو زیرِ بحث معاملات کی مکمل تفصیلات جاری کی گئی ہیں اور نہ ہی ایران سے متعلق کسی نئے فوجی فیصلے کا باضابطہ اعلان سامنے آیا ہے۔اس لیے فی الحال ملاقات کی اہمیت کا اندازہ خطے کی مجموعی صورتِ حال اور دونوں ممالک کے درمیان جاری رابطوں کے تناظر میں ہی لگایا جا سکتا ہے۔ آئندہ دنوں میں امریکی اور اسرائیلی حکام کے بیانات سے اس دورے کے مقاصد اور ممکنہ نتائج کے بارے میں مزید وضاحت سامنے آ سکتی ہے۔