واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فرانس میں حالیہ احتجاج، بدامنی اور لوٹ مار کے واقعات کا ذمہ دار تارکینِ وطن کو قرار دیتے ہوئے فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ پیرس بہت جلد ایک ’مسلم شہر‘ بن جائے گا اور میکرون کو مشورہ دیا کہ وہ فرانس کی سرحدیں بند کرکے امیگریشن پر سخت پابندیاں عائد کریں۔خبر رساں ادارے اے ایف پی اور دیگر بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق، ٹرمپ نے پیر کو وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ فرانس میں جاری بدامنی کی بنیادی وجہ امیگریشن ہے، نہ کہ اسکولوں یا دیگر مسائل سے متعلق شکایات۔امریکی صدر کے بقول، انہوں نے فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کو پہلے بھی خبردار کیا تھا کہ دنیا بھر سے لوگوں کو فرانس میں داخلے کی اجازت دینا ایک بڑی غلطی ہے۔ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے میکرون پر زور دیا تھا کہ وہ ملک کی سرحدیں بند کریں، تاہم فرانسیسی صدر نے ان کے مشورے پر عمل نہیں کیا۔ٹرمپ نے یورپی ممالک پر بھی زور دیا کہ وہ اپنی سرحدوں پر کنٹرول سخت کریں، بصورتِ دیگر انہیں مستقبل میں سنگین مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
فرانس میں احتجاج اور بدامنی
فرانس میں حالیہ مظاہروں کے پس منظر میں مہنگائی، ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں، تعلیمی اداروں کی صورتِ حال اور عوامی خدمات کے معیار سے متعلق شکایات شامل ہیں۔ مظاہرین نے مختلف شہروں میں ان مسائل پر احتجاج کیا، جبکہ بعض مقامات پر مظاہروں کے دوران صورتِ حال کشیدہ ہوگئی۔ہفتے کے اختتام پر ہونے والے احتجاج کے دوران بعض شہروں میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئیں، دکانوں میں لوٹ مار کے واقعات پیش آئے اور ایک تاریخی بلدیاتی عمارت کو آگ لگنے سے نقصان پہنچا۔تشدد اور بدامنی کے واقعات کے بعد فرانسیسی حکام نے پیرس کے بعض علاقوں اور دیگر شہروں میں رات کے وقت پابندیاں عائد کرنے اور کرفیو نافذ کرنے جیسے اقدامات کیے۔ حکومت نے صورتِ حال پر قابو پانے کے لیے سکیورٹی انتظامات بھی سخت کر دیے۔
امیگریشن پر یورپ میں سیاسی بحث تیز ہونے کا امکان
ٹرمپ نے فرانس میں بدامنی کو امیگریشن سے جوڑتے ہوئے اسے اپنی سرحدی پالیسی سے متعلق مؤقف کے حق میں دلیل کے طور پر پیش کیا۔ تاہم فرانس میں احتجاج کے پس منظر میں معاشی مشکلات، تعلیمی سہولتوں اور عوامی خدمات سے متعلق شکایات بھی شامل ہیں، جنہیں نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔امریکی صدر کے بیان سے فرانس کی امیگریشن پالیسی اور یورپ میں تارکینِ وطن کے کردار پر جاری سیاسی بحث مزید شدت اختیار کر سکتی ہے۔ ٹرمپ کے پیرس کے مستقبل سے متعلق دعوے نے بھی توجہ حاصل کی ہے، تاہم اسے ان کا سیاسی بیان سمجھا جانا چاہیے، نہ کہ شہر کے مستقبل سے متعلق کوئی ثابت شدہ حقیقت۔