آسٹریلیا اور جنوبی افریقا کے درمیان دوسرے ٹیسٹ میچ کے دوسرے روز میزبان ٹیم نے کچھ مزاحمت دکھائی، تاہم دن کے اختتام پر میٹ رینشا کے شاندار ایک ہاتھ سے پکڑے گئے کیچ نے آسٹریلیا کو مزید برتری حاصل کرنے کا موقع فراہم کیا۔
جنوبی افریقا نے ابتدائی چار وکٹیں صرف 40 رنز پر گنوا دی تھیں، جس کے بعد کپتان ٹیمبا باووما اور ریان ریکلٹن نے پانچویں وکٹ کے لیے 52 رنز کی اہم شراکت قائم کرکے اننگز کو سنبھالنے کی کوشش کی۔ دونوں بلے بازوں نے مشکل صورتِ حال میں ٹیم کو سہارا دیا، تاہم رینشا کے غیر معمولی کیچ نے اس شراکت کا خاتمہ کردیا۔
رینشا کا شاندار کیچ، ریکلٹن پویلین واپس
ریان ریکلٹن 26 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔ انہیں آؤٹ کرنے کے لیے میٹ رینشا نے پہلی سلپ میں ڈائیو لگاتے ہوئے ایک ہاتھ سے ناقابلِ یقین کیچ پکڑا، جس نے شائقین اور کھلاڑیوں کی توجہ حاصل کرلی۔اس وکٹ کے بعد جنوبی افریقا کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوگیا اور آسٹریلیا کو اہم موقع ملا کہ وہ مہمان ٹیم کو کم اسکور تک محدود رکھنے کی کوشش کرے۔
اسکاٹ بولینڈ کی مؤثر بولنگ
آسٹریلوی فاسٹ بولر اسکاٹ بولینڈ نے بھی دوسرے روز عمدہ بولنگ کا مظاہرہ کیا اور مزید دو وکٹیں حاصل کیں۔ ان کی مسلسل مؤثر بولنگ نے جنوبی افریقی بلے بازوں کو کھل کر کھیلنے کا موقع نہیں دیا۔بولینڈ اس کارکردگی کے ساتھ جنوبی افریقا کے خلاف اپنی بہترین ٹیسٹ بولنگ کارکردگی کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ آسٹریلوی بولرز نے ابتدا ہی سے دباؤ برقرار رکھا، جس کے نتیجے میں جنوبی افریقا کی بیٹنگ لائن مشکلات کا شکار رہی۔
باووما کریز پر موجود، جنوبی افریقا کی مزاحمت جاری
دن کے اختتام پر جنوبی افریقی کپتان ٹیمبا باووما 41 رنز کے ساتھ کریز پر موجود تھے، جبکہ ویان ملڈر بھی ان کے ہمراہ بیٹنگ کر رہے تھے۔ جنوبی افریقا کو ان دونوں بلے بازوں سے امید ہوگی کہ وہ اگلے روز اننگز کو آگے بڑھاتے ہوئے ٹیم کے مجموعے میں اضافہ کریں گے۔دوسری جانب آسٹریلیا کی کوشش ہوگی کہ باقی وکٹیں جلد حاصل کرکے مہمان ٹیم کو بڑا اسکور بنانے سے روکا جائے اور میچ پر اپنی گرفت مزید مضبوط کی جائے۔
بارش کے باعث کھیل میں طویل تاخیر
دوسرے ٹیسٹ کے دوسرے روز بارش اور آؤٹ فیلڈ گیلی ہونے کے باعث کھیل تقریباً چھ گھنٹے کی تاخیر سے شروع ہوا۔ خراب موسم کے سبب کھیل کے دورانیے میں نمایاں کمی ہوئی اور پورے دن میں صرف 77 رنز بن سکے، جبکہ جنوبی افریقا کی تین وکٹیں گریں۔بارش کے باعث پہلے دو روز کے دوران مجموعی طور پر صرف 43 اوورز کا کھیل ممکن ہو سکا، جس سے میچ کا شیڈول متاثر ہوا ہے۔
آسٹریلیا کو اہم کامیابی کی امید
آسٹریلوی ٹیم کو امید ہے کہ باقی تین دنوں میں وہ اپنی موجودہ پوزیشن سے فائدہ اٹھاتے ہوئے جنوبی افریقا کی اننگز جلد ختم کرے گی اور میچ میں اہم کامیابی حاصل کرنے کی کوشش کرے گی۔تاہم موسم کی صورتِ حال اور بارش کے باعث ضائع ہونے والے وقت کو دیکھتے ہوئے میچ کا نتیجہ دونوں ٹیموں کے لیے ایک اہم چیلنج ہوگا۔ جنوبی افریقا کی جانب سے باووما اور ملڈر کی مزاحمت جبکہ آسٹریلیا کی بولنگ کارکردگی آئندہ کھیل میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔