بوگوٹا: جنوبی امریکی ملک کولمبیا کے جنوب مغربی صوبے ناریño میں غیرقانونی طور پر چلنے والی سونے کی کان منہدم ہونے کے نتیجے میں کم از کم 14 افراد ہلاک اور 7 زخمی ہوگئے۔
حادثہ صوبے کے علاقے سانتا باربرا دے اِسکواندے کے دیہی مقام چیمبیرو میں پیش آیا۔مقامی حکام کے مطابق کان کے پاس کان کنی کے لیے سرکاری اجازت نامہ موجود نہیں تھا۔ حادثے کے بعد امدادی ٹیموں نے متاثرہ افراد کی تلاش اور زخمیوں کو نکالنے کے لیے کارروائیاں شروع کیں، تاہم علاقے کی دشوار گزار جغرافیائی صورت حال اور مسلح گروہوں کی موجودگی کے باعث ریسکیو آپریشن میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔بعد ازاں صوبے کے گورنر نے تلاش اور امدادی کارروائی مکمل کیے جانے کی تصدیق کردی۔
دشوار گزار علاقے میں امدادی کارروائیوں میں مشکلات
حکام کے مطابق حادثے کا مقام دور دراز اور جنگلاتی علاقے میں واقع ہے، جہاں امدادی ٹیموں کی رسائی آسان نہیں۔ اس کے علاوہ علاقے میں مسلح گروہوں کی موجودگی نے امدادی سرگرمیوں کو مزید پیچیدہ بنا دیا۔غیرقانونی کان میں حفاظتی انتظامات کی صورت حال سے متعلق مکمل تفصیلات سامنے نہیں آئیں، تاہم اجازت نامے کے بغیر کان کنی نے ایک مرتبہ پھر ایسے مقامات پر کام کرنے والے افراد کی سلامتی کے حوالے سے خدشات کو نمایاں کردیا ہے۔حادثے میں 14 افراد کی ہلاکت اور 7 کے زخمی ہونے کے بعد غیرمنظم کان کنی کے خطرات پر بھی توجہ مرکوز ہوگئی ہے۔
چند ماہ میں کان منہدم ہونے کا دوسرا بڑا حادثہ
کولمبیا کے صوبے ناریño میں یہ چند ماہ کے دوران کان منہدم ہونے کا دوسرا بڑا حادثہ ہے۔ اس سے قبل اگست میں اسی صوبے کے علاقے پولیکارپا میں کان کے ایک اور حادثے میں 13 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔مسلسل پیش آنے والے ایسے واقعات نے غیرقانونی اور غیرمنظم کان کنی کے دوران حفاظتی اقدامات کی کمی پر سوالات اٹھائے ہیں۔ دور دراز علاقوں میں قائم متعدد کانیں مناسب نگرانی اور ضروری حفاظتی انتظامات کے بغیر چلائی جاتی ہیں، جس سے حادثات اور جانی نقصان کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
غیرقانونی کان کنی کو منظم کرنے پر زور
کولمبیا میں غیرقانونی سونے کی کان کنی ایک اہم مسئلہ ہے۔ ملک کے بعض دور دراز علاقوں میں چھوٹے پیمانے پر کان کنی کرنے والے افراد سرکاری اجازت اور مؤثر حفاظتی نگرانی کے بغیر کام کرتے ہیں۔حکام نے چھوٹے پیمانے کی غیرقانونی کان کنی کو باقاعدہ قانونی نظام کے تحت لانے اور حفاظتی معیار بہتر بنانے کی ضرورت پر زور دیا ہے، تاکہ کان کنوں کی جانیں محفوظ بنائی جاسکیں اور مستقبل میں ایسے حادثات کی روک تھام ممکن ہو۔