فرانس میں احتجاج کے دوران تاریخی سٹی ہال میں آتشزدگی، 43 میٹر بلند مینار منہدم

فرانس میں احتجاج کے دوران تاریخی سٹی ہال میں آتشزدگی، 43 میٹر بلند مینار منہدم

پیرس: فرانس کے شہر لیموج میں طلبہ کے احتجاج کے دوران تاریخی سٹی ہال میں لگنے والی آگ نے عمارت کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔

 آتشزدگی کے نتیجے میں عمارت کی چھت تباہ ہوگئی، جبکہ تقریباً 43 میٹر بلند گھڑی والا مینار بھی گر گیا۔ حکام نے واقعے کو فرانس کے تاریخی اور ثقافتی ورثے کے لیے بڑا نقصان قرار دیا ہے۔رپورٹ کے مطابق یہ واقعہ 17 اکتوبر کو پیش آیا، جب فرانس بھر میں طلبہ اور دیگر مظاہرین اعلیٰ تعلیم کے لیے زیادہ فنڈز، تعلیمی سہولتوں میں بہتری، بڑھتے ہوئے اخراجاتِ زندگی اور تعلیمی اداروں کی خراب ہوتی صورتِ حال کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔ لیموج میں مظاہرے کے دوران نقاب پوش افراد کے ایک گروپ نے سٹی ہال کی کھڑکیاں توڑیں اور عمارت کو آگ لگا دی۔

سٹی ہال کی چھت تباہ، تاریخی مینار بھی منہدم
مقامی حکام کے مطابق آگ نے دیکھتے ہی دیکھتے عمارت کے بڑے حصے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ شعلوں کی شدت کے باعث چھت کو شدید نقصان پہنچا، جبکہ عمارت کا تقریباً 43 میٹر بلند گھڑی والا مینار بھی گر گیا۔حکام نے عمارت کو پہنچنے والے نقصان کو انتہائی سنگین قرار دیا ہے۔ آتشزدگی سے نہ صرف ایک تاریخی عمارت متاثر ہوئی بلکہ اس کے اندر موجود فنِ تعمیر اور آرائشی کام کو بھی نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔لیموج سٹی ہال شہر کی تاریخی شناخت کا اہم حصہ تھا اور تقریباً 143 برس سے شہری زندگی اور تاریخ کی علامت سمجھا جاتا تھا۔

فرانس بھر میں ساڑھے پانچ لاکھ افراد کے احتجاجی مارچ
فرانس کے وزیرِ داخلہ لوراں نونیز نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ ہفتے کے روز ملک بھر میں تقریباً 5 لاکھ 50 ہزار افراد نے احتجاجی مارچ میں شرکت کی۔مظاہروں کا بنیادی مقصد اعلیٰ تعلیم کے لیے زیادہ مالی وسائل مختص کرنے، طلبہ کو بہتر سہولتیں فراہم کرنے اور زندگی کے بڑھتے ہوئے اخراجات کے خلاف آواز اٹھانا تھا۔ بیشتر مقامات پر احتجاج پُرامن رہا، تاہم بعض شہروں میں توڑ پھوڑ اور عمارتوں پر حملوں کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے۔لیموج میں تاریخی سٹی ہال کو پہنچنے والے نقصان نے احتجاج کے دوران عوامی املاک اور ثقافتی ورثے کے تحفظ سے متعلق خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔

1883 میں تعمیر ہونے والی عمارت کی تاریخی اہمیت
لیموج سٹی ہال 1883 میں تعمیر کیا گیا تھا۔ اس کے طرزِ تعمیر میں پیرس کے سٹی ہال سے متاثر ہونے والے عناصر نمایاں تھے۔ عمارت کی تاریخی اور ثقافتی اہمیت کے پیشِ نظر 1975 میں اسے تاریخی یادگار کا درجہ دیا گیا تھا۔یہ عمارت صرف انتظامی امور تک محدود نہیں تھی بلکہ فرانس کی تاریخ کے کئی اہم واقعات کی گواہ بھی رہی۔ دوسری جنگِ عظیم کے دوران، مئی 1940 میں جرمنی کی پیش قدمی کے وقت بیلجیئم کے بعض وزرا اور پارلیمانی ارکان لیموج پہنچے تھے۔ یہ وہ شخصیات تھیں جو اپنے بادشاہ کی جانب سے جرمنی کے سامنے ہتھیار ڈالنے کے فیصلے کی مخالف تھیں۔بعد ازاں لیموج فرانسیسی مزاحمتی سرگرمیوں کے حوالے سے بھی اہمیت اختیار کر گیا۔ شہر کو 21 اگست 1944 کو آزاد کرایا گیا۔ اس تاریخی پس منظر کے باعث سٹی ہال کو مقامی تاریخ اور قومی ورثے کی نمایاں علامت سمجھا جاتا تھا۔

میئر کا شدید ردعمل، سرکاری فنڈز نہ ملنے پر استعفے کی دھمکی
تاریخی عمارت کو پہنچنے والے نقصان پر مقامی حکام نے شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔ مقامی پریفیکٹ مورس باراتے نے واقعے کو ’’ورثے کے لیے تباہ کن سانحہ‘‘ قرار دیا۔لیموج کے میئر گیوم گورین نے الزام لگایا کہ عمارت کو جان بوجھ کر آگ لگائی گئی۔ ان کے مطابق عمارت کے اندر موجود افراد کو اپنی جانوں کے حوالے سے خوف لاحق ہوگیا تھا۔میئر نے عمارت کی بحالی کے لیے مناسب سرکاری فنڈز فراہم نہ کیے جانے کی صورت میں مستعفی ہونے کی دھمکی بھی دی۔ ان کے ردعمل سے ظاہر ہوتا ہے کہ تاریخی عمارت کی بحالی کا معاملہ اب مقامی انتظامیہ اور حکومت کے لیے ایک اہم چیلنج بن چکا ہے۔

بحالی پر 40 لاکھ یورو خرچ ہونے کا تخمینہ
رپورٹ کے مطابق آتشزدگی سے پہلے ہی سٹی ہال کی بحالی پر تقریباً 40 لاکھ یورو خرچ ہونے کا تخمینہ لگایا گیا تھا۔ تاہم آگ سے ہونے والے نقصان کی مکمل مالی مالیت ابھی سامنے نہیں آئی۔عمارت میں پتھر کے آرائشی مجسمے، موزائیک اور چینی کے برتنوں سے متعلق نفیس سجاوٹی کام موجود تھا۔ آگ سے ان تاریخی اور فنکارانہ عناصر کو نقصان پہنچا ہے یا نہیں، اس کی مکمل تفصیلات سامنے آنا باقی ہیں۔ ماہرین کے لیے ان اشیا کو اصل حالت میں بحال کرنا ایک مشکل اور مہنگا عمل ثابت ہوسکتا ہے۔عمارت کی بحالی کے لیے نہ صرف مالی وسائل درکار ہوں گے بلکہ اس کے اصل طرزِ تعمیر، تاریخی ساخت اور آرائشی تفصیلات کو محفوظ رکھنے کے لیے خصوصی مہارت بھی ضروری ہوگی۔

نوٹرے ڈیم کیتھیڈرل کی آگ سے موازنہ
لیموج سٹی ہال میں آتشزدگی کے واقعے کا موازنہ 2019 میں پیرس کے تاریخی نوٹرے ڈیم کیتھیڈرل میں لگنے والی آگ سے بھی کیا جا رہا ہے۔ نوٹرے ڈیم کی آگ نے فرانس سمیت دنیا بھر میں تاریخی عمارتوں کے تحفظ کی اہمیت کو اجاگر کیا تھا۔لیموج کے واقعے نے ایک مرتبہ پھر یہ سوال اٹھا دیا ہے کہ احتجاجی سرگرمیوں کے دوران تاریخی عمارتوں اور ثقافتی ورثے کو نقصان سے بچانے کے لیے کیا اقدامات کیے جانے چاہییں۔