کراچی: ضلع وسطی میں ملزمان کی حوالگی کے معاملے پر پولیس کے دو یونٹس کے درمیان جھگڑے اور ہاتھا پائی کے واقعے میں 16 افسران و اہلکاروں کو معطل کردیا گیا ہے۔
معطل ہونے والوں میں ایس آئی یو (سی آئی اے) پولیس کے 11 جبکہ ضلع وسطی پولیس کے 5 افسران و اہلکار شامل ہیں۔پولیس ذرائع کے مطابق واقعے کی تحقیقات ڈی آئی جی ساؤتھ اسد رضا نے کیں، جن کی انکوائری میں سی آئی اے پولیس کو زیادہ قصور وار قرار دیا گیا۔ انکوائری رپورٹ اور ڈی آئی جی ساؤتھ کی سفارشات کی روشنی میں کراچی پولیس چیف نے متعلقہ افسران و اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی۔
دونوں یونٹس کے ڈی ایس پیز کو شوکاز نوٹس
ذرائع کے مطابق واقعے کے بعد محکمانہ کارروائی کرتے ہوئے دونوں پولیس یونٹس کے ڈی ایس پیز کو بھی شوکاز نوٹس جاری کیے گئے ہیں، جبکہ ایس ایس پی سینٹرل اور ایس ایس پی ایس آئی یو کو لیٹر آف ایڈوائس جاری کیا گیا ہے۔جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق معطل افسران و اہلکاروں کو گارڈن ہیڈ کوارٹر میں قائم سسپنڈ کمپنی بھیج دیا گیا ہے۔ اس کارروائی کا مقصد واقعے میں ملوث اہلکاروں کے خلاف محکمانہ ضابطے کے تحت کارروائی کرنا ہے۔
ملزمان کی حوالگی پر تنازع کیسے شروع ہوا؟
واضح رہے کہ 14 اکتوبر کی شب کراچی میں شارٹ ٹرم کڈنیپنگ کے ملزمان کی حوالگی کے معاملے پر پولیس کے دونوں یونٹس کے افسران کے درمیان تنازع پیدا ہوا تھا، جو بعد ازاں جھگڑے اور ہاتھا پائی میں تبدیل ہوگیا۔ذرائع کے مطابق جھگڑے کے دوران سی آئی اے پولیس کے اہلکاروں نے ضلع وسطی کے ڈی ایس پی اور ایک اے ایس آئی کو مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بھی بنایا تھا۔واقعے کے بعد معاملے کی انکوائری کی گئی، جس میں سی آئی اے پولیس کو زیادہ قصور وار ٹھہرائے جانے پر محکمانہ کارروائی عمل میں لائی گئی۔ 16 افسران و اہلکاروں کی معطلی، دونوں یونٹس کے ڈی ایس پیز کو شوکاز نوٹس اور سینئر افسران کو لیٹر آف ایڈوائس اسی کارروائی کا حصہ ہیں۔