فلسطین امن معاہدہ، مفادکس کا ؟

سید منیرحسین گیلانی
فلسطین امن معاہدہ ہوچکا، قیدیوں اور یرغمالیوں کا تبادلہ بھی ہوچکا۔پھر بھی اسرائیل مزید مطالبے کر رہا ہے۔فلسطینیوں کی اپنے وطن واپسی بھی جاری ہے۔مگرکیا یہ معاہدہ خطے میں پائیدار امن کا ضامن ہوگا؟اس سوال کا کسی کے پاس جواب نہیں۔اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مسلم رہنماوں کے ساتھ ملاقات میں اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کا 20 نکاتی امن منصوبہ دیا جسے عالمی سطح پر سراہا گیا لیکن حیران کن بات یہ ہے کہ1948ء￿ یا 1967ء￿ کی جغرافیائی پوزیشن ایک طرف، اس میں تو ’دو ریاستی حل‘ کو بھی نظر انداز کیا گیا اور اسرائیل کی ناجائز قابض صیہونی حکومت کو تحفظ دیا گیا ہے۔گویا اس امن فارمولے میں فلسطین کے مظلوم عوام اور شہداء￿ کے ورثا کے لیے جنگ بندی کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔لیکن اس نشست میں بیٹھے سب حکمرانوں نے ٹرمپ کے فارمولے کی کھل کر حمایت کی۔ان میں وزیراعظم شہباز شریف بھی شامل تھے جو ٹرمپ کے قریب ہونے کا تاثر دینے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے کہ وہ امریکی صدر کے منظور نظر ہیں۔ صدر ٹرمپ نے واشنگٹن جا کرفلسطین اور اسرائیل کو جنگ بندی پر آمادہ کرنے کی حکمت عملی پر کام کیا۔پھردنیا بھر سے امن فارمولے پر آنے والے ردعمل کے نتیجے میں فلسطینیوں کے حق میں شرائط میںتبدیلیاں کی گئیں۔ میںسمجھتا ہوں کہ فلسطینیوں کی بہت بڑی کامیابی یہ ہے کہ انہوں نے ہتھیار ڈالنے کی شرط اور غزہ کے علاقے کو خالی کرنے کے تاثر کوزائل کردیا ہے۔ اس طرح حماس کے شہداء￿ اور ان کے ورثا کے لیے عملی طور پر دیکھا جائے تو بہت بڑا ریلیف ہے۔معاہدے کے بعد غزہ کے عوام کو کھانے پینے کی اشیاء￿ ،ادویات کی سپلائی کے ساتھ عوام کی اپنے گھروں میں واپسی کا بھی آغاز ہوچکا ہے۔ فلسطینیوں نے خوشی کا اظہار کیا ، آگے بڑھنے کے عزم اور بہتری کی امید کے ساتھ زندگی شروع کر دی ہے۔ اس جنگ بندی کا سہرا بھی اپنے سر باندھنے اورفلسطین کے خلاف دہشت گردی کرنے والے نیتن یاہو کی حمایت کے لئے ٹرمپ نے اسرائیلی پارلیمنٹ میں ا ?کر تقریر کی اورپھر مصر کے شہر شرم الشیخ جا کراہم رہنما وں کو اکٹھا کیا لیکن حیران کن بات یہ ہے کہ اس میں جنگ بندی کے فریق غاصب اسرائیل اور فلسطینی مزاحمتی تحریک حماس کا کوئی نمائندہ شامل نہیں تھا، بلکہ جن رہنماوںنے اس امن منصوبے کی تائید کی تھی وہی نمایاں نظر آئے۔بغور جائزہ لیا جائے تو یہ امن منصوبہ بھی ظالم کو بچانے کی تدبیر ہے۔ عالمی قوانین پر عملدرآمد ہوتا،انصاف کیا جاتا تو غزہ کے 70 ہزار کے قریب شہریوں ،جن میں بچے اور خواتین بھی شامل ہیں کے خون بہا کی بات کی جاتی۔کیا یہ عدل ہے کہ ظالم قاتل دہشت گرد اسرائیل مظلوم فلسطینی عوام کو قتل کرے، آبادیاں تباہ کرے، اسلحہ امریکہ اور برطانیہ کا استعمال ہو اور اس کے نقصانات کا ازالہ مسلم ممالک کریں۔کاش اس معاہدے میںاسرائیل کو مجرم قراردیا جاتا،حماس کی جدوجہد کو تسلیم کرتے ہوئے زخمیوں کو دلاسہ دیا جاتا اورشہدا کے ورثا کے زخموں پر مرہم رکھی جاتی۔انہیں آئندہ حملے نہ کرنے کی یقین دہانی کروائی جاتی۔مگر مضحکہ خیز بات یہ ہے کہ تعمیر نو کی نگرانی اسرائیل کے سرپرست ڈونلڈ ٹرمپ کریںگے،جبکہ بدنام زمانہ اور جھوٹے شخص برطانیہ کے وزیراعظم ٹونی بلیئر کمیٹی کا حصہ ہوں گے۔ اس سے زیادہ بھیانک اور شرمناک حرکت کیا ہو سکتی ہے؟ کیایہ غیرت ایمانی یا انسانیت ہے کہ حماس کی حمایت کسی بھی انصاف پسند طبقے نے نہیں کی۔عالمی منافقت کی انتہا اور طاقت کا غروریہ ہے کہ انسانی حقوق کا راگ الاپنے والا امریکہ جنگ بندی کے دوران بھی اسرائیل کو اسلحے کی سپلائی کر رہا ہے جس کا استعمال فلسطینیوں کے خلاف جاری ہے۔ اسرائیلی صیہونی ریاست کو برقرار رکھنے اور مضبوط بنانے کے لیے وسائل بھی مہیا کیے جا رہے ہیں۔ ٹرمپ نے اسرا ئیلی پارلیمنٹ میں بڑے فخر یہ انداز سے کہا کہ اسرائیل مضبوط ہو گیا ہے، فلسطینی مزاحمتی تحریک حماس کے خلاف ہم نے اپنے مقاصد حاصل کر لئے ہیں، نیتن یاہو فلسطینیوں کے قتل کے لئے ایسے جدید اور خطرناک اسلحے کا مطالبہ کرتا ہے جس کا مجھے بھی علم نہیں۔
میں سمجھتا ہوں کہ ہم نے معاشی مجبوریوں ، وقتی مفادات اور سیاسی امور میں کم فہمی کی بنیاد پر دوست اور دشمن کی پہچان نہیںکر سکے۔بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح رحمتہ اللہ علیہ کی اصول پر مبنی پالیسی کو پس پشت ڈالنے لگے ہیں کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے امن فارمولے کی حمایت کی ہے، مگر فلسطینی ریاست اور امن کی کوئی گارنٹی نہیں لی۔جبکہ اب تو ٹرمپ نے کہہ دیا ہے کہ بہت جلد سعودی عر ب بھی ابراہیمی معاہدے میں شامل ہو جائے گا۔اور خدشہ ہے کہ کسی دن وہ یہ بھی کہہ دے گا کہ پاکستان کے مقتدر حلقے بھی سعودی عرب کے ساتھ ملنے کے لئے تیار ہیں۔میں سمجھتا ہوں کہ اس امن فارمولے کو سامنے رکھتے ہوئے پاکستان حماس کی حمایت اوراسرائیل کی مخالفت تو کر سکتا تھا۔ظالم کی صفوں میں کھڑا ہونے کی بجائے مظلوم کے ساتھ کھڑا ہونا ہی عدل کا تقاضا ہے۔ بے شک ہم آئی ایم ایف کے قرضوں اور امریکی تسلط کے ہاتھوں مجبور ہیں لیکن اسلامی غیرت کا تقاضہ ہے کہ ہم کھل کر ظالم کی مخالفت کریں اور مظلوم کا ساتھی بنیں۔ میںتعریف کیے بغیر نہیں رہ سکتا وزیر خارجہ اور نائب وزیراعظم سینیٹر اسحاق ڈار کی جنہوںنے پاکستانی پارلیمنٹ میں کھل کر امریکی صدر کے فارمولے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ کا پیش کردہ فارمولا وہ نہیں جو مسلم سر براہوں کے ساتھ طے ہوا تھا۔ میں تو حیران ہوںعرب ممالک پر کہ جن کی مالی مشکلات بھی نہیں ہیں ، وہ ہر معاملے میں ہر سطح پر خود کفیل ہیں ،ان کو کھل کرفلسطین کی حمایت کرنی چاہیے تھی ،جیساکہ اردن کے شاہ عبداللہ ثانی نے کھل کر اظہار کیا ہے کہ جب تک دور ریاستی فارمولے پر عمل نہیں کیا جاتا، مشرق وسطیٰ میںامن قائم نہیں ہو سکتا۔ میں شاہ عبداللہ ثانی کی بات کو مکمل طور پر ماننے کو تیار نہیں ہوں کیونکہ فلسطین ،فلسطینیوں کا تھا اور فلسطینیوں ہی کا ہی رہے گا۔کیاتاریخی حقائق کو جھٹلایا جاسکتا ہے کہ فلسطینی علاقے میں یہودی مسیحی مسلمان پرامن طور پر اکٹھے رہ رہے تھے لیکن دوسری جنگ عظیم کے بعد برطانیہ اور امریکہ نے اس علاقے کے وسائل پر قابض ہونے اور یہودیوں کو فلسطین کی سرزمین پر بسانے کی سازش تیار کی ،جس کے نتیجے میں صیہونی حکومت تشکیل دی گئی۔اور پھر آہستہ آہستہ مختلف جنگوں میں صیہونی حکومت نے ارد گرد ممالک کے علاقے چھین کر اپنی جغرافیائی سرحدوں کو وسعت دی ،وہ آج بھی سعودی عرب سے لے کر لبنان، یمن اور عراق کے علاقوں کو گریٹر اسرائیلی ریاست میں شامل کرنے کے لیے کوشش کررہا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ٹرمپ کے امن معاہدے کے مطابق وقتی ریلیف فلسطینیوں کو مل رہا ہے،لیکن اسے مستقل نہیں سمجھا جانا چاہیے، کیونکہ اسرائیل کے سرپرست ممالک آج بھی صیہونی قابض ریاست کو اسلحہ اور وسائل مہیا کر رہے ہیں۔عالمی سطح پر اتنے بڑے تحرک میں ایران اس سارے عمل سے لا تعلق ہے، اس نے خاموشی اختیار کرلی ہے ، کیونکہ وہ عارضی ریلیف پر بھی خوش ہیں۔ایرانی وزیر خارجہ محمد عباسی عراقچی نے کہا ہے کہ اس معاہدے پر عملدرآمد کے حوالے سے وہ صیہونی حکومت اور امریکہ کی یقین دہانی پر اعتماد نہیں کر سکتے۔ دوسرا یہ کہ ایران پر حملوں کے ذمہ دار شخص کے ساتھ نہیں بیٹھا جا سکتا۔میںسمجھتا ہوں کہ ایران کااصولی موقف اور خاموشی اچھی پالیسی ہے کہ عرصہ دو سال سے فلسطینی شہید ہو رہے ہیں، لہٰذا ان کا خاموشی اختیار کرناقابل تحسین ہے تاکہ معاملے کو خراب نہ کیا جا سکے۔۔