ایران، اسرائیل جنگی بحران اور عالمی امن معاہدہ

 امجد علی
دنیا کی تاریخ گذرتے وقت کے مدوجزر کے ساتھ مسلسل کروٹیں بدلتی رہی ہے۔ کبھی خزاں کے سائے گہرے ہوتے ہیں تو کبھی بہار کی خوشبو فضاؤں کو معطر کرتی ہیں۔ کہیں جنگ کی آگ بھڑکتی ہے تو کہیں امن کے چراغ روشن ہوتے ہیں۔ اقبال کی تار حریر دو رنگ کی طرح انسانی تاریخ تاریکی اور روشنی، خشکی اور تری، حبس اور ہواؤں، قہقہوں اور چیخ و پکار بھرے جذبوں کی انتہاؤں کے بیچ آنکھ مچولی کا کھیل کھیل رہی ہے۔ اسی طرح قوموں اور ریاستوں کی تاریخ بھی تنازعات، جنگوں، امن معاہدوں اور سیاسی اتار چڑھاؤ سے عبارت ہے۔ آج کی سویلائزڈ دنیا کی آنکھوں کو خیرہ کرتی چکا چوند سے بھری دنیا انہیں کشت و خون کے سرخ دریاوں اور سب کچھ نیست نابود کرتے طوفان سے گزر کر کے یہاں تک پہنچی ہے۔ہر زمانے کی سپر پاور نے ظلم و بربریت جاری رکھتے نئے نئے بہانے تراش کر کبھی ایک تو کبھی دوسرے کمزور ملکوں پر حملہ آور ہوتی چلی آئی ہیں بعینہ فروری 28 کی رات، طویل کشیدگی کو جنگ میں بدل دیا گیا اسرائیل اور امریکہ نے مل کر ایران پر حملہ کر دیا۔ ایرانی قیادت کو خصوصی نشانہ بنایا گیا۔ جنگ نے ایک بار پھر دنیا کو ہلا کر رکھ دیا۔ خطے میں بھڑکنے والی اس جنگ نے نہ صرف ان ملکوں خصوصاً ایران کے بنیادی ڈھانچے کو تہس نہس کیا بلکہ مشرق وسطیٰ اور پوری عالمی معیشت کو شدید متاثر کیا۔ خصوصاً آبنائے ہرمز میں کشیدگی اور تیل کی ترسیل میں رکاوٹوں نے دنیا بھر میں توانائی کے بحران کو جنم دیا۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک اس بحران سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا، بجلی کے نرخ مسلسل بڑھتے رہے، صنعتوں کی پیداوار کم ہوئی، کاروباری سرگرمیاں متاثر ہوئیں، تعلیمی نظام کو بہت نقصان پہنچا اور عام آدمی کی زندگی مشکلات کا شکار ہوگئی۔ اس کشیدگی کو سنہری موقعہ بناتے سرکار نے بجلی اور پیڑول کو سرکاری امدنی اور مافیاز کی سہولت کاری کا ذریعہ بنا لیا۔ اس طرح طوفانی مہنگائی نے غریب اور متوسط طبقے کی کمر توڑ دی جبکہ روزگار کے مواقع بھی محدود ہوتے چلے گئے۔ اس سے سرکاری خزانہ تو بھر گیا (شاید پھر خالی بھی ہو گیا ہو) مافیا نے بھی جیبیں بھر لیں مگر غریب شہری تو لٹ ہی گئے۔ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کئی برسوں سے موجود تھی، تاہم یہ تنازع اس وقت کھلی جنگ میں تبدیل ہوگیا جب دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے اہم عسکری اور اسٹریٹجک اہداف پر حملوں کا سلسلہ شروع کیا۔ چند ہی دنوں میں فضائی حملے، میزائل کارروائیاں اور جوابی حملے پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے گئے۔ امریکہ کی شمولیت نے جنگ کو مزید پیچیدہ اور خطرناک بنا دیا۔جنگ کے دوران دونوں ممالک کو انسانی اور معاشی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا۔ اہم فوجی تنصیبات، بنیادی ڈھانچے، توانائی کے مراکز اور مواصلاتی نظام متاثر ہوئے۔ سرمایہ کاروں کے اعتماد میں کمی آئی، عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتیں بلند ہوئیں اور بین الاقوامی تجارت متاثر ہوئی۔ آبنائے ہرمز سے گزرنے والی عالمی تیل سپلائی پر خطرات کے باعث دنیا بھر میں توانائی کی منڈی غیر یقینی صورتحال کا شکار رہی۔

امن کی کوششیں جنگ کے بڑھتے ہوئے خطرات اور عالمی دباؤ کے پیش نظر مختلف ممالک اور بین الاقوامی اداروں نے فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے کی کوششیں شروع کیں۔ فیلڈ مارشل جناب سید عاصم منیر اور وزیر اعظم پاکستان کی انتھک اور بے نظیر سفارتی کوششوں کے نتیجے میں بالآخر امریکہ اور ایران کے درمیان ایک عبوری معاہدہ طے پایا جس میں جنگ بندی، کشیدگی میں کمی اور مستقبل کے مذاکرات کے لیے راہ ہموار کرنے پر اتفاق ہوا۔ اس معاہدے کو بعض حلقوں نے مشرق وسطیٰ میں امن کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا۔ یہ امفاہمتی امن یاداشت خطے کے ممالک، عوام اور ایران کے لیے تازہ ہوا کا جھونکا ہے۔اگرچہ امن معاہدے کی خبر نے دنیا بھر میں امید کی ایک نئی لہر پیدا کی۔ لیکن کچھ سوال تشنہ جواب ہیں کہ کیا امن معاہدہ دیرپا امن کی بنیاد بن پائے گا۔ کیا سبھی جنگی فریقین معاہدے کی مشکل شقوں پر متفق ہو چکے ہیں۔ کچھ اختلافی شکوک سامنے آنے لگے ہیں۔ اسرائیلی قیادت نے معاہدے کی بعض شقوں پر تحفظات کا اظہار کیا اور مکمل طور پر اس کے نفاذ پر آمادگی ظاہر نہیں کی۔ لبنان پر کاروائیاں نہ روکنے کا عندیہ معاہدے پر کھلی بد اعتمادی ہے۔ مختلف مواقع پر اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے واضح کیا کہ اسرائیل اپنی سکیورٹی پالیسیوں اور فوجی اقدامات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ بعد ازاں بعض نکات پر اسرائیلی موقف معاہدے کی روح سے متصادم دکھائی دیا  کیونکہ جنگی محرکات میں بنیادی وجہ بھی اسرائیل کی ہے۔ جس سے امن عمل غیر یقینی صورتحال کا تاثر اور زیادہ بڑھ گیا۔ایران، امریکہ، اسرائیل تنازع صرف چند ممالک کا مسئلہ نہیں بلکہ پوری دنیا کے امن اور معیشت سے جڑا ہوا معاملہ ہے۔ اگر فریقین مستقل اور قابل عمل امن معاہدے تک پہنچنے میں کامیاب نہ ہوئے تو نہ صرف خطے بلکہ عالمی معیشت کو بھی مزید بحرانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جنگیں بالآخر مذاکرات کی میز پر ختم ہوتی ہیں، مگر اصل کامیابی اس امن میں ہوتی ہے جو آنے والی نسلوں کو خوف، بھوک اور عدم استحکام سے نجات دلائے۔ اپنے وسائل کو آگ میں جھونکنے کی بجائے عوام کے لیے استعمال میں لائے۔ آج دنیا کو ہتھیاروں کی نہیں بلکہ حکمت، برداشت اور سفارت کاری کی ضرورت ہے تاکہ آنے والے دن تباہی کی بجائے ترقی، خوشحالی اور امن کی نوید لے کر آئیں۔بحرحال، اس مفاہمتی امن یادداشت پر دستخط پوری انسانیت، عالمی امن اور عالمی معیشت کے لیے خوشی، اطمینان اور امید کا پیغام ہے۔ اس پیش رفت کے لیے امریکہ اور ایران کی قیادت کا مذاکرات اور امن کو موقع فراہم کرنے کا فیصلہ قابل تحسین ہے۔ ایسے پیچیدہ اور کشیدہ حالات میں پاکستان کی قیادت، بالخصوص جنرل عاصم منیر سید کی جنگی و سفارتی امور میں بصیرت، فراست اور مثبت کردار، نیز اپنے اثر و رسوخ کو بروئے کار لاتے ہوئے اس امن عمل کو کامیابی سے منطقی انجام تک پہنچانے میں معاونت، قومی فخر کا باعث ہے۔امید کی جاتی ہے کہ یہ معاہدہ خطے میں پائیدار اور دیرپا امن کی بنیاد ثابت ہوگا، باہمی اعتماد کو فروغ دے گا اور علاقائی استحکام کو مضبوط بنائے گا۔ بالخصوص پاکستان اور ایران کی معیشتوں پر اس کے مثبت اثرات مرتب ہوں گے، تجارتی سرگرمیوں، سرمایہ کاری اور اقتصادی تعاون کے نئے مواقع پیدا ہوں گے، جس سے دونوں برادر ممالک سمیت پورا خطہ ترقی اور خوشحالی کی نئی راہوں پر گامزن ہو سکے گا۔