ہر ہاتھ کو بڑھانا ہوگا تعمیر کے لئے

محمدفاروق سپرا
 بدامنی ،دہشت گردی،بدنظمی اور سیاسی انتشارنے ہمارے معاشرے کو وہ نقصانات پہنچائیہیں کہ لفظوں میں بیان نہیں کئے جاسکتے۔ ان حالات کا ہمارے مثبت جذبات،خیالات،افکار ،رسوم ورواج اور اقدار  پربہت منفی اثرپڑاہے۔بات کوکچھ ا?گے بڑھایا جائے تویہ بات اظہرمن الشمس ہے کہ انسانی تاریخ میں معاشرے ہمیشہ استحکام اور عدم استحکام کے درمیان کشمکش کا شکار رہے ہیں۔ ایک طرف پرامن معاشرے ہیں جو ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن ہیں، دوسری طرف بدامنی، ہنگامہ آرائی اور دہشت گردی کا شکار معاشرے ہیں جو انتشار اور زوال کا شکار ہیں۔ یہ دونوں قسم کے معاشرے نہ صرف اپنی ظاہری حالت میں بلکہ اپنے باشندوں کی ذہنی کیفیات، رہن سہن، نظم و ضبط اور مقابلے کے رجحانات میں بھی یکسر مختلف ہیں۔
بدامنی کا شکار معاشرے کے لوگوں کی ذہنی کیفیات پر خوف، عدم تحفظ اور مایوسی کا غلبہ ہوتا ہے۔ وہ ہر وقت کسی ناگہانی آفت کے انتظار میں رہتے ہیں۔ ان کے دل و دماغ پر مسلسل دباؤ کی کیفیت طاری رہتی ہے جس کے نتیجے میں وہ نفسیاتی امراض کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ڈپریشن، پوسٹ ٹرامیٹک سٹریس ڈس آرڈراور اضطراب جیسی کیفیات ان معاشروں میں عام ہوتی ہیں۔ لوگوں میں اعتماد کی کمی ہوتی ہے اور وہ مستقبل کے بارے میں مایوس نظر آتے ہیں۔
اس کے برعکس پرامن معاشرے کے لوگ پرسکون، مطمئن اور پرامید ذہنیت کے مالک ہوتے ہیں۔ انہیں اپنی اور اپنے اہل خانہ کی سلامتی کا یقین ہوتا ہے۔ وہ مستقبل کے بارے میں پرامید ہوتے ہیں اور مثبت سوچ کے حامل ہوتے ہیں۔ ان کی ذہنی توانائی تعمیری کاموں میں صرف ہوتی ہے نہ کہ وہ خوف و ہراس کے تصورات میں گمراہ ہوکررہ جاتے ہیں۔ 
بدامنی کے شکار معاشرے میں رہن سہن کی کیفیت انتہائی دشوار ہوتی ہے۔ لوگ اپنے گھروں میں بھی محفوظ محسوس نہیں کرتے۔ شام ڈھلتے ہی گلیاں سنسان ہو جاتی ہیں۔ بازاروں میں رونقیں ماند پڑ جاتی ہیں۔ تعلیمی ادارے بند ہو جاتے ہیں یا ان میں حاضری کم ہو جاتی ہے۔ لوگ اپنے روزگار کے حصول میں مشکلات کا شکار ہوتے ہیں۔ سماجی تقریبات اور ثقافتی سرگرمیاں معطل ہو جاتی ہیں۔
پرامن معاشرے میں رہن سہن کی کیفیت بالکل مختلف ہوتی ہے۔ لوگ آزادی کے ساتھ اپنی روزمرہ کی زندگی گزارتے ہیں۔ بازار رونقوں سے بھرپور ہوتے ہیں۔ تعلیمی ادارے کھلے رہتے ہیں اور طلبہ بلا خوف و خطر اپنی تعلیم جاری رکھتے ہیں۔ سماجی اور ثقافتی تقریبات کا انعقاد ہوتا ہے۔ لوگ پارکوں اور تفریحی مقامات پر جا سکتے ہیں۔ خواتین اور بچے بلا جھجھک گھروں سے نکل سکتے ہیں۔
بدامنی کے شکار معاشرے میں نظم و ضبط کی صورت حال انتہائی ناگفتہ بہ ہوتی ہے۔ قانون کی حکمرانی کمزور پڑ جاتی ہے۔ ادارے اپنے فرائض درست طریقے سے انجام دینے میں ناکام رہتے ہیں۔ عوام کا حکومتی اداروں پر سے اعتماد اٹھ جاتا ہے۔ لوگ خود ساختہ قوانین بنانے لگتے ہیں یا پھر اپنے معاملات خود نمٹانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں معاشرے میں من مانی اور خود غرضی کا رجحان بڑھتا ہے۔
پرامن معاشرے میں نظم و ضبط کی کیفیت مثالی ہوتی ہے۔ قانون کی حکمرانی قائم ہوتی ہے اور تمام شہری قانون کا یکساں احترام کرتے ہیں۔ ادارے موثر طریقے سے کام کرتے ہیں۔ عوام کا حکومتی اداروں پر اعتماد قائم ہوتا ہے۔ لوگ قانونی طریقوں پر یقین رکھتے ہیں اور اپنے مسائل کے حل کے لیے قانونی چارہ جوئی کو ترجیح دیتے ہیں۔
بدامنی کے شکار معاشرے میں مقابلے کا رجحان منفی ہوتا ہے۔ لوگ ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ وسائل کے حصول کے لیے جبر و تشدد کا سہارا لیا جاتا ہے۔ تعلیمی اور پیشہ ورانہ میدان میں مقابلہ کی بجائے رشوت اور سفارش کو ترجیح دی جاتی ہے۔ لوگوں میں باہمی تعاون کی بجائے حسد اور بغض کے جذبات پروان چڑھتے ہیں۔

پرامن معاشرے میں مقابلے کا رجحان مثبت اور تعمیری ہوتا ہے۔ لوگ اپنی صلاحیتوں کو بہتر بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ تعلیمی اور پیشہ ورانہ میدان میں صحت مند مقابلہ موجود ہوتا ہے۔ لوگ ایک دوسرے کی کامیابیوں پر خوش ہوتے ہیں اور باہمی تعاون کو فروغ دیتے ہیں۔ مقابلہ کی بنیاد قابلیت اور محنت ہوتی ہے نہ کہ رشوت اور سفارش۔
بدامنی اور پرامن معاشرے کے درمیان یہ فرق اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ امن و امان صرف ایک اصطلاح نہیں بلکہ معاشرے کی بنیادی ضرورت ہے۔ بدامنی معاشرے کے ہر پہلو کو متاثر کرتی ہے، فرد کی ذہنی صحت سے لے کر معاشرے کی اجتماعی ترقی تک۔ ایک پرامن معاشرہ ہی وہ ماحول فراہم کر سکتا ہے جس میں انسان اپنی صلاحیتوں کو پروان چڑھا سکے، تعمیری سرگرمیوں میں حصہ لے سکے اور معیار زندگی کو بہتر بنا سکے۔
اس لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے معاشروں میں امن و استحکام کو قائم رکھنے کے لیے اجتماعی کوششیں کریں۔ قانون کی حکمرانی کو مضبوط بنائیں، انصاف کے حصول کو یقینی بنائیں، اور باہمی رواداری کو فروغ دیں۔ کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ جن معاشروں نے امن و استحکام کو برقرار رکھا، وہ ترقی کی منازل طے کرتے گئے، جبکہ جنہوں نے انتشار اور بدامنی کو پروان چڑھنے دیا، وہ زوال پذیر ہو گئے۔ انسان کی فطری خواہش ہمیشہ سے امن و سکون کی رہی ہے اور یہی وہ بنیاد ہے جس پر پرامن معاشرے تعمیر ہوتے ہیں۔