فرزانہ چودھری
ہر سال دنیا بھر میں150 عالمی دن منائے جاتے ہیں جن میں مزدوروں یا محنت کشوں سے متعلق پانچ سے چھ دن عالمی دن منائے جاتے ہیں، جو ہر سال شاید محض یاد رکھنے کے طور پر منائے مناتے جائے ہیں کیونکہ عملی طور پر ان سے متلقعہ مسائل کا حل یا ان میں بہتری کے حوالے سے کارکردگی نہ ہونے کے برابر ہے اور یہ بھی حقیقت ہے کہ ان سے جڑے مسائل میں اضافہ ہی دیکھا گیا ہے ۔ ہرسال ان دنوں کو ایک نئے عزم کے بیان کے ساتھ اگلے سال کے لیے رخصت کر دیا جاتا ہے ۔مثلا جیسے ہر سال12جون کو عالمی یوم انسداد چائلڈ لیبر منایا جاتا ہے۔ اور 25 نومبر کو عالمی دن برائے خواتین پر یشدد کے خاتمے( جوخواتین محنت کشوں پر ظلم کے پہلو کو بھی شامل کرتا ہے) کا دن منایا جاتا ہے۔ان دنوں کو منانے کا مقصد کسی اہم سماجی اور انسانی مسئلے کی طرف توجہ دلانا ہوتا ہے۔ اور لوگوں کو اپنے حقوق کے ساتھ ساتھ فرائض سے آگاہی کا شعور دینا بھی ہوتا ہے یہ کام انسانی حقوق کی تنظیموں کے ساتھ ساتھ حکومت بھی سر انجام دیتی ہے ۔ حکومت کا اہم رول انسانی حقوق کی پامالی کے خلاف قانون سازی کرنا اور ان قوانین کا نٖفاذ کراناہوتا ہے۔ مثلا جیسے پنجاب حکومت نے چائلڈ لیبر اور خواتین پر تشدد اور ورک پلیس پر ہراسمنٹ کے خلاف قوا نین بنائے ہیں۔ ان قوانین کے ثمرات کس حد تک متاثرین تک پہنچے اس بارے میں انسانی حقوق کی علمبردار تنظیمں ہر سال میڈیا کے نمائنگوں کو رپورٹ بھی پیش کرتی ہیں۔گزشتہ دنوں ویمن انسٹرگل فار ایمپاورمنٹ) (WISEتنظیم نے ’’گھریلو ملازم بچوں کی حالت زار ، ریاستی ذمہ داریاں اور میڈیا کا کردار ‘‘ کے حوالے سے ایک ورکشاپ کا اہتمام کیا۔ جس میں صحافیوں ، کالم نگاروں ،اینکرز، دانشوروں اور حکومتی نمائندوں نے بھی شرکت کی۔ جن شرکاء نے اظہار خیال ان میں ایگزیکٹو ڈائریکٹر سرچ فار جسٹس افتخار مبارک ، ممبر آف سٹینڈنگ کمیٹی آن لیبر اینڈ ہیومن ریسورس آف پنجاب اسمبلی صفیہ سعید ، ایگزیکٹیو ڈائریکٹر وائز بشری خالق اور سوشل رسرچر عبدالحق شاملتھے۔ جہنوں نے اس موضوع پر سیر حاصل گفتگو کی۔ وائز نے بے سہارا اور مظلوم خواتین کے ساتھ ساتھ چائلڈ لیبر کے خاتمے اور ان کو ان کے حقوق کی آگاہی فراہم کرنے کے لیے بھی بہت کام کیا ہے اور وہ یہ سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔وائز کی ایگزیکٹیو ڈائریکٹر بشری خالق نے گھریلو ملازمین کے مسائل، گھریلو ملازم کم عمر بچوں بعض پر تشدد اور ان کا استحصال کیسے کیا جاتا ہے اس حوالے سے آگاہ کیا۔ صوبہ پنجاب میں گھریلو ملازمین کے حقوق کے لیے قانون ایکٹ 2019کا نفاذ ایک مستحسن قدم ہے اوراس قانون پر سوفیصد عملدرآمد ناگزیر ہے اسی طرح ایکٹ 1991کے مطابق پندرہ سال سے کم عمر بچوں کے کام پر پابندی ہونے کے باوجود چائلڈ لیبر پر قابو نہیں پایا جاسکا۔ گھریلو مزدور بچوں کے حوالے سے ہمارے معاشرتی رویے یہ ہیں کہ وہ بچوں کو گھریلو کاموں کے لیے ملازم رکھ کے یہ سمجھتے ہیں کہ وہ اس بچے کے غریب خاندان کی مدد کر رہے ہیں یہ سوچ بدلنے کی ضرورت ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ غربت چائلڈ لیبر کی بڑی وجہ نہیں بلکہ چائلڈ لیبر کی وجہ سے غربت بڑھتی ہے کیونکہ گھریلو ملازم بچہ تعلیم حاصل نہیں کر پاتا اور نہ کوئی ہنر سیکھ سکتا ہے نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ اور اس کا خاندان تاحیات غربت کی چکی میں پستہ رہتا ہے۔ اگر وہ تعلیم حاصل کرے گا تو وہ ڈاکٹر، انجیئنر، بیورکریٹ، سانئس دان یا کسی بھی شعبے میں آفیسر کے طور پر کام کر کے اپنے خاندان کو غربت کے اندھیروں سے نکال سکتا ہے۔
چائلڈ لیبر سے مراد ایسا کام ہے جو بچوں کی عمر، تعلیم، جسمانی اور ذہنی نشو و نما کے لیے نقصان دہ ہو۔ چائلڈ لیبر تاریخی لحاظدے دیکھیں تو برصغیر میں چائلڈ لیبر کی روایت خصوصاً برطانوی راج سے پہلے سے موجود تھی، جب بچے خاندانی پیشوں جیسے زراعت، دستکاری، قالین بافی، کمہار کاری، لوہار کاری وغیرہ میں اپنے والدین کی مدد کرتے تھے۔برطانوی راج کے دوران صنعتکاری کی آمد کے ساتھ بچوں کو مزدور کے طور پرفیکٹریوں اور کانوں میں استعمال کیا جانے لگا، جس نے اسے ایک باقاعدہ مزدوری کی شکل دی۔
پاکستان میں 1947 میں آزادی کے بعد بھی چائلڈ لیبر جاری رہی کیونکہ غربت،تعلیم کا فقدان تھا اور بڑھے ہوئے خاندانی اخراجات نے غریب گھروںکے بچوں کو محنت مزدوری کرنے پر مجبور کیا،1950 اور 1960 کی دہائی میں، جب پاکستان میں صنعتیں اور کارخانے فروغ پانے لگے، تب بھی بچوں کو سستے مزدور کے طور پر استعمال کیا جانے لگا۔چائلڈ لیبر کو بطور "مسئلہ" حکومت نے 1980 کی دہائی میں سنجیدگی سے لینا شروع کیا۔
چائلڈ لیبر ایک ایسا المیہ ہے جو صرف ایک معاشرتی، قانونی یا معاشی مسئلہ نہیں بلکہ یہ ہمارے اجتماعی ضمیر کا امتحان بھی ہے۔ جب ہم کسی چوراہے، بازار یا ٹریفک سگنل پر پھٹے پرانے کپڑوں میں ملبوس ننھے بچوں کو ہاتھ پھیلائے یا محنت مشقت کرتے دیکھتے ہیں تو ہمیں یہ سوال ضرور اٹھانا چاہیے کہ یہ بچے یہاں کیوں ہیں؟ اور اس کے پیچھے والدین کا کیا کردار ہے؟
چائلڈ لیبر کی دو مختلف مگر ظالمانہ صورتیں ہیں ایک براہِ راست چائلڈ لیبر اور دوسرابالواسطہ چائلڈ لیبر ہے۔ چائلڈ لیبر کی مختلف اقسام میں والدین کا کردار بظاہر مختلف ضرور نظر آتا ہے، مگر حقیقت میں دونوں صورتیں بچوں کے بنیادی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہیں۔
براہِ راست چائلڈ لیبر میں والدین خود بچوں کو بھیک منگوانے یا سڑکوں پر چھوٹے موٹے کاموں میں لگا دیتے ہیں۔ بچے فٹ پاتھوں، بازاروں یا ورکشاپوں میں دن بھر کام کرتے ہیں۔ ان کی کمائی والدین کے ہاتھ میں جاتی ہے، جو اسے اپنی مجبوری سمجھ کر قبول کر لیتے ہیں جبکہ. بالواسطہ چائلڈ لیبر جو کہ استحصال کی چھپی ہوئی شکل ہے یہ وہ صورت ہے جہاں والدین اپنے بچوں کو گھریلو ملازمت، ہوٹلوں، دکانوں یا ورکشاپوں میں ملازم رکھوا دیتے ہیں اور خود تنخواہ وصول کرتے ہیں۔ بعض اوقات بچوں کو "پکا کام" دلانے کے نام پر دوسرے شہروں میں بھی گھریلو ملازم کے طور پربھیج دیا جاتا ہے۔ بچے نہ تعلیم حاصل کر پاتے ہیں، نہ آزادی سے کھیل سکتے ہیں، نہ ہی ان کی جسمانی یا ذہنی نشوونما کا کوئی خیال رکھا جاتا ہے۔یہ دونوں صورتیں چائلڈ لیبر کے زمرے میں آتی ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق 14 سال سے کم عمر بچوں سے محنت مشقت لینا چائلڈ لیبر میں شمار ہوتا ہے۔ بچوں سے گھروں میں کام کروانا بھی ویسا ہی استحصال ہے جیسا کہ سڑکوں پر بھیک منگوانا۔یہ عمل نہ صرف غیر قانونی ہے بلکہ بچوں کی جسمانی و ذہنی صحت، تعلیم اور تحفظ پر شدید منفی اثرات ڈالتا ہے۔ان دونوں صورتوں میں بچے تعلیم، تحفظ، کھیل اور پیار سے محروم رہ جاتے ہیں، اور بچپن ایک ایسا بوجھ بن جاتا ہے جو عمر بھر انہیں توڑتا رہتا ہے۔والدین چاہے سڑکوں پر بچوں کو بھیجیں یا گھروں میں کام دلوا کر تنخواہ لیںیہ دونوں صورتیں چائلڈ لیبر کے دائرے میں آتی ہیں اور اس میں والدین برابر کے مجرم ہیں۔
بچپن ایک نعمت ہے، اسے محنت، غربت اور بے حسی کی صلیب پر نہیں چڑھایا جانا چاہیے نہ کہ استحصال سے روند دیا جائے ۔ اسے تعلیم، کھیل، تربیت اور محبت سے سنوارا جانا چاہیے،یہ صرف بچوں کا نہیں، پوری قوم کا مستقبل ہے جسے ہم ضائع کر رہے ہیں۔ سرکاری اور غیر سرکاری رپورٹوں کے مطابق پنجاب میں ہر دسواں بچہ کسی نہ کسی شکل میں مشقت کر رہا ہے۔ بھٹوں، زراعت، قالین بافی، گھریلو کام، چائے کے ہوٹل، ورکشاپس اور چھوٹے کارخانوں میں بچے کم اُجرت اور سخت ماحول میں کام کرنے پر مجبور ہیں۔ غربت، تعلیم کی کمی، والدین کا شعور نہ ہونا، اور ریاستی نظام کا غیر مؤثر ہونا اس کا بڑا سبب ہیں۔
پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کی موجودہ صورتحال یہ ہے کہ پنجاب میں تقریباً 56.3 ملین بچے (18 سال سے کم عمر) ہیں جو پورے پاکستان کے بچوں کا تقریباً نصف حصہ بنتے ہیں ۔ 2019–20 کے سروے کے مطابق،5سے 17 سال کی عمر کے تقریباً 16.9 فیصد بچے مزدوری کرتے ہیں جبکہ 5سے14 سال کے بچوں میں یہ شرح 13.4فیصد تھی ۔10سے 14سال کے بچوں میں قریب 47.8فیصد خطرناک شعبوں میں کام کر رہے ہیں، جن میں بھٹوئی (brick kilns)، زراعت اور گھریلو ملازمت شامل ہیں۔گھریلو ملازمت کے ضمن میں والدین کا بھاری قرض وصول کرنے کی بنا پر بچے مالکان کے ہاتھوں تشدد کا شکار ہوتے ہیں۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ گھریلو ملازمت میں مشغول بچیاں نہ صرف مشقت بلکہ تشدد اور جنسی استحصال کا بھی شکار ہوتی ہیں۔ حالیہ برسوں میں ایسے کئی افسوسناک واقعات منظرِ عام پر آ چکے ہیں جن میں معصوم گھریلو ملازماؤں کو اذیت دے کر موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ 2019 سے 2025 کی مدت میں 190 تشدد/قتل کے کیسز رپورٹ کیے گئے، جن میں 43 لڑکیوں کی ہلاکت بھی شامل تھی ۔2024میں پنجاب میں چائلڈ لیبر کے 895 کیسز پولیس میں رپورٹ ہوئے، لیکن صرف 37فیصد میں جرم ثابت ہو سکا جو لمحہ فکریہ ہے۔
پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں چائلڈ لیبر کی بڑھتی ہوئی تعداد نہ صرف ہمارے سماجی نظام کی کمزوری کو عیاں کرتا ہے بلکہ بچوں کے بنیادی حقوق کی پامالی کا منہ بولتا ثبوت بھی ہے۔ ایسے بچے جنہیں اسکول میں ہونا چاہیے، کتابیں اور کھلونے ان کا حق ہونا چاہیے، وہ اینٹوں کے بھٹوں، ورکشاپس، ہوٹلوں، کھیتوں اور گھروں میں مشقت کرتے نظر آتے ہیں۔
پنجاب میں چائلڈ لیبر ایک سنگین سماجی، معاشی اور انسانی مسئلہ ہے جس کا خاتمہ صرف قانون سازی سے نہیں بلکہ اجتماعی شعور، حکومتی عملدرآمد، اور والدین کی مالی مدد کے ذریعے ممکن ہے۔ جب تک ہر بچہ اسکول نہیں جائے گا، اور ہر مزدوری کرنے والا بچہ تعلیم و تحفظ حاصل نہیں کرے گا، پنجاب کی ترقی مکمل نہیں ہو سکتی۔
پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں غربت ایک حقیقت ہے۔چائلڈ لیبر صرف ایک معاشرتی مسئلہ نہیں بلکہ یہ ہماری قوم کے مستقبل سے جڑا ہوا معاملہ ہے۔ جب تک ہم معصوم ہاتھوں سے ہتھوڑی اور برتن چھین کر انہیں قلم اور کتاب نہیں دیں گے، اس وقت تک ترقی صرف ایک خواب ہی رہے گی۔ چائلڈ لیبر کا خاتمہ صرف حکومت کی نہیں، پوری قوم کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔ جب تک والدین اپنے بچوں کو کمائی کا ذریعہ سمجھتے رہیں گے، اس ناسور کا خاتمہ ممکن نہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم ان بچوں کے حق میں آواز بلند کریں جو اپنی معصوم عمر میں مزدوری کا بوجھ اٹھا رہے ہیں، تاکہ کل کا پاکستان ایک بہتر، تعلیم یافتہ اور خوشحال معاشرہ بن سکے۔ ہمیں بطور معاشرہ، بطور ریاست، اور بطور انسان، چائلڈ لیبر کے خلاف مؤثر اور عملی اقدامات اٹھانے ہوں گے۔
بچپن کسی کی مجبوری کا کفارہ نہیں، بلکہ ہر بچے کا بنیادی حق ہے۔ اگر ہم واقعی چائلڈ لیبر کے خاتمے کے خواہاں ہیں تو ہمیں بچوں کے استحصال میں شریک والدین کو بھی احتساب کے کٹہرے میں لانا ہوگا۔ کیونکہ خاموشی بھی جرم ہوتی ہے، اور بعض اوقات ماں باپ کی خاموشی بچوں کے خوابوں کو دفن کر دیتی ہے۔چائلڈ لیبر کا خاتمہ تب ہی ممکن ہے جب والدین، حکومت، میڈیا اور معاشرہ ایک ساتھ مل کر اس ناسور کے خلاف کھڑے ہوں۔ صرف ریاستی اداروں کو ذمہ دار ٹھہرانا کافی نہیں، والدین کو بھی اپنی ذمہ داری کا احساس دلانا ہوگا۔ بچوں کو بھیک مانگنے یا کام پر بھیجنے کے بجائے، ان کے ہاتھوں میں کتابیں تھمانا ہوں گی۔ کیونکہ یہی بچے کل کے پاکستان کا مستقبل ہیں ۔ اور اگر ہم نے آج ان کی پرورش میں کوتاہی کی، تو کل ہمیں پچھتانا پڑے گا۔ کیا ہم بچوں کو مزدور بنانے کے بجائے معمارِ قوم بننے کا موقع دے سکتے ہیں؟ یہ فیصلہ ہمیں آج کرنا ہے، ابھی کرنا ہے۔
پاکستان میں چائلڈ لیبر کے خلاف قوانین موجود ہیں۔ گھریلو ملازمین ایکٹ 2019، چائلڈ لیبر ایکٹ 1991 اور دیگر صوبائی قوانین ہیں۔ چائلڈ لیبر ایکٹ 1991 کے مطابق14 سال سے کم عمر بچوں سے کسی بھی قسم کی مزدوری کروانا جرم ہے۔اور15 سے 18 سال تک کے بچوں سے صرف ہلکی نوعیت کا کام اور مخصوص شرائط پر مزدوری کروائی جا سکتی ہے۔ کم عمر بچوں کو گھریلو کام کاج کے لیے رکھنا ممنوع ہے۔بچوں سے مزدوری کروانے والے والدین یا سرپرست بھی قانونی کارروائی کے دائرے میں آتے ہیں۔مگر المیہ یہ ہے کہ قانون صرف کتابوں میں بند ہے، اور عملدرآمد کہیں نظر نہیں آتا۔
معاشرہ تبھی بدل سکتا ہے جب والدین خود اپنی سوچ بدلیں۔ ریاست تبھی کردار ادا کر سکتی ہے جب وہ صرف رپورٹیں شائع کرنے کے بجائے عملی اقدامات کرے۔ اور میڈیا تبھی بااثر ہوگا جب وہ صرف مظلوم بچوں کی تصاویر دکھانے کے بجائے، والدین کی دانستہ غفلت پر بھی روشنی ڈالے۔والدین کو یہ باور کروانا ہوگا کہ بچوں کی تعلیم اور تربیت ہی ان کا اصل سرمایہ ہے۔ ریاست کی طرف سے ایسے والدین کو مالی اور معاشرتی مدد دی جائے جو واقعی غربت کے مارے ہوں۔