افغان سرحد کی بندش ، چمن میں مال برادر گاڑیوں کے ڈرائیور پریشان

 پیسے ختم ہونے کے باعث کھانے پینے کی اشیا خریدنے کے قابل بھی نہیں رہے
 حکومت مشکل صورتحال سے نکالنے کیلئے  کوئی راستہ نکالے،ڈرائیورز کی اپیل 
کوئٹہ (آئی این پی )بلوچستان کے سرحدی شہر چمن میں پھنسے کنٹینروں اور دیگر مال بردار گاڑیوں کے ڈرائیوروں کو مشکلات کا سامنا   ہے۔ ان مال بردار گاڑیوں کے ڈرائیوروں کا کہنا ہے کہ پیسے ختم ہونے کے باعث وہ کھانے پینے کی اشیا خریدنے کے قابل نہیں۔ بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق بڑی تعداد میں پھنسی گاڑیوں میں پاکستانی سامان ہے جو کہ پاکستان کے مختلف شہروں سے افغانستان کے لئے  بک ہوا تھا۔ڈرائیوروں نے حکومت سے اپیل کی کہ وہ انھیں اس مشکل صورتحال سے نکالنے کیلئے  کوئی راستہ نکالیں۔بلوچستان میں سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ چونکہ سرحد کا معاملہ وفاقی حکومت کا ہے اس لئے ڈرائیوروں کے مسئلے کا حل وفاقی حکومت ہی نکال سکتی ہے۔افغانستان سے متصل سرحدی شہر چمن میں مال بردار گاڑیوں کی ایک بڑی تعداد پاکستان اور افغانستان کے درمیان تنا کے باعث 12 اکتوبر سے پھنسی ہوئی ہے۔ کشیدگی اور سرحد کی بندش کے باوجود افغانستان کے سرحدی شہر سپین بولدک میں جو خالی پاکستانی گاڑیاں پھنس گئی تھیں ان کو آنے ؐ,ؑ۷,  بارڈر کو خصوصی طور پر کھول دیا گیا تھا۔ جبکہ پاکستان سے واپس جانے والے افغان مہاجرین کیلئے  بھی سرحد کھلی ہوئی ہے۔تاہم ان مال بردار گاڑیوں کے بارے میں تاحال کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔ ڈرائیور ملت خان نے بتایا کہ انھیں یہاں پھنسے ہوئے 35 دن سے زیادہ ہوگئے ہیں۔ ان کی گاڑیوں میں سے کسی میں گھی ہے، کسی میں چینی اور کسی میں پرچون کا سامان۔ لیکن سرحد کی بندش کی وجہ سے وہ یہ مال افغانستان نہیں لے جاسکتے۔انھوں نے بتایا کہ ان کے پاس پیسے ختم ہوگئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی گاڑیوں میں جو سامان ہے وہ انھوں نے چند کلومیٹر دور سرحد کی دوسری جانب سپین بولدک میں خالی کرنا ہے۔ انھوں نے دونوں حکومتوں سے اپیل کی کہ وہ ان کیلئے  کوئی راستہ نکالیں تاکہ یہاں پھنسنے کی وجہ سے وہ جس اذیت سے دوچار ہیں اس سے ان کو نجات ملے۔ایک اور ڈرائیور نعیم شاہ نے بتایا کہ گاڑیوں میں 50 سے 60 ٹن سامان ہے اور کئی روز سے اس وزن کے باعث ٹائروں کا بڑا نقصان ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے پاس پیسے وغیرہ ختم ہوگئے ہیں اور جب ہم پیسوں کیلئے  بروکرز کو فون کرتے ہیں تو ان کا یہی جواب ہوتا ہے کہ وہ خود پیسوں کی تلاش میں ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ گاڑیوں کے مالکان کو چاہییے کہ وہ ڈرائیوروں کا خیال رکھیںافغان سرحد