امریکی صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ تہران کے پاس معاہدہ کرنے کے لیے صرف دو سے تین دن کا وقت باقی ہے۔
صدر ٹرمپ کے مطابق وہ ایران پر حملے کا حکم دینے کے بہت قریب پہنچ چکے تھے، تاہم بعد میں اس کارروائی کو مؤخر کیا گیا تاکہ مذاکرات کو ایک اور موقع دیا جا سکے۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکا ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے گا اور اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو سخت فیصلے کیے جا سکتے ہیں۔دوسری جانب امریکی نائب صدر نے کہا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت ہو رہی ہے اور دونوں ممالک کسی نئی جنگ یا فوجی مہم کے خواہشمند نہیں ہیں۔ ان کے مطابق سفارتی کوششیں جاری ہیں اور کشیدگی کم کرنے کے لیے حل تلاش کیا جا رہا ہے۔
ادھر ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے خبردار کیا ہے کہ ایران نے گزشتہ جنگی صورتحال سے اہم فوجی تجربہ حاصل کیا ہے اور اگر دوبارہ جنگ مسلط کی گئی تو دنیا کو غیر متوقع صورتحال کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایران اب پہلے سے زیادہ تیار ہے اور کسی بھی ممکنہ کارروائی کا سخت جواب دے گا۔خطے میں امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے باعث مشرق وسطیٰ کی صورتحال ایک بار پھر غیر یقینی کا شکار ہے، جبکہ عالمی سطح پر فریقین کو مذاکرات جاری رکھنے پر زور دیا جا رہا ہے۔