زندگی کی نئی صبح، ڈاکٹر عبدالباری کے نام

 سجاد علی شاکر

کراچی کے انڈس اسپتال میں حال ہی میں ایک ایسا کام انجام پایا ہے جس پر نہ صرف فخر کیا جا سکتا ہے بلکہ اسے ملک کی طبی تاریخ میں سنہری حروف سے لکھا جانا چاہیے۔ ایک ایسی دوا جو مغربی ممالک میں صرف امیروں کے لیے دستیاب تھی، اب پاکستان میں غریب اور ضرورت مند بچوں کو بالکل مفت فراہم کی جا رہی ہے۔ اور یہ کوئی عام دوا نہیں بلکہ دنیا کی مہنگی ترین دوا ہے، جو سسٹک فائبروسس جیسے مہلک مرض میں مبتلا بچوں کی زندگیوں کو نئی سانس دے رہی ہے۔سسٹک فائبروسس ایک پیچیدہ جینیاتی بیماری ہے جو بچے کے پھیپھڑوں اور نظامِ ہضم کو بری طرح متاثر کرتی ہے۔ اس بیماری کے شکار بچے نہ تو آسانی سے سانس لے پاتے ہیں اور نہ ہی غذا سے مناسب توانائی حاصل کر پاتے ہیں۔ پاکستان جیسے ملک میں جہاں خاندانی شادیاں عام ہیں، ایسے جینیاتی امراض کا خطرہ کئی گنا بڑھ جاتا ہے، مگر بدقسمتی سے تشخیص نہ ہونے کے برابر ہے۔ اکثر اسے دمہ یا نمونیا سمجھ کر علاج کیا جاتا ہے، اور مرض اندر ہی اندر جڑ پکڑ لیتا ہے۔انڈس اسپتال نے اس چیلنج کو قبول کیا اور اپنی پیشہ ور ٹیم کی بدولت نہ صرف سسٹک فائبروسس کی مفت تشخیص ممکن بنائی بلکہ اب دنیا کی جدید ترین اور سب سے مہنگی دوا بھی بلا معاوضہ فراہم کی جا رہی ہے۔ اس دوا کا نام ٹرکافٹا ہے، اور امریکہ میں اس کا سالانہ خرچ کروڑوں روپے بنتا ہے، جس کا تصور بھی ایک عام پاکستانی خاندان نہیں کر سکتا۔اس شاندار قدم کے پیچھے وہ شخصیت ہے جس کا نام ہمارے ملک میں خدمتِ خلق کی علامت بن چکا ہے: ڈاکٹر عبدالباری۔ وہ انڈس ہیلتھ نیٹ ورک کے بانی اور سربراہ ہیں، اور ان کی قیادت میں انڈس اسپتال صرف ایک طبی ادارہ نہیں بلکہ ایک ایسا نظام بن چکا ہے جو انسانیت کی اصل روح کو مجسم کرتا ہے۔ ڈاکٹر عبدالباری کی سوچ بہت سادہ مگر انقلابی ہے،علاج کی سہولت صرف امیروں کی میراث نہیں ہونی چاہیے، بلکہ ہر انسان، چاہے وہ کسی بھی طبقے سے تعلق رکھتا ہو، اس کا حق رکھتا ہے کہ اسے عزت کے ساتھ معیاری طبی سہولیات میسر آئیں۔انڈس اسپتال میں علاج مکمل طور پر مفت ہے۔ نہ کوئی کیش کاونٹر ہے، نہ فیس، نہ نسخے کی قیمت، نہ ٹیسٹ کا خرچ۔ یہاں مریض کو سب کچھ ملتا ہے، وہ بھی عزت و وقار کے ساتھ۔ اور یہی اصل انسان دوستی ہے۔ٹرکافٹا کی مفت فراہمی صرف دوا کی حد تک محدود نہیں۔ ان بچوں کے لیے مکمل غذائیت بخش خوراک، ضروری وٹامنز، ہاضمے کے انزائمز، نفسیاتی معاونت اور مسلسل فالو اپ بھی اسی پروگرام میں شامل ہیں۔ یہ کوئی وقتی امداد نہیں بلکہ ایک مکمل علاجی نظام ہے جو دنیا کے جدید ترین طبی معیار پر مبنی ہے۔اس منصوبے کو عملی شکل دینے میں انڈس اسپتال کے ماہر اطفال ڈاکٹر محمد فریدالدین اور پھیپھڑوں کی بیماریوں کی ماہر ڈاکٹر سعدیہ سعید کی کاوشیں لائق تحسین ہیں۔ ان ماہرین نے نہ صرف اس دوا کو پاکستان لانے کے لیے دن رات محنت کی، بلکہ یہ بھی یقینی بنایا کہ دوا کا ہر مستحق مریض اس سے مستفید ہو سکے۔ بیرون ملک تنظیموں، خاص طور پر امریکی اداروں کا تعاون اس پروگرام میں کلیدی رہا، لیکن اصل محنت پاکستان کے ان فرشتوں کی ہے جنہوں نے اسے ممکن بنایا۔یہ کالم صرف انڈس اسپتال یا ایک دوا کی کہانی نہیں، بلکہ ایک نظریے کی تائید ہے کہ اگر نیت نیک ہو اور مقصد انسانیت کی خدمت ہو تو دنیا کی کوئی طاقت راستہ نہیں روک سکتی۔ آج پاکستان میں ایک بچہ، جس کے والدین دوا کے اخراجات سن کر مایوس ہو جاتے تھے، اب صحت کی طرف بڑھ رہا ہے۔ وہ بچہ جو رات کو سانس لینے میں گھٹتا تھا، آج سکون سے سو رہا ہے۔ اور یہ سب اس لیے ممکن ہو پایا کہ کچھ لوگوں نے پیسے کو نہیں، انسان کو ترجیح دی۔یہ ایک مثال ہے، ایک ماڈل ہے، ایک روشنی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت، نجی شعبے، اور عوام مل کر ایسے منصوبوں کو وسعت دیں۔ ڈاکٹر عبدالباری جیسے افراد قومی سرمایہ ہیں، اور ان کی سوچ سے رہنمائی لے کر ہم ایک ایسا پاکستان تشکیل دے سکتے ہیں جہاں صحت ہر شہری کا بنیادی حق ہو، نہ کہ صرف ایک خواب۔زندگی کی سانس اب کسی طبقے کی جاگیر نہیں۔ اگر چاہیں، تو ہر سانس کو محفوظ بنایا جا سکتا ہے۔ انڈس اسپتال نے یہ کر کے دکھایا ہے۔ اب باقی ہم پر ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔