قانون سازی کے باوجود مضر فضلہ پاکستان لایا جارہا ہے: سینیٹر شیری رحمان

پلاسٹک کی بوتلوں کا بائیکاٹ ،آئندہ کسی اجلاس میں نہ رکھی جائیں ،قائمہ کمیٹی ماحولیاتی تبدیلی کے اجلاس میں گفتگو
  اسٹیٹ بینک گرین فنانسنگ میں مدد فراہم کرتا ہے،سٹیک ہولڈرزسے معلومات کاتبادلہ بھی کرتے ہیں،گورنر جمیل احمد
 اسلام آباد (آئی این پی )سینیٹر شیری رحمان نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے ماحولیاتی تبدیلی کے اجلاس میں بتایا ہے کہ قانون سازی کے باوجود مضر فضلہ پاکستان میں لایا جا رہا ہے، پلاسٹک کی بوتلوں کا بائیکاٹ کرتی ہوں،آئندہ کسی اجلاس میں پلاسٹک کی بوتلیں نہ رکھی جائیں ۔اسٹیٹ بینک آف پاکستان میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے ماحولیاتی تبدیلی کا اجلاس سینیٹر شیری رحمان کی صدارت میں ہوا۔ اجلاس سے خطاب میں شیری رحمان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں 2021 میں قانون سازی کے بعد مضر فضلہ کی پاکستان آمد نمایاں کم ہوئی ہے تاہم قانون سازی کے باوجود مضر فضلہ پاکستان میں لایا جا رہا ہے۔شیری رحمان نے کہا کہ پاکستان میں انفارمل سیکٹر بڑا ہونے کی وجہ سے ری سائیکلنگ کا تناسب کم ہے، دنیا میں 9فیصد فضلہ ری سائیکل ہوتا ہے، پاکستان میں یہ تناسب ایک فیصد ہے۔ شیری رحمان نے کہا کہ سبز معیشت کے تصور کو ممکن بنانے کے لیے صوبائی حکومتوں سمیت تمام سٹیک ہولڈرز کو شامل کیا جائے گا۔  اراکین قومی و صوبائی اسمبلی کی معاونت حاصل کی جائے۔ صوبائی حکومتوں کے تمام اداروں اور صنعت و تجارت کو بھی کاربن میں کمی کے اقدامات پر جواب دہ ہونا ہوگا۔ عوامی سطح پر ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات کے لیے آگاہی مہم چلائی جائے۔ گورنراسٹیٹ بینک جمیل احمد نے قائمہ کمیٹی ماحولیات کو بریفنگ میں کہا کہ اسٹیٹ بینک گرین فنانسنگ میں مدد فراہم کرتا ہے۔ہم سٹیک ہولڈرزسے اس حوالے سے معلومات کاتبادلہ بھی کرتے ہیں۔ ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک سلیم اللہ نے گرین ٹیکسونومی کے بارے میں قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی ماحولیات کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ سبز ٹیکسونومی ایک درجہ بندی کا نظام ہے جو یہ تعریف کرتا ہے کہ کون سی اقتصادی سرگرمیاں اور اثاثے سبزیا ماحولیاتی طور پر پائیدار ہیں۔ ٹیکسو نومیز کا مقصد سبز سرگرمیوں میں سرمایہ کاری کو بڑھانا اور مالیاتی شعبے میں گرین واشنگ کا پتا لگانے کے ذریعے شفافیت کو فروغ دینا ہے۔