ملک میں ایل پی جی کی سرکاری قیمت 308 روپے 76 پیسے فی کلو مقرر ہونے کے باوجود اوپن مارکیٹ میں اس پر عملدرآمد نہ ہونے کے باعث صورتحال سنگین ہوتی جا رہی ہے۔
مختلف شہروں اور علاقوں میں ایل پی جی 550 سے 600 روپے فی کلو تک فروخت کی جا رہی ہے، جس نے غریب اور متوسط طبقے کے گھریلو بجٹ کو شدید متاثر کر دیا ہے۔
قیمتوں میں غیر معمولی فرق
مارکیٹ ذرائع کے مطابق سرکاری نرخ اور اوپن مارکیٹ قیمتوں میں 200 سے 300 روپے فی کلو تک کا واضح فرق پایا جا رہا ہے۔ دکاندار اور گیس ڈیلرز سرکاری نرخ نامے کو نظر انداز کرتے ہوئے من مانی قیمتیں وصول کر رہے ہیں، جبکہ کہیں کہیں قلت کو جواز بنا کر مزید مہنگائی بھی کی جا رہی ہے۔
شہریوں کی مشکلات میں اضافہ
شہریوں کا کہنا ہے کہ ایل پی جی پہلے ہی گھریلو استعمال کے لیے ایک اہم ذریعہ ہے، خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں قدرتی گیس کی فراہمی محدود ہے۔ موجودہ صورتحال میں مہنگی ایل پی جی نے کھانا پکانے سمیت روزمرہ کے اخراجات میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے۔
ایک شہری کے مطابق:
“تنخواہ وہی ہے لیکن گیس اور روزمرہ چیزوں کی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں، گھر چلانا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔”
اوورچارجنگ اور ذخیرہ اندوزی کے الزامات
مارکیٹ میں موجود بعض افراد پر الزام ہے کہ وہ مصنوعی قلت پیدا کر کے قیمتیں بڑھا رہے ہیں۔ شہریوں اور صارفین کی جانب سے شکایات موصول ہونے کے باوجود مؤثر کارروائی نہ ہونے پر تشویش بڑھ رہی ہے۔