وزارت توانائی نے آئی ایم ایف شرط پر بجلی بلوں میں صارفین کیلئے اضافی سرچارج عائد کرنے کی منظوری دے دی
اسلام آباد (خصوصی رپورٹ)وزارت توانائی نے آئی ایم ایف شرط پر بجلی بلوں میں صارفین کیلئے اضافی سرچارج عائد کرنے کی منظوری دے دی۔ سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ اجلاس میں سرچارج پر وزارت توانائی حکام کی بریفنگ کے دوران بتایا کہ اس وقت کم سے کم سرچارج 2 روپے 83 پیسے تک عائد ہے، سرچارج عائد کرنے کیلئے کیپ کو ختم کر رہے ہیں جس سے مزید سرچارج عائد ہو گا گردشی قرضہ ختم کرنے کیلئے کمرشل بینکوں سے 1.27 ٹریلین روپے قرض لیا گیا، وزیرمملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے بتایا کہ کمرشل بنکوں کو قرض کی رقم واپس کرنے کیلئے شارٹ فال کی صورت میں صارفین سے اضافی رقم وصول ہو گی، سیکرٹری وزارت پاور کا کہنا تھا کہ 2026 کے دوران شارٹ فال ہوا تو مالی سال 2027 کے دوران 20 پیسے فی یونٹ پر ڈیٹ سروس سرچارج عائد ہو گا بینکوں سے لیے گئے قرض کو 6 برسوں میں پے بیک کرنا ہے قومی اسمبلی اور سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ سے اس تجویز کو متفقہ طور پر منظور کیا گیا ہے سید نوید قمر کی زیرصدارت قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی خزانہ سے حکومت کو رواں مالی سال پٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی کی شرح 90 روپے تک بڑھانے کی اجازت مل گئی وزیرمملکت نے بتایا کہ ضرورت پڑی تو آئندہ مالی سال کے دوران حکومت لیوی کی شرح 90 روپے کر سکتی ہے، قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی خزانہ سے پٹرولیم لیوی اور کاربن لیوی عائد کرنے کی تجویز منظور کر لی گئی وزارت خزانہ حکام نے بتایا کہ پٹرولیم لیوی کے علاوہ پٹرولیم مصنوعات پر کاربن لیوی یا ٹیکس بھی عائد کی جا سکے گی، قومی اسمبلی کی کمیٹی میں آج کاربن لیوی یا ٹیکس عائد کرنے کا فیصلہ کیا جائے گا اگر کاربن ٹیکس لگا تو صوبوں کو بھی شیئر دیا جائے گا سیکرٹری پاور نے بتایا کہ فرنس آئل پر بھی پی ڈی ایل عائد کرنے کی تجویز ہے جس سے 100 ارب رویونیو متوقع ہے۔