آئی ایم ایف کاپاکستان سے پھر ڈومور کامطالبہ قرض کی اگلی قسط کیلئے مزید کڑی شرائط رکھ دیں
عالمی مالیاتی فنڈ کی جانب سے ماحولیاتی تحفظ کیلئے کاربن ٹیکس لگانے، اگلے تین سال پٹرولیم لیوی میں سالانہ 3روپے فی لیٹر اضافے کی بھی تجویز، حکومت نے بجلی پر اضافی سرچارج پر آمادگی ظاہر کرتے ہوئے دیگر ٹیکسوں کی مخالفت کردی
قرض کی اگلی قسط کیلئے پاکستان اور عالمی مالیاتی فنڈ کے درمیان تکنیکی سطح کے مذاکرات مکمل ،آج سے پالیسی سطح کی بات چیت ہوگی، مذاکرات میں نئے مالی سال کے بجٹ اور معاشی اہداف پر بھی مشاورت بھی ہوگی
اسلام آباد(آئی این پی )قرض کی اگلی قسط کیلئے پاکستان اور عالمی مالیاتی فنڈ کے درمیان تکنیکی سطح کے مذاکرات مکمل ہوگئے ۔ آئی ایم ایف نے پاکستان سے پھر ڈو مور کا مطالبہ کردیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق عالمی مالیاتی فنڈ نے قرض کی اگلی قسط کیلئے مزید کڑی شرائط رکھ دی ہیں، بجلی پر 2روپے 80پیسے سرچارج لگانے کا مطالبہ کیا گیا، پٹرولیم لیوی بھی بتدریج 60سے بڑھا کر 70روپے فی لیٹر کرنے پر زور دیا ہے، ماحولیاتی تحفظ کیلئے کاربن ٹیکس لگانے کی تجویز دی ہے، تاہم حکومت نے بجلی پر اضافی سرچارج پر آمادگی ظاہر کرتے ہوئے دیگر ٹیکسوں کی مخالفت کردی۔ رپورٹس کے مطابق قرض کی اگلی قسط کیلئے پاکستان اور عالمی مالیاتی فنڈ کے درمیان تکنیکی سطح کے مذاکرات مکمل ہوچکے ہیں، آج پیر سے پالیسی سطح کی بات چیت میں بجٹ اہداف پرمشاورت ہوگی، پاکستان نے اب تک آئی ایم ایف کو بریفنگ میں بتایا ہے کہ مہنگائی 12 فیصد ہدف کے مقابلے 7فیصد رہے گی، جی ڈی پی گروتھ ساڑھے 4 فیصد تک جاسکتی ہے، آئی ایم ایف نے اگلے تین سال پٹرولیم لیوی میں سالانہ 3 روپے فی لیٹر اضافے کی تجویز دی ہے، نئی پانچ سالہ انرجی وہیکلز پالیسی پر بھی کام جاری ہے،پالیسی سطح کے مذاکرات میں نئے مالی سال کے بجٹ اور معاشی اہداف پر بھی مشاورت بھی ہوگی۔