سوات(خصوصی رپورٹ)وادی کالام کی سطح سمندر سے تقریباً 19 ہزار 400 فٹ بلند فلک سیر (کے ٹو۔2)چوٹی پر پیش آنے والے افسوسناک حادثے میں خوازہ خیلہ کے مقامی کوہ پیما علی شاہ جاں بحق ہوگئیجبکہ راولپنڈی سے تعلق رکھنے والے 3 کوہ پیما زخمی ہو گئے۔ شدید برفانی طوفان، دشوار گزار راستوں اور مواصلاتی نظام نہ ہونے پر واقعے کی اطلاع کئی روز بعد ضلعی انتظامیہ اور ریسکیو اداروں تک پہنچی۔پولیس کے مطابق عباس سکنہ لوندخوڑ مردان نے چوکی مٹلتان میں درج بیان میں بتایا کہ وہ رحیم سکنہ مدین، ہارون، حارث ظفر سکنہ راولپنڈی، عبد الستار خان سکنہ سمبٹ مٹہ اور علی شاہ سکنہ وچ خوڑ خوازہ خیلہ کے ہمراہ 5 جولائی کو فلک سیر چوٹی سر کرنے کیلئے روانہ ہوئے۔ 10 جولائی کو چوٹی پر پہنچے اور ایک رات قیام کے بعد 11 جولائی کو واپسی پر اچانک شدید برفانی طوفان کی زد میں آ گئے۔ اس دوران حفاظتی رسی ٹوٹنے پر علی شاہ گہری کھائی میں جا گرے۔ ساتھی کوہ پیمائوں نے تلاش کے بعد انہیں شدید زخمی حالت میں ڈھونڈ لیا تاہم انتہائی سرد موسم، شدید زخمی ہونے اور بروقت طبی امداد نہ ملنے پر وہ 12 جولائی کی صبح دم توڑ گئے۔ اسی دوران ہارون کی طبیعت بھی شدید خراب ہو گئی جبکہ انتہائی دشوار گزار اور برف سے ڈھکے علاقے کے باعث علی شاہ کی لاش کو نیچے منتقل نہ کر سکے جو تاحال جائے وقوعہ پر موجود ہے۔ریسکیو 1122 سوات کے مطابق مٹلتان کے پہاڑی علاقے میں پیش آنیوالے اس واقعے میں 7 کوہ پیمامتاثر ہوئے جن میں 3 زخمی ہوئے جن میں خاور (40 سال)، حارث (22 سال)اور ہارون (27 سال)ساکنان راولپنڈی شامل ہیں جنہیں تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال کالام میں ابتدائی طبی امداد دینے کے بعد مزید علاج کیلئے سنٹرل ہسپتال سیدو شریف منتقل کر دیا گیا۔ دیگر 3 کوہ پیما محفوظ ہیں اور ضلعی انتظامیہ کے ہمراہ علی شاہ کی لاش ریکوری کیلئے موقع پر موجود ہیں۔ضلعی انتظامیہ کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق حادثہ انتہائی دشوار گزار، برف سے ڈھکے اور بلند پہاڑی مقام پر پیش آیا جہاں زمینی راستے سے ریسکیو آپریشن اور لاش کی منتقلی تقریبا ًناممکن ہے اسی لیے متعلقہ حکام کو ہیلی کاپٹر فراہم کرنے کی سفارش کی گئی ہے تاکہ لاش کو محفوظ طریقے سے نیچے منتقل کیا جا سکے۔ اطلاع بروقت نہ ملنے کی بڑی وجہ فلک سیر چوٹی کے علاقے میں مواصلاتی نظام کا نہ ہونا تھا جبکہ پولیس، ضلعی انتظامیہ، ریسکیو 1122 اور دیگر متعلقہ ادارے ریسکیو اور ریکوری آپریشن کیلئے رابطے میں ہیں۔