وادی نیلم میں کلائوڈ برسٹ،سیلابی ریلے نے تباہی مچا دی

کٹھہ پیراں،لڑی مینگل میں درجنوں دکانیں مکانات گاڑیاں مال مویشی ،پل بہہ گئے
بالاکوٹ کے علاقوں میں بھی طغیانی، مقامی افراد،سیاح ریسکیو،جمعرات تک بارشیں 
اسلام آباد، اٹھمقام،مانسہرہ،لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک )آزاد کشمیر کی نیلم ویلی میں کلائوڈ برسٹ سے سیلابی ریلے نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی۔ ادھربالاکوٹ کے بالائی علاقوں میں تیز بارش سیبرساتی نالوں میں اچانک طغیانی اور لینڈنگ سلائیڈنگ سے ٹریفک کی روانی متاثر،کئی گاڑیاں نالوں کے قریب پھنس گئیں۔ تفصیلات کے مطابق وادی نیلم کے علاقے کٹھہ پیراں اور لڑی مینگل میں کلائوڈ برسٹ سیشدید سیلابی ریلے نے تباہی مچا دی۔ اچانک طغیانی سے50 سے زائد دکانیں، متعددمکانات،4گاڑیاں ،کئی موٹر سائیکل ، درجنوں مال مویشی اور قیمتی سامان پانی کے تیز بہائو میں بہہ گیا۔ کٹھہ پیراں نالے میں شدید طغیانی سے متعدد پل بھی تباہ ہو گئے ، گائوں کا دوسرے علاقوں سے زمینی رابطہ منقطع ہو گیا۔ سیلابی ریلے نے پھلدار درخت، فصلیں اور دیگر املاک کو بھی شدید نقصان پہنچایا، بجلی کے کھمبے گرنے سے بجلی معطل ہوگئی۔ سیلابی ریلہ دن کے وقت آنے پر کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔مقامی انتظامیہ نے نقصانات کا درست اندازہ لگانے اور امدادی کارروائیوں کیلئے متاثرہ علاقے کا دورہ کیا جبکہ مقامی افراد اور تاجروں کا کہنا ہے کہ سیلاب سے کروڑوں کا نقصان ہوا ہے، دکانوں میں موجود سامان، کاروباری املاک اور اشیا ضروریہ پانی کی نذر ہو گئی ہیں۔ انہوں نے حکومت سے فوری مالی امداد اور بحالی کے اقدامات کا مطالبہ کیا۔ مانسہرہ کی تحصیل بالاکوٹ کے بالائی علاقوں میں تیز بارش سے ڈمگلہ، شوال اور بولی کے برساتی نالوں میں اچانک طغیانی اور لینڈنگ سلائیڈنگ سے متعدد مقامات پر ٹریفک کی روانی متاثر ہونے پر کئی گاڑیاں نالوں کے قریب پھنس گئیں۔ ریسکیو ٹیموں نے بروقت کارروائی کرکے پھنسے ہوئے مقامی افراد اور سیاحوں کو بحفاظت ریسکیو کیا، گاڑیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا۔ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے آج سے 23 جولائی کے دوران شدید مون سون بارشوں، دریائوں میں طغیانی اور اربن فلڈنگ کا الرٹ جاری کر دیا۔این ڈی ایم اے کے مطابق مغربی ہوا کا طاقتور سلسلہ 20 سے 23 جولائی تک گلگت بلتستان، خیبر پختونخوا، آزاد کشمیر اور بالائی پنجاب میں موسلا دھار بارشوں کا باعث بنے گا۔دریائے چناب میں مرالہ اور دریائے جہلم کے منگلا کے بالائی حصے میں سیلابی ریلوں کا امکان ہے، دریائے کابل اور اسکے معاون دریائوں خصوصاً پنجکوڑہ، سوات اور چترال میں بھی طغیانی کا خطرہ ہے۔ سیالکوٹ، نارووال، گجرات، مریدکے، ڈی جی خان، راجن پور، مری، گلیات، لوئر چترال، اپر و لوئر دیر، مالاکنڈ، شنگلہ، کوہستان، مانسہرہ، ایبٹ آباد، ہری پور، گلگت بلتستان ، آزاد کشمیر ، راولپنڈی، اسلام آباد، پشاور، گوجرانوالہ، گجرات، سیالکوٹ، نارووال، حافظ آباد، لاہور اور شیخوپورہ سمیت نشیبی علاقوں میں اربن فلڈنگ کا خطرہ ہے۔پی ڈی ایم اے نے بھی 20 سے 24 جولائی کے دوران دریائے چناب، جہلم، راوی اور ملحقہ ندی نالوں میں سیلاب کی وارننگ جاری کر دی۔ صوبہ بھر کے کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز کو الرٹ جاری کردیا گیا ۔محکمہ موسمیات نے بھی انتباہ جاری کیا ہے کہ آج سے بدھ تک ملک کے بالائی علاقوں میں موسلا دھار بارشوں اور لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ ہے۔