اسد قیصر نے حکومت کو براہِ راست دعوت دی کہ وہ خیبرپختونخوا آ کر جلسہ کریں، اور کہا کہ انہیں وہاں مکمل پروٹوکول فراہم کیا جائے گا۔
یہ دعوت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ حکومت عوام کے سامنے اپنی کارکردگی دکھائے۔
دہشت گردی کے خاتمے پر سوال:
قومی اسمبلی میں اسد قیصر نے خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے خاتمے میں ناکامی پر سوال اٹھایا اور پوچھا کہ آخر ابھی تک دہشت گردی کیوں ختم نہیں ہوئی۔ انہوں نے حکومت سے نیشنل ایکشن پلان پر مکمل عملدرآمد کا مطالبہ بھی کیا۔
سیاسی رویے پر تنقید:
انہوں نے کہا کہ اگر حکومت تحریکِ انصاف سے دشمنی رکھتی ہے تو دیگر صوبائی سیاسی جماعتوں سے بھی پوچھ سکتی ہے، اور تمام سیاسی قیادت کو بٹھا کر حقائق معلوم کرنے چاہئیں۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ حکومت کے رویے کو غیر منصفانہ قرار دے رہے ہیں۔
آئینی حقوق:
اسد قیصر نے سوال اٹھایا کہ کیا آئین تحریکِ انصاف کو جلسے جلوس کرنے کی اجازت نہیں دیتا؟ یہ بات اس تناظر میں کہی گئی کہ سیاسی سرگرمیوں میں پابندیوں کے خلاف احتجاج کیا جا رہا ہے۔
کراچی میں گل پلازا واقعہ:
انہوں نے کراچی کے گل پلازا میں لگنے والی آگ کا ذکر بھی کیا اور کہا کہ وہاں کے مناظر انتہائی افسوسناک تھے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ قومی سطح پر بھی امن و سلامتی کے مسائل اٹھا رہے ہیں۔