بھارتی ریاست کیرالہ میں 42 سالہ دیپک یو کام نے اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا، جس کے بعد پولیس نے ایک 35 سالہ خاتون شمجتھا کے خلاف خودکشی پر اکسانے کا مقدمہ درج کیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق دیپک گزشتہ ہفتے ایک ٹرانسپورٹ بس کے ذریعے سفر کر رہا تھا، جس میں شمجتھا بھی موجود تھی۔ اس نے دیپک پر مبینہ بدتمیزی کا الزام عائد کیا اور اس کا ویڈیو ریکارڈ کر کے سوشل میڈیا پر پوسٹ کر دیا۔ ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد دیپک کو معاملے کا علم ہوا، جس سے اسے شدید ذہنی دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔ اہل خانہ کے مطابق اسی دباؤ کے باعث دیپک نے اتوار کے روز اپنے کمرے میں پنکھے سے لٹک کر خودکشی کر لی۔ابتدائی طور پر پولیس نے غیر فطری موت کا مقدمہ درج کیا تھا، لیکن اہل خانہ کی شکایت کے بعد خاتون کے خلاف خودکشی پر اکسانے کا الگ مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
کیرالا اسٹیٹ ہیومن رائٹس کمیشن نے بھی اس واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے پولیس کو تحقیقات کی ہدایت کی ہے اور ایک ہفتے کے اندر رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔ذرائع کے مطابق شمجتھا ایک سیاسی جماعت کی سرگرم کارکن اور سابق منتخب نمائندہ رہ چکی ہے، جس کی وجہ سے پولیس کارروائی میں تاخیر کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔یہ واقعہ سوشل میڈیا کے اثرات اور ذہنی دباؤ کے سنگین نتائج کی طرف بھی توجہ دلاتا ہے، اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر ذمہ داری عائد کرتا ہے کہ وہ اس طرح کے معاملات کو فوری اور شفاف انداز میں حل کریں۔