ملک کے ایوان بالا (سینیٹ) کے اجلاس میں اراکین پارلیمنٹ کی تنخواہوں اور الاؤنسز سے متعلق ترمیمی بل 2025 منظور کرلیا گیا۔
بل کی تفصیلات
سینیٹر دنیش کمار نے بل پیش کیا، جس کی وفاقی وزیر قانون سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے مخالفت نہیں کی۔ اعظم نذیر تارڑ نے اپنے بیان میں کہا کہ قومی اسمبلی نے حال ہی میں ہاؤس فنانس کمیٹی کو اراکین کی تنخواہوں اور الاؤنسز سے متعلق اختیارات دیے ہیں، اور سینیٹ میں بھی یہی پالیسی اپنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ دونوں ایوانوں میں یکساں پالیسی کے تحت ہاؤس فنانس کمیٹی کو تنخواہوں اور الاؤنسز کا اختیار دیا جائے گا، جس سے ایوانوں میں ہم آہنگی پیدا ہوگی۔
دیت سے متعلق بل کمیٹی کے سپرد
اجلاس میں سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری کی جانب سے پیش کردہ دیت سے متعلق بل کو قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کے سپرد کردیا گیا۔
وفاقی وزیر قانون نے وضاحت کی کہ:
دیت کی کم سے کم حد مقرر ہے، لیکن زیادہ سے زیادہ حد متعین نہیں۔راضی نامے کی صورت میں دیت کی رقم متاثرہ فریق یا ورثاء طے کرتے ہیں، جو پچاس کروڑ یا ایک ارب روپے تک بھی ہوسکتی ہے۔عدالت فیصلہ کرے گی کہ دیت کی کتنی رقم ادا کرنی ہے۔
اہمیت اور اثرات
ترمیمی بل کی منظوری سے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں اراکین کی تنخواہوں اور الاؤنسز کے حوالے سے یکساں نظام رائج ہوگا، جبکہ دیت سے متعلق قانون میں ممکنہ تبدیلی سے ورثاء اور متاثرہ افراد کو زیادہ اختیارات حاصل ہوں گے۔یہ دونوں بل عوامی اور قانونی حلقوں میں توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں، اور ان کے اثرات مستقبل میں پارلیمانی و عدالتی نظام پر نمایاں ہوسکتے ہیں۔