مفتی نور ولی محسود، خالد خراسانی اور شاہد عمر کے سروں کی قیمتیں بھی مقرر کر دی گئیں‘ فرقہ واریت پھیلانے والوں کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے
کرم میں زمینی تنازع نہیں، فرقہ واریت اہم مسئلہ ہے‘بیرونی قوتیں پاکستان میں فرقہ واریت کی چنگاری سے آگ لگانا چاہتی ہیں:وزیراعلی خیبرپختونخوا
پشاور(آن لائن‘آئی این پی)خیبرپختونخوا حکومت نے نے کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے چار کمانڈرز کے سروں کی قیمت مقرر کر دی ہے، جن میں کمانڈر کاظم کے سر کی قیمت سب سے زیادہ 10 کروڑ روپے رکھی گئی ہے۔ضلع کرم کے بیگان گاؤں سے تعلق رکھنے والے کمانڈر کاظم کے سر کی قیمت دیگر کمانڈرز، مفتی نور ولی محسود، خالد خراسانی اور شاہد عمر کے مقابلے میں 10 گنا زیادہ مقرر کی گئی ہے۔حکومت نے کاظم کی گرفتاری یا خاتمے کو اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے اس اقدام کو اپنی سخت پالیسی کا حصہ قرار دیا ہے۔حکومتی ذرائع کا کہنا ہے یہ فیصلہ دہشت گردی کے خلاف سخت اقدامات کی عکاسی کرتا ہے، جس کے تحت مطلوب افراد کی سرکوبی کے لیے انعامات کا اعلان کیا گیا ہے۔دریں اثناء وزیراعلی خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کرم میں مطلوب دہشتگردوں کے سر کی قیمت رکھ دی ہے، فرقہ واریت پھیلانے والوں کو آج یا کل ضرور سزا ملے گی اور انہیں اپنے منطقی انجام تک پہنچائیں گے۔ایک تقریب سے خطاب کرتے ہو ئے علی امین گنڈاپور کا کہنا تھا کہ کرم کا مسئلہ 130 سال سے چل رہا ہے، پاکستان بننے سے پہلے اور بعد میں ہمیں اس خطے میں مختلف قسم کی چیزوں میں الجھایا گیا، اندرونی اور بیرونی قوتیں مسائل میں پھنسانے کیلئے کردارادا کرتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ کرم میں زمینی تنازع کا مسئلہ نہیں، فرقہ واریت ایک اہم مسئلہ ہے، بیرونی اور غیر ملکی قوتیں سرمایہ کاری کر رہی ہیں، بیرونی قوتیں پورے پاکستان میں فرقہ واریت کی چنگاری سے آگ لگانا چاہتی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ہم اب ٹھوس اقدامات کی طرف جا چکے ہیں، بارڈر صوبائی حکومت کی ذمہ داری نہیں، ہم بارڈر پر 2 ارب روپے سے کیمرے لگا رہے ہیں، ہم نے بارڈرز پر کام شروع کر دیا ہے، مطلوب دہشتگردوں کے سر کی قیمت بھی ہم نے رکھ دی ہے، فرقہ واریت پھیلانے والوں کو آج یا کل ضرور سزا ملے گی۔علی امین گنڈاپور نے کہا کہ ابھی ایک قافلے پر بھی حملہ ہوا ہے، انسانی جان اور امن سے بڑی کوئی چیز نہیں، کچھ لوگ اس ناسور کا حصہ بنے ہوئے ہیں ان کو جڑ سے اکھاڑنا پڑے گا، فرقہ واریت پھیلانے والوں کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے