انسان خود تک محدود

محمدفاروق سپرا
انسان فطرتاً ایک معاشرتی حیوان ہے، جس کی بقا باہمی میل جول، ہمدردی اور انسانی رشتوں میں پنہاں ہے۔ تاہم، اکیسویں صدی کی برق رفتار سائنسی ترقی اور مشینی زندگی نے جہاں انسان کو بے شمار آسائشیں فراہم کی ہیں، وہاں اسے اپنی اصل روح اور انسانی قدروں سے دور کر دیا ہے۔ آج کا انسان مادی ترقی کی دوڑ میں اس قدر مگن ہے کہ وہ اپنے قریب بیٹھے جیتا جاگتا انسانوں کو بھول کر مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل اسکرینوں کی دنیا میں گم ہو گیا ہے۔
ماضی میں انسان ایک دوسرے کے دکھ سکھ کا ساتھی تھا، لیکن مشینوں کی بہتات نے انسان کو  (Self-centered) بنا دیا ہے۔ پہلے وقتوں میں کڑی دھوپ میں مل کر کام کرنے والے لوگ ایک دوسرے کے پسینے کی خوشبو اور محنت کے احساس سے واقف ہوتے تھے، مگر اب ایئر کنڈیشنڈ کمروں اور خودکار مشینوں نے ہمیں ایک دوسرے کی ضرورت سے آزاد کر دیا ہے۔ اس نام نہاد آزادی نے دراصل ہمیں تنہائی کی اس دلدل میں دھکیل دیا ہے جہاں ہمارے پاس پڑوسی تو دور، اپنے گھر والوں کے لیے بھی وقت نہیں۔
سوشل میڈیا، جس کا مقصد دنیا کو قریب لانا تھا، آج انسان کی تنہائی کا سب سے بڑا سبب بن چکا ہے۔ لوگ سینکڑوں آن لائن "دوستوں" کے باوجود اندر سے اکیلے ہیں۔ ہم دوسروں کی زندگیوں کی ظاہری چمک دمک دیکھ کر احساسِ کمتری کا شکار ہو رہے ہیں اور اپنی اصل خوشیوں کو صرف ایک "لائک" یا "کمنٹ" کی حد تک محدود کر چکے ہیں۔ انسانی لمس، آنکھوں کی چمک اور آواز کے اتار چڑھاؤ سے ملنے والی تسکین کا نعم البدل کبھی بھی ایک ڈیجیٹل ایموجی نہیں ہو سکتا۔
سب سے زیادہ تشویشناک صورتحال ہماری نوجوان نسل کی ہے۔ وہ میدان جہاں کبھی بچوں کے قہقہے گونجتے تھے، اب ویران پڑے ہیں۔ اسپورٹس کلچر کی جگہ ای-اسپورٹس اور ویڈیو گیمز نے لے لی ہے۔ موبائل فون کی اسکرین نے نوجوانوں کی بینائی، جسمانی ساخت اور سب سے بڑھ کر ان کی اخلاقی تربیت کو متاثر کیا ہے۔ جب ایک بچہ گراؤنڈ میں کھیلتا ہے تو وہ صرف کھیل نہیں رہا ہوتا بلکہ وہ ٹیم ورک، برداشت، جیت کا جشن اور ہار کو تسلیم کرنے کا حوصلہ سیکھ رہا ہوتا ہے۔ موبائل فون نے انہیں ان تمام اخلاقی سبقوں سے محروم کر دیا ہے۔

انسان کو دوبارہ انسانیت، صحت مند سوچ اور باہمی قربت کی طرف لانے کے لیے ہمیں چند بنیادی اقدامات کرنے ہوں گے:
ہمیں اپنی زندگی میں اسکرین ٹائم کو محدود کرنا ہوگا۔ ہفتے میں کم از کم ایک دن ایسا ہونا چاہیے جب پورا خاندان موبائل فون سے دور رہ کر ایک دوسرے کے ساتھ وقت گزارے۔
تعلیمی اداروں اور محلوں کی سطح پر کھیلوں کے مقابلوں کو دوبارہ زندہ کرنا ضروری ہے۔ جب نوجوان جسمانی مشقت کریں گے تو ان کی ذہنی صحت میں بہتری آئے گی اور وہ نظم و ضبط سیکھیں گے۔

 نصاب میں ایسی کہانیاں اور سرگرمیاں شامل کی جائیں جو ہمدردی، ایثار اور انسانیت پر مبنی ہوں۔ بچوں کو یہ سکھانا ضروری ہے کہ مشینوں کا استعمال ضرورت کے لیے ہے، زندگی گزارنے کے لیے نہیں۔
خاندان کے بزرگوں کے ساتھ وقت گزارنا اخلاقی قدروں کی منتقلی کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ ان کی حکایات اور تجربات نئی نسل کو زمین سے جوڑے رکھتے ہیں۔
موبائل کی جگہ کتاب کو دی جائے۔ مطالعہ انسان کو گہرائی دیتا ہے اور اسے دوسرے انسانوں کے تجربات سے جوڑتا ہے۔
مشینیں ہماری خادم ہونی چاہئیں، مالک نہیں۔ اگر ہم نے وقت رہتے اپنی ترجیحات درست نہ کیں تو ہم ایک ایسی روبوٹی معاشرت کا حصہ بن جائیں گے جہاں جسم تو ہوں گے مگر روحیں نہیں۔ انسانیت کی بقا اسی میں ہے کہ ہم ٹیکنالوجی کو استعمال ضرور کریں مگر اس کے غلام نہ بنیں۔ ہمیں دوبارہ ان گراؤنڈز کی طرف لوٹنا ہوگا جہاں پسینہ بہتا ہے، ان دسترخوانوں کی طرف جہاں باتیں ہوتی ہیں اور ان دلوں کی طرف جہاں صرف محبت بستی ہے۔ ایک صحت مند سوچ ہی ایک صحت مند معاشرے کی ضامن ہوتی ہے۔