پولیس مقابلے عدالتی نظام پر سوالیہ نشان

کاشف بٹ

رائیونڈ کا واقعہ ہمارے معاشرتی اور عدالتی نظام کی تلخ حقیقتوں کو ایک بار پھر بے نقاب کرتا ہے۔ چند روز قبل رائیونڈ کے علاقے میں صرف 30 روپے کے معمولی جھگڑے پر دو معصوم بھائیوں کو قتل کر دیا گیا۔ یہ خبر ہی کافی تھی کہ معاشرے کی پستی اور انسانی جان کی بے قدری کو سمجھا جا سکے، مگر اس کے بعد جو کچھ ہوا وہ ایک اور سوالیہ نشان چھوڑ گیا۔ کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ نے گزشتہ  روز اس واردات میں ملوث دو ملزمان اویس اور شہزاد کو رائیونڈ ہی کے علاقے میں لے جا کرایک مبینہ پولیس مقابلے میں پار کر دیا اور سارا الزام ان کے ساتھیوں پر لگا دیا ۔یہاں سوال یہ ہے  کیا یہ انصاف تھا؟ یا پھر صرف ایک "شارٹ کٹ" جس نے نظام کی کمزوری پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی؟پولیس مقابلے بظاہر فوری انصاف کا تاثر دیتے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ ہمارے عدالتی نظام پر عدم اعتماد کا کھلا اعلان ہیں۔ اگر واقعی ملزمان مجرم تھے تو انہیں عدالت میں پیش کر کے قانون کے مطابق سزا دی جاتی۔ اس سے ایک مثال قائم ہوتی کہ معاشرے میں انصاف صرف بندوق کی گولی نہیں بلکہ عدالت کے فیصلے سے ملتا ہے۔مگر افسوس! ہمارے ہاں پولیس مقابلے زیادہ تر کہانیاں ہوتے ہیں، سچائی کم اور "کارکردگی دکھانے" کا ڈھونگ زیادہ۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ عوام کو اصل حقیقت کبھی نہیں پتا چلتی۔ نہ ملزمان کے سہولت کار سامنے آتے ہیں، نہ اس پسِ پردہ محرکات۔ صرف ایک خبر آتی ہے کہ "دو ڈاکو پولیس مقابلے میں ہلاک" اور فائل بند۔یہ رویہ انصاف کے ساتھ کھلواڑ ہے۔ اس طرح کے اقدامات وقتی طور پر تسلی ضرور دیتے ہیں مگر معاشرے کے اندر بے یقینی اور خوف کو مزید بڑھا دیتے ہیں۔ کیونکہ اگر ریاست کے ادارے خود ہی منصف بھی ہیں اور جلاد بھی، تو پھر عدالتوں کی ضرورت کیوں باقی رہتی ہے؟ہمیں سوچنا ہوگا کہ اگر معاشرے میں 30 روپے جیسے معمولی مسئلے پر خون بہانے والے جنم لے رہے ہیں تو یہ صرف غربت یا غصے کا نتیجہ نہیں، بلکہ وہ ماحول ہے جس میں تعلیم کی کمی، اخلاقی اقدار کی بربادی، اور انصاف کا فقدان سب سے بڑا کردار ادا کر رہا ہے۔ اور جب ان جرائم کا انجام بھی قانون کے دائرے میں نہیں بلکہ بندوق کے سائے میں ہوتا ہے تو یہ پیغام ملتا ہے کہ یہاں انصاف کمزور ہے اور بندوق طاقتور۔اصل ضرورت اس بات کی ہے کہ پولیس مقابلوں کی بجائے عدالتی نظام کو مضبوط بنایا جائے، تیز رفتار انصاف فراہم کیا جائے، اور مجرموں کو قانون کے مطابق کڑی سزا دی جائے تاکہ معاشرے میں خوف اور انصاف کا توازن قائم ہو سکے۔ ورنہ یہ "مبینہ مقابلے" کل کو مزید سوالات اور نئی ناانصافیاں جنم دیتے رہیں گے۔