بھارت کا آپریشن سندور عالمی قانون کی خلاف ورزی ہے، بھارت نیک نیتی کے ساتھ سندھ طاس معاہدے پر عمل کرے، اقوام متحدہ نے بھارت سے باضابطہ وضاحت طلب کر لی
پاکستان کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے، بھارتی اقدامات پاکستان کی خودمختاری، اور عدم مداخلت کے اصولوں کی سنگین خلاف ورزی ہیں:خصوصی ماہرین کی رپورٹ
نیویارک (آن لائن) اقوام متحدہ کی خصوصی رپورٹ میں کہا گیا ہے بھارت کا آپریشن سندور عالمی قانون کی خلاف ورزی ہے، بھارت نیک نیتی کے ساتھ سندھ طاس معاہدے پر عمل کرے، اقوام متحدہ نے بھارت سے باضابطہ وضاحت طلب کر لی۔ اقوام متحدہ کے ماہرین نے اپنی خصوصی رپورٹ میں بھارت کے یکطرفہ اقدامات پر سخت اعتراضات کئے، پہلگام حملے کی مذمت کی اور ذمہ داروں کو قانون کے مطابق سزا دینے پر زور دیا۔ اقوام متحدہ کے خصوصی ماہرین کی رپورٹ میں کہا گیا کہ پاکستان نے حملے میں ملوث ہونے کی تردید کی اور غیر جانبدار اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا، 7 مئی 2025 کو بھارت نے آپریشن سندورکے تحت پاکستان کی حدود میں طاقت کا استعمال کیا، یہ طرزِ عمل اقوام متحدہ چارٹر کے کے خلاف ہے۔رپورٹ کے مطابق بھارت نے اقوامِ متحدہ چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت سیکورٹی کونسل کو باضابطہ اطلاع نہیں دی، پیشگی اطلاع نا دینا مطلوبہ طریقہ کار کی خلاف ورزی ہے، بھارتی حملوں میں شہری علاقے نشانہ بنے، مساجد متاثر ہوئیں، اور متعدد شہری ہلاک و زخمی ہوئے۔خصوصی ماہرین نے کہا کہ 7 مئی 2025 کو پاکستان نے بھارتی کارروائی کی مذمت کی، پاکستان نے سلامتی کونسل کو مطلع کیا کہ وہ آرٹیکل 51 کے تحت دفاع کا حق رکھتا ہے، بھارت یہ ثابت کرنے کیلئے قابلِ اعتبار شواہد پیش نہیں کر سکا کہ پہلگام حملے میں پاکستان کی ریاستی سطح پر کوئی شمولیت تھی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے رپورٹ کیا کہ دہشت گردی کے نام پر یکطرفہ فوجی طاقت استعمال کرنے کا کوئی الگ حق تسلیم شدہ نہیں، اگر طاقت کا استعمال غیر قانونی ہو تو یہ حقِ زندگی کی خلاف ورزی بن سکتا ہے، بھارت کا یہ طرزِ عمل بڑے تصادم کا خطرہ پیدا کر سکتا ہے۔خصوصی ماہرین نے کہا کہ بھارتی اقدام مسلح حملہ سمجھا جائے تو پاکستان کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے، بھارتی اقدامات پاکستان کی خودمختاری، اور عدم مداخلت کے اصولوں کی سنگین خلاف ورزی ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت نے ثالثی کارروائیوں میں شرکت سے گریز کیا اور سندھ طاس معاہدے کے دائرہ اختیار کو چیلنج کیا، بھارت سے وضاحت، ممکنہ تلافی و معذرت، معاہدے پر نیک نیتی سے عمل، اور انسانی نقصان روکنے کے اقدامات پر باضابطہ جواب طلب کیا گیا ہے۔خصوصی ماہرین نے کہا کہ بھارت سندھ طاس معاہدے پر نیک نیتی سے عمل کرے اور پاکستان کے حقوق کی خلاف ورزی سے باز رہے،