تیز آگ پر پکا گوشت نقصان دہ ہے؟

لندن(نیٹ نیوز) جدید طب یہ تلخ سچائی دریافت کر چکی کہ اگر کوئلوں یا لکڑیوں کی  آگ یا بلند درجہ حرارت پر بھونا گیا گوشت مسلسل کھایا جائے، تو وہ ا انسان جلد یا بدیر کینسر کا شکار ہو جاتا ہے۔ اِسی لیے اب ڈاکٹر مشورہ دَیتے ہیں کہ خاص طور پہ کوئلوں پر سینکا اور بھونا گوشت کم سے کم کھایا جائے۔ نیز ایسے گوشت سے بھی پرہیز کیجیے جسے تیز ا?گ پر پکایا جائے۔سوال یہ ہے کہ کوئلوں یا تیز ا?گ پر گوشت بھوننے سے ا?س میں ایسی کون سی منفی تبدیلی جنم لیتی ہے کہ وہ سرطان پیدا کرنے والے مادے میں ڈھل جاتا ہے؟ یہ جاننے کی خاطر ہمیں قدرتی طور پر پائے جانے والے کیمیائی مادوں نائٹریٹس (Nitrates) اور نائٹرائٹس (Nitrites) کو سمجھنا اور جاننا ہو گا۔درج بالا دونوں کیمیائی مادے نائٹروجن اور آکسیجن گیسوںکے ملاپ سے بنتے ہیں۔ نائٹریٹس، نائٹروجن کے ایک اور آکسیجن کے تین ایٹموں سے وجود میں  آتے ہیں۔۔جب ہم گوشت کو تیز آگ پر پکائیں یا پھر جیسا کہ اس کو کوئلوں میں بھونتے ہیں، تب آس میں نائٹروسامائن پیدا  ہو جاتے ہیں۔ یہ القلی کیمیائی مادہ زہریلے اثرات رکھتا ہے اور اِسی کے باعث انسانوں کی ا?نتوں اور معدے میں کینسر پیدا ہوتا ہے۔کیٹ ایلن امریکا کی ممتاز ماہرِ غذائیات ہیں۔ وہ کہتی ہیں: ’’نائٹریٹس اور نائٹرائٹس بذاتِ خود اِنسانی صحت کے لیے خطرناک کیمیکل نہیں۔ مگر جب آن کی حامل غذاوں کو کوئلوں اور بلند آگ پر بھونا جائے، تو یہ بے ضرر قدرتی کیمیائی مادے خطرناک حیثیت حاصل کر لیتے ہیں۔‘‘ گوشت کوئلے پر بھوننے یا تیز آگ پر پکانے سے آس میں دو اَور خطرناک کیمیائی مادے جنم لیتے ہیں۔ ایک کا نام ہے: ’’پولی سائیکلک ارومیٹک ہائیڈرو کاربن‘‘ (Polycyclic aromatic hydrocarbon) اور دوسرا ’’ہیٹرو سائیکلک امائن‘‘ (Heterocyclic amine) کہلاتا ہے۔ یہ دونوں کیمیائی مادے بھی گوشت کو زہریلا بنا ڈالتے ہیں۔ آس گوشت کو بھی کھا کر انسان میں کینسر پیدا ہو سکتا ہے۔