عارف علوی کیخلاف کوئی مقدمہ درج نہیں کیا،ایف آئی اے

کیا ایف آئی آرز چھپائی جارہیں، مقدمات کی تفصیلات میں وقت کیوں لگ رہا؟ہائیکورٹ
سابق صدر کو نئے مقدمے میں گرفتار نہ کرنے کے حکم امتناع میں آئندہ سماعت تک توسیع 
کراچی (خصوصی رپورٹ)سندھ ہائی کورٹ نے سابق صدر ڈاکٹر عارف علوی کو نئے مقدمے میں گرفتار نہ کرنے کے حکم امتناع میں آئندہ سماعت تک توسیع کردی ہے۔ تفصیلات کے مطابق سندھ ہائی کورٹ کے آئینی بینچ نے سابق صدر عارف علوی کی اپنے خلاف مقدمات کی تفصیلات طلب کرنے سے متعلق درخواست کی سماعت کی۔ وفاقی حکومت کی وکیل نے ایف آئی اے کی جانب سے رپورٹ عدالت میں پیش کی، اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا کہ سابق صدر عارف علوی کے خلاف ایف آئی اے نے کوئی مقدمہ درج نہیں کیا۔ سندھ حکومت کے وکیل نے صوبے میں درج مقدمات کی تفصیل پیش کرنے کے لیے مہلت کی استدعا کی۔ عدالت نے استفسار کیا کہ مقدمات کی تفصیلات حاصل کرنے میں اتنا وقت کیوں لگ رہا ہے؟ سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ مختلف محکموں سے تفصیلات جمع کرنی ہے۔ جسٹس عدنان الکریم میمن نے ریمارکس دیئے کہ کیا ایف آئی آرز چھپائی جارہی ہیں؟ آئی جی سندھ اگر مقدمات کی تفصیلات کے لئے ذمہ دار نہیں تو کون ہے؟ سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ایف آئی آر میانوالی میں درج ہے اور حفاظتی ضمانت یہاں سے حاصل کی گئی ہے، جسٹس عدنان الکریم میمن نے کہا کہ درخواست گزار کو خدشات ہیں کہ یہاں بھی مقدمات درج ہوسکتے ہیں۔ جسٹس کے کے آغا نے کہا کہ ہم نے اسی لئے ریکارڈ منگوایا ہے، عدالت نے صوبے میں درج مقدمات کی تفصیلات فراہم کرنے کے لئے مہلت دیتے ہوئے درخواست کی مزید سماعت 13 جنوری تک ملتوی کردی۔