ایران جنگ: 72 سالہ جنوبی کوریا و امریکی اتحاد خطرے میں؟

ایران جنگ: 72 سالہ جنوبی کوریا و امریکی اتحاد خطرے میں؟

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اچانک جنوبی کوریا کے ساتھ سالانہ مشترکہ فوجی مشقیں محدود کرنے کا اعلان کیا ہے، جس کے بعد سیؤل میں امریکا کی سیکیورٹی ضمانتوں پر نئے خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔

 ٹرمپ کا یہ فیصلہ شمالی کوریا کے لیے جارحانہ پیغام کے طور پر لیا جا رہا ہے اور اس سے قبل جاری تربیتی سرگرمیوں میں کمی کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔ٹرمپ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اعلان کیا کہ پینٹاگون جنوبی کوریا کے ساتھ فوجی مشقیں 11 دن سے کم کر کے 5 دن تک محدود کرے گا، جبکہ کئی میدانی تربیتی سرگرمیاں بھی محدود کی جائیں گی۔ اس اقدام نے 1950-53ء کی جنگ کے بعد سے قائم امریکی- جنوبی کوریائی سیکیورٹی اتحاد پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔جنوبی کوریا کے حکام، خاص طور پر صدر لی جے میونگ، نے اس فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ملکوں کا اتحاد اب بھی ضروری ہے، مگر جنوبی کوریا کو اپنی دفاعی صلاحیتوں کو مزید مضبوط اور خود انحصار بنانا ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ جنوبی کوریا کو اپنی سلامتی کے لیے زیادہ ذمہ داری لینا چاہیے۔سیؤل میں اس فیصلے پر بحث اس لیے اس قدر شدت اختیار کر گئی ہے کیونکہ جنوبی کوریا کے وزیر خارجہ چو ہیون نے بتایا کہ انہیں اس فیصلے سے قبل کوئی اطلاع نہیں دی گئی تھی، اور نہ ہی حکومت اور نہ ہی امریکی حکام کو اس حوالے سے پیشگی آگاہ کیا گیا۔

ایران کے معاملے پر بھی امریکہ اور جنوبی کوریا کے درمیان اختلافات سامنے آئے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے جنوبی کوریا سے ایران کے خلاف تعاون کا مطالبہ کیا ہے، اور کہا ہے کہ یہاں تقریباً 39,000 امریکی فوجی موجود ہیں جو شمالی کوریا سے جنوبی کوریا کے دفاع کے لیے تعینات ہیں، اس لیے ایران کے خلاف فوجی کارروائی میں تعاون نہ کرنا حیران کن ہے۔عرب میڈیا کے مطابق، جنوبی کوریا میں ایران جنگ پر رائے منقسم ہے۔ حالیہ سروے سے معلوم ہوا ہے کہ 38 فیصد افراد امریکا کی حمایت کرتے ہیں، 36 فیصد غیرجانب دار ہیں، اور 16 فیصد امریکا کے مخالف ہیں۔ اپوزیشن رہنما جانگ ڈونگ ہیوک نے صدر لی کی امریکی درخواست مسترد کرنے کو سفارتی ناکامی قرار دیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ اس سے امریکا اور جنوبی کوریا کا اتحاد کمزور ہوسکتا ہے۔

کئی جنوبی کوریائی اخبارات نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ امریکا کے ساتھ تعلقات میں اپنا کردار واضح کرے، خاص طور پر تجارت، سرمایہ کاری اور آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت کے تحفظ کے حوالے سے۔ دیگر اخبارات نے ٹرمپ کے یکطرفہ فیصلے پر تنقید کی ہے، اور کہا ہے کہ اہم سیکیورٹی فیصلوں کا اتحادی ملک کو سماجی رابطے کی ویب سائٹ سے علم ہونا تشویش ناک ہے۔