رہائشی علاقے ملبے کا ڈھیر ، خوراک کی تلاش میں نکلنے والے بھی ہدف بن گئے
حملے غزہ کو ایسے جہنم میں تبدیل کر چکے ، جہاں زندگی کی سانسیں لینا بھی محال ہو گیا
غزہ (آئی این پی) اسرائیل کی تقریبا دو سال سے جاری نسل کش جنگ نے غزہ کو خاکستر کر دیا ہے۔ فضائی حملوں، توپ خانے، ڈرون حملوں اور جان بوجھ کر پیدا کی گئی قحط کی صورتحال نے 62 ہزار سے زائد فلسطینیوں کی جان لے لی ہے۔رہائشی علاقے ملبے کا ڈھیر بن چکے ہیں، خوراک کی تلاش میں نکلنے والے بھی اب ہدف بن رہے ہیں۔ تازہ ترین حملے ایک بار پھر غزہ سٹی کو نشانہ بنا رہے ہیں، جو پہلے ہی تباہ ہو چکا ہے۔اسرائیلی افواج کی مسلسل بمباری، شدید توپ خانے کے حملے، ڈرون حملے اور مکمل محاصرہ غزہ کو ایک ایسے جہنم میں تبدیل کر چکے ہیں جہاں زندگی کی سانسیں لینا بھی محال ہو گیا ہے۔تازہ اعداد و شمار کے مطابق، اب تک 62 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں بڑی تعداد بچوں، خواتین اور عام شہریوں کی ہے۔